فلسطین اور کشمیر کے مسلہ پر اقوام متحدہ کی ساکھ داو پر لگی ہوئی ہے ، اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب

 

نیویارک (محسن ظہیر) پاکستان کا کہنا ہے کہ اگر اقوام متحدہ نے فلسطین اور کشمیر کے مسلہ پر سلامتی کونسل کی اپنی ہی قرار دادوں پر عملدرامد کو یقینی نہ بنایا تو دنیا بھر کے لوگوں کا اس عالمی ادارے اعتماد ختم ہو جائیگا ۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھے اور اپنی منظور کردہ قرار دادوں پر عملدرامد کو یقینی بنائے ۔انہوں نے پاکستان فسلطین اور کشمیر میں غاصب قوتوں کے تسلط کے خلاف فسلطین اور کشمیر کے عوام کی اپنی مسلسل حمایت کے سلسلے میں پرعزم رہیگا۔ انہوں نے کہا کہ پچیدہ اور بڑھتے ہوئے چیلنج عالمی امن اور سلامتی کے لئے مسلہ ہیں ۔

ملیحہ لودھی نے مزید کہا کہ تنازعات شدت اختیار کررہے ہیں اور نئے خطرات جنم لے رہے ہیں جبکہ دنیا کی توجہ کا رخ الٹی طرف ہے ۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مستقل مندوب نے کہا کہ دوریاستوں کے قیام کے مسلہ کا حل بھی خطرہ میں ہے ۔ فلسطینی عوام کی مشکل ترین صورتحال تنگ نظر اور بے بصیرت مفادات کا شکار ہو رہی ہے ۔ خطے میں امن اور استحکام کا تلاش اپنے قیام سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ قابض قوتوں کے پاس کو ئی کیس نہیں بلکہ وہ حقائق کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کے ان مقررین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ جنہوں نے فلسطینی عوام کی ٹریجیڈی کے مسلہ پر ہونیوالی بحث پر توجہ دوسری جانب موڑنے کی کوشش کی ۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کےلئے اقوام ریلیف ورکس ایجنسی کے کردار کو فلسطینی عوام کے لئے لائف لائین قرار دیا اور اس ادارے کے کردار پر عائد ہونیوالی پابندیوں کو نہایت تشناک قرار دیا ۔

ملیحہ لودھی نے کہا کہ عالمی برادری کو اقوام ریلیف ورکس ایجنسی کی فنڈنگ کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے اسرائیل میں اپنے سفارتخانوں کو یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ مشرق وسطی میں سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں جلتی پر تیلی کا کام کرے گا۔انہوں نے کہا کہ یروشلم کی قانونی حیثیت کا معاملہ غیر مبہم ہے ۔ اس مسلہ پر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور جنرل اسمبلی میں منظور ہونیوالی قرار دادوں کے بعد مذکورہ ممالک کا اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلہ کو کالعدم تصور کریں ۔

 

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرا داد 478متقاضی ہے کہ جن ممالک نے اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کئے ہیں ، وہ مقدس شہر میں اپنے سفارتخانوں کے قیام کے فیصلوں سے دستبردار ہوں ۔ اس صورتحال سے برعکس جو کوئی بھی فیصلہ کرے گا، وہ قرار دادسے انحراف کرے گا۔

ملیحہ لودھی نے پندرہ رکنی سلامتی کونسل سے کہا کہ مشرق وسطی میں امن کے قیام کے لئے انصاف کا قیام لازم ہے ۔
یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستان کی مستقل مندوب نے کہا کہ یمن کے عوام کی مشکلات کے خاتمے اور مسائل کے حل کےلئے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے مسلہ کے حل کے لئے سفارتکاری کے کردار میں اضافہ ہونا چاہئیے اور درون خانہ سیاسی عمل کا آغاز ہونا چاہئیے

 

شام کے مسلہ پر بات کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ تمام فریقین اور نمائندوں کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی طرف بڑھنا ہوگااور یہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے ۔

تاریخ اشاعت : 2018-01-25 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock