پاکستان

امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے قانون کی تجدید ، امیگرنٹ اور اقلیتی کمیونٹیز نے کانگریس کو سفارشات پیش کر دیں

شہر ی آزادیوں کی نمائندہ مختلف اہم تنظیموںکی کولیشن نے کانگریس کو 1965کے ہائر ایجوکیشن ایکٹ کے بارے میں اہم و ٹھوس تجاویز پیش کی ہیں

واضح رہے کہ کانگریس اس ایکٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہی ہے

لیڈر شپ کانفرنس ایجوکیشن فنڈ کی چاردرجن سے زائد تنظیموں کے اشتراک سے کانگریس کو مذکورہ ایکٹ کو اپ ڈیٹ کئے جانے کے سلسلے میں دس اہم سفارشات مرتب ، اپ ڈیٹ قانون میں مساوات اور شہری آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے

نیویارک (محسن ظہیر سے ) شہر ی آزادیوں کی نمائندہ مختلف اہم تنظیموںکی کولیشن نے کانگریس کو 1965کے ہائر ایجوکیشن ایکٹ (ایچ ای پی) کے بارے میں اہم و ٹھوس تجاویز پیش کی ہیں ۔ واضح رہے کہ کانگریس اس ایکٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔
اس قانون کے تحت طلباءکے گرانٹ اور قرضوں کی فراہمی اور شرائط سے لے کر تعلیمی اداروں کی مالی اعانت تک کالج ، یونیورسٹی اور پوسٹ گریجویٹ مسائل کی ایک وسیع صف کو آگاہ کیا جاتا ہے۔مذکورہ قانون کو گیارہ سال پہلےاپ ڈیٹ کیا گیاتھا ۔لیڈر شپ کانفرنس ایجوکیشن فنڈ (ایل سی ای ایف) کے لز کنگ کا ایتھنک میڈیا کے ساتھ کی جانیوالی ٹیلی بریفنگ سے خطاب کے دوران کہنا ہے کہ مذکورہ قانون اپ ڈیٹ کئے جانے کے متقاضی ہے ۔
لیڈر شپ کانفرنس ایجوکیشن فنڈ (ایل سی ای ایف) کی جانب سے چاردرجن سے زائد تنظیموں کے اشتراک سے کانگریس کو مذکورہ ایکٹ کو اپ ڈیٹ کئے جانے کے سلسلے میں دس اہم سفارشات مرتب کی گئی ہیں تاکہ اپ ڈیٹ قانون میں مساوات اور شہری آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔
کانگریس کےلئے مرتب کردہ مذکورہ سفارشات جنہیں ” اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں شہری آزادیوں کے اصول“ کا عنوان دیا گیا ہے ، میں ان چیلنجوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو سٹوڈنٹس آف کلرز (ایسے سٹوڈنٹس کہ جو سفید فام نہیں بلکہ مختلف رنگ و نسل سے ہیں ) ، کہ جن سے وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے سلسلے میں نبرد آزما ہوتے ہیں ۔

https://tinyurl.com/LCEF7-19

نیشنل ایسوسی ایشن فارایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپلز (این اے اے سی پی ) کی نکول ڈولے کا کہنا ہے کہ اقلیتی کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے سٹوڈنٹس کو اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں غیر روایتی چیلنجز اور بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کانفرنس سے ایڈ رائین ایلیٹ (نیشنل انڈین ایجوکیشن ایسوسی ایشن )، سٹیفنی رومان (یونی ڈوس یو ایس UnidosUS)اور کوئینز ڈنھ (ساو¿تھ ایسٹ ایشیاءریسورس ایکشن سنٹر) نے بھی خطاب کیا اور اعلیٰ تعلیم اور کانگریس میں کی جانیوالی مذکورہ اپ ڈیٹ کے بارے میں اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کیا ۔
مذکورہ کولیشن کی جانب سے مرتب کردہ سفارشات میں کانگریس پر زور دیا گیا کہ شہری آزادیوں کے قوانین کی عملداری کہ جس کے تحت ایسے سٹوڈنٹس کہ جنہیں رنگ و نسل ، بیرو ن ممالک میں پیدائش ، حمل ، جنسی اورئینٹیشن اور عمر سمیت دیگر عوامل کے حوالے سے امتیازی سلوک کا سامنا ہے، کے مسائل کے حل کو اپ ڈیٹ کئے جانے والے ایکٹ میں یقینی بنائے ۔
دوسرا بڑا مسلہ منافع بخش ادارے اور قرض دینے والے ادارے ہیں جو کہ سٹوڈنٹس کی پڑھائی کی اہلیت کو ان سکول میں ان کی تعلیم کے دوران محدود کرکے رکھ دیتے ہیں اور گریجویشن کے موقع پر ان کی معاشی بہبود پر بھی اثرات مرتب کرتے ہیں ۔
رومن کا کہنا تھا کہ مذکورہ مشکلات کو اپ ڈیٹ کئے جانے والے مذکورہ قانون میں دور کیا جانا چاہئیے ۔انہوں نے مزید کہا کہ لاطینو کمیونٹی میں مانا جاتا ہے کہ کسی بھی شخص کےلئے اچھے روزگار کے حصول اور سماجی طور پر متحرک رہنے کےلئے اعلیٰ تعلیم کا حصول ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں 25فیصد لاطینو سٹوڈنٹس ہیں لیکن ان کےلئے اعلیٰ تعلیم کی تکمیل ایک مسلہ ہے بالخصو ص اگر سٹوڈنٹ قرض لے لیکن گریجویٹ نہ ہو سکے ۔لاطینو سٹوڈنٹس کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کا تیسرا حصہ گریجویٹ نہیں ہوتا ۔
رومن نے مزید بتایا کہ لاطینوکالج کے تین چوتھائی طلباءکالج میں تعلیم حاصل کرنے والے اپنے اہل خانہ میں پہلے ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم کےلئے قرض لئے جن کے ان کی کامیابی سے گہرا تعلق ہے ۔اگر وہ کامیاب نہیں ہوتے تو مذکورہ قرضوں کے ان کی زندگی پر گھمبیر اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
ایڈرین ایلیٹ نے اس راستے کو بیان کہ جس پر چلتے ہوئے ایک آبائی امریکی (Native American)کو کالج کی تعلیم تک پہنچنا پڑتا ہے ۔ ان کہنا تھا کہ اس دشوار راستے میں مذکورہ سٹوڈنٹس کو ابتدائی اور ہائی اسکول کی تعلیم کے دوران جہاں نسل پرستی ، خرافات اور ان کی ثقافتوں کے بارے میں دقیانوسی تصورات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، وہاں انہیں اعلی تعلیم کےلئے وسائل ، یہاں تک کہ درخواست دینے جیسی آسان باتوں کی عدم موجودگی جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
ایلیٹ کا کہنا تھا کہ مذکورہ نوعیت کے سٹوڈنٹس کےلئے ، اعلیٰ تعلیم کے مسائل اسی وقت شروع ہو جاتے ہیں کہ جب وہ ہائی سکول سینئر ہوتے ہیں اور یہ مسائل اس وقت بھی جاری رہتے ہیں کہ جب وہ اپنی جوانی (adulthood)کے دور سے گذر رہے ہوتے ہیں حتیٰ کہ اپنے بچوں کی پرورز کررہے ہوتے ہیںاور اپنے بل ادا کررہے ہوتے ہیں ۔
میکسیکو سے تعلق رکھنے والے مکسٹیکس اور زپوٹیکس جیسے دیسی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبائ کے حالات کے بارے میں پوچھے جانے پر ، ایلیوٹ نے اتحادیوں کی تعلیم پر مجموعی اعداد و شمار کو الگ کرنے کی سفارش پر زور دیا ، تاکہ آبادی کے مختلف طبقات کے حالات کو بہتر طور پر ممتاز کیا جاسکے۔
کوئن ڈنہ نے بھی اعداد و شمار کو الگ کرنے کی فوری ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ جب عام طور پر ایشیائی امریکی طلبا کے لئے نسبتا اچھے نمبرز کی تعداد کو استعمال کیا جاتا ہے تو ، ملک میں بسنے والی رفیوجی کمیونٹی کے کمبودیا ، لاو¿س اور ویتنام سے تعلق رکھنے والے افراد ، جو کئی دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہیں ، کو درپیش سنگین چیلنجوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ڈنہ نے نوٹ کیا کہ ان طلباءکےلئے عدم مساوات کو دور کرنے جیسے اہم مسلہ کو حل کرناہوگا ۔
کولیشن کی کانگریس کے لئے مرتب کردہ دیگر سفارشات میں تاریخی طور پر سیاہ فام یونیورسٹیوں یا HBUs اور دیگر اداروں کے لئے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانا شامل ہے جو کم آبادی ، بہتر اساتذہ کی تربیت اور گریجویشن کی شرحوں کو بہتر بنانے پر تجدید زور دیتے ہیں۔
اتحادیوں کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیاہ فام طلبا کے لئے ، ہائی اسکول سے گریجویشن کی شرحوں میں بہتری آنے کے ساتھ ہی کالج میں داخلہ کم ہورہا ہے۔

اگرچہ اس اتحاد کی توجہ اعلی تعلیم پر مرکوز ہے ، لیکن مقررین نے زیادہ ثقافتی صلاحیت رکھنے والے وسائل کی وسیع ضرورتوں کا بھی حوالہ دیا ، جیسا کہ امریکی، کے 12نظام میں انگریزی زبان سیکھنے والے پانچ ملین افراد یا ”ریزرویشن“ میں انٹر نیٹ تک رسائی میں کمی ہے ۔
مذکورہ سفارشات کی مخالفت کے بارے ایک سوال کے جواب میں لز کنگ نے صدر ٹرمپ اور سکریٹری برائے تعلیم بیٹسی ڈیووس کا حوالہ دیا کہ وہ طلباءکے استحصال کے مواقع پیدا کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نارتھ کیرولائنا ریپبلکن کانگریس وومین ورجینیا فاکس ، سابق چیئر اور موجودہ ایوان تعلیم اور لیبر کمیٹی کے رینکنگ ممبر کے اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا ۔

ہم نے تارکین وطن کے حقوق اور زبان اقلیتوں کے حقوق کی مخالفت دیکھی ہے۔ ہم نے ”ایل جی بی ٹی کیو “ لوگوں اور معذور افراد کی مخالفت دیکھی ہے۔ ہم نے ملک میں سیاہ فام لوگوں ، دوسرے رنگ و نسل کے لوگ (People of Color) اور مقامی لوگوں کی کامیابی کی مخالفت دیکھی ہے۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم سب اکٹھے ہوجائیں تو ہم اعلی تعلیم کی پالیسی کو آگے بڑھا سکیں گے جو مساوات اور مساوی مواقع کو یقینی بنائے گی۔

Related Articles

Back to top button