قیامت تک آنیوالا مسلمان مولا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقروض رہیگا؛قیامت تک مسلمان تک جو دین اسلام پہنچے کا ، اس کا وسیلہ امام عالی مقام ہیں ؛ مفتی اقبال چشتی کا نیویارک میں شہادت کانفرنس سے خطاب

 
سید الشہداء، راکب دوش مصطفی ، نور چشم فاطمة الزہرا ، جگر گوشہ مولا علی المرتضیٰ امام عالی مقام فاتح کربلا امام عالی مقام حضور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر شہداءکربلا کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے اس سال بھی سالانہ شہادت کانفرنس منعقد ہوئی
 کانفرنس سے خطاب کے دوران علماءکرام نے کہا کہ امام عالی مقام حضور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر شہداءکربلا کی بے مثال قربانی کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قیامت تک آنیوالا مسلمان امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا مقروض ہوگا کیونکہ قیامت تک اسے اسلام امام عالی مقام کے وسیلہ تک پہنچے گا
صدر انجمن غوثیہ نیویارک سید صفدر حسین شاہ اور امام و خطیب مکی مسجد حافظ محمد صابر کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی چھٹی سالانہ شہادت کانفرنس میں پاکستان سے امیر جماعت اہل سنت پنجا ب علامہ مفتی اقبال چشتی جبکہ لندن سے علامہ پروفیسر سید احمد حسین شاہ ترمذی نے خصوصی شرکت کی
 کانفرنس میں نیویارک ٹرائی سٹیٹ ایریا سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماءکرام علامہ بشارت شاذی ، مولانا ڈاکٹر غفران علی صدیقی ، علامہ شہباز احمد چشتی ، قاری غلام رسول قادری، مولانا حافظ محمد یٰسین رضوی، مولانا بشیر سیالوی، قاری سیف النبی قادری، حافظ عبدالقدیر، میاں غلام حیدر، صوفی مشتاق احمد سمیت اہم علماءکرام جبکہ محمد اصغر چشتی، سجاد بٹ ، چوہدری مختار احمد ، خالد انصاری ، محمد طفیل اور حافظ اللہ رکھاسمیت ثناءخوان و منقبت خواں نے بھی امام عالی مقام ؓ سمیت شہداءکربلا کو منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔
 امام عالی مقام پوری امت اسلام کے محسن ہیں ¾ امام عالی مقام نے یزید سے ٹکر لیکر اور اپنے کنبے کی قربانی دے کر بتا دیاکہ رسول اللہ ﷺسے محبت کا حق یہ ہے کہ دین کو جو بھی اور جب بھی قربانی کی ضرورت پیش آئے وہ قربانی پیش کر دی جائے

نیویارک (محسن ظہیر سے ) سید الشہداء، راکب دوش مصطفی ، نور چشم فاطمة الزہرا ، جگر گوشہ مولا علی المرتضیٰ امام عالی مقام فاتح کربلا امام عالی مقام حضور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر شہداءکربلا کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے بروکلین ، نیویارک میں حسب روایت اس سال بھی دس محرم کو چھٹی سالانہ شہادت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مکی مسجد میں منعقد ہونےو الی اس کانفرنس سے خطاب کے دوران پاکستان سمیت نارتھ امریکہ سے آئے ممتاز علماءکرام نے کہا کہ امام عالی مقام حضور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر شہداءکربلا کی بے مثال قربانی کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قیامت تک آنیوالا مسلمان امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا مقروض ہوگا کیونکہ قیامت تک اسے اسلام امام عالی مقام کے وسیلہ تک پہنچے گا۔
صدر انجمن غوثیہ نیویارک سید صفدر حسین شاہ اور امام و خطیب مکی مسجد حافظ محمد صابر کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی چھٹی سالانہ شہادت کانفرنس میں پاکستان سے امیر جماعت اہل سنت پنجا ب علامہ مفتی اقبال چشتی جبکہ لندن سے علامہ پروفیسر سید احمد حسین شاہ ترمذی نے خصوصی شرکت کی ۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض طیبہ اسلامک سنٹر کے امام قاری محمد یونس قادری نے ادا کئے جبکہ کانفرنس کے انتظام و اہتمام میں قاری محمد یونس قادری ، چوہدری محمد پرویز اشرف، مہر محمد شفیق کڑیانوالہ، باو¿ یوسف قمر، مہر سلیم اختر، سائیں محمد الیاس ،مہر سلیم،مہر شاہد رشید، تصدق چیمہ (نشیمن ریسٹورنٹ)،بابر قمر، عادل چوہدری اور ان کے ساتھیوں نے اہم کردار ادا کیا ۔ کانفرنس میں نیویارک ٹرائی سٹیٹ ایریا سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماءکرام علامہ بشارت شاذی ، مولانا ڈاکٹر غفران علی صدیقی ، علامہ شہباز احمد چشتی ، قاری غلام رسول قادری، مولانا حافظ محمد یٰسین رضوی، مولانا بشیر رضوی، قاری سیف النبی قادری، حافظ عبدالقدیر،چوہدری سلطان احمد، میاں غلام حیدر، صوفی مشتاق احمد سمیت اہم علماءکرام جبکہ محمد اصغر چشتی، سجاد بٹ ، چوہدری مختار احمد ، خالد انصاری ، محمد طفیل اور حافظ اللہ رکھاسمیت ثناءخوان و منقبت خواں نے بھی امام عالی مقام ؓ سمیت شہداءکربلا کو منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔
 مفتی اقبال چشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس کے دل میں اہل بیت کا بغض ہے وہ جہنم کا ایندھن ہے اور جس کا دل اہل بیت کی محبت سے سرشار ہے وہ جنتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سید، اسے کہتے ہیں کہ جس کے پاس لوگ پریشانیاں اور مشکلات لے کر آئیں اور وہ مشکلات کوحل کرے۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ میری ذات سے امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓ تک سب مشکل کشا ہیں۔ یہ دنیا اور آخرت کے سردارہیں۔
مفتی اقبال چشتی نے کہا کہ اگر ہم دنیا اورآخرت میںمشکلات سے نجات چاہتے ہیں اور پنج تن کے گھر کے گدا بننا ہوگا۔ امام حسن ؓفرماتے ہیںکہ اہل بیت ؓکی محبت میں جینے اور مرنے والا سیدھاجنت میں جائے گا۔مفتی اقبال چشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمل کورنگ ہی تب لگتا ہے کہ جب دل میں اہل بیت کا پیار اور عقیدت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولا علی ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ پل صراط سے ثابت قدمی سے وہ گزرے گا کہ جس کے دل میں اہل بیت ؓکی محبت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم مولا علی ؓ کو مولا علی ؓ کی ذات کو سامنے رکھ کر مانتے ہیں۔ مولانا علی ؓ کواہل سنت سے زیادہ کوئی پیار ہیں کرتا۔
 مفتی اقبال چشتی نے کہا کہ وہکہجس کی ایک نماز کے لئے سورج کولوٹادیاگیا،اس کی کتنی نمازوں کے امام حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ تھے۔وہ ہستی پاک کہ جس کے چند سجدوں کے لئے سورج کو کہا گیا کہ سورج پلٹ آاور جس کی ایک نماز اتنی اونچی ہے، اس کی سالوں کی نمازیں کتنی اونچی ہوں گی اور ان کی نمازوں کے امام حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں۔
 مفتی اقبال چشتی نے کہا کہ حضرت امام حسن ؓ کی ولادت ہوئی اورسرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیﷺ کو پتہ چلاکہ امام حسن ؓ پیدا ہوئے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنی فاطمہ ؓ پہ قربان ہو جاﺅں۔ یہ عظمت اور مقام حضرت سیدہ فاطمتہ الزہراءؓ کاہے۔انہوں نے کہا کہ نبی سے جس کا تعلق ہو گا کہ وہ صحابہ کا بھی وفادار ہوگا اور اہل بیت ؓ کا بھی وفادار ہوگا۔ اہل بیت اور صحابہ کی محبت دین کی بنیاد ہے۔انہوںنے کہا کہ سنی کہتے ہیں اسے ہیں کہ جو توہین نہیں بلکہ تعظیم کرتا ہے۔
مفتی اقبال چشتی نے حضور اکرم حضرت محمد مصطفیﷺ کے چچا حضرت امیر حمزہ ؓ کی شہادت کا واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ حضرت سیدنا امیر حمزہ ؓ کو بے دردی سے شہید کیاگیا،ان کا کلیجہ باہر نکالا گیا، اسے چبایا گیا لیکن احد کے میدان سے حضرت سیدنا امیر حمزہ ؓ کا چبایا ہوئے کلیجے نے بھی پیغام دیا کہ اس کلیجے کو چبایا جا سکتا ہے لیکن اس سے محمد عربی ﷺ کا نام اور محبت نکالی نہیں جا سکتی ۔ سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جب کٹے ہوئے چچا کو دیکھا تو ر وپڑے ،یہاں سے یہ اندازہ لگائیں کہ سرکار دوعالم کی چچا کے لاشے کو دیکھ کر یہ حالت ہو گئی تو اس وقت کیا حالت ہو گی کہ جب میدان کربلا میں نواسے کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہوگا۔
مفتی اقبال چشتی نے کہا کہ حضرت سیدنا امیر حمزہ ؓ کا جنازہ پڑا گیا تو آپ ﷺ مدینہ تشریف لے گئے۔ صحابہ کرام کے گھر والیوں کو جب انہیں ان کے شہید ہونے والے عزیزوں کی یاد میں روتے سنا تو پوچھا کہ کون رو رہا ہے؟آپ کو بتایا گیا کہ شہداءکے گھر والیاں رو رہی ہیں تو آپﷺ نے کہا کہ کوئی میرے چچا (جناب حضرت امیر حمزہ )ؓ کے لئے بھی رونے والا ہے ۔جب آپ ﷺ کو انصار کے عورتوں کے رونے کی حضرت سیدنا امیر حمزہؓ کے گھر سے رونے کی آواز آئی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تم سے بھی خوش ہے اور تمہاری نسلوں کیلئے بھی خوش ہے۔مفتی اقبال چشتی نے کہا کہ یہاں یہ نکتہ نوٹ کرلیں کہ اگرسیدنا امیر حمزہؓ کے لئے آنسو بہائے جائے تو نبی اکرم ﷺ نسلوں کیلئے دعا دیتے ہیںاور ذرا سوچیں کہ اگر کوئی ان کے حضرت سیدنا امام حسین ؓ کے لئے آنسوبہائے گا تو نبی پاک ﷺ کی بارگاہ اقدس سے اسے کیا کیا ملے گا۔
 مفتی اقبال چشتی نے واقعہ کربلا بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام عالی مقام ؓنے آٹھ ذی الحج کو مکہ مکرمہ چھوڑا۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے روکا ¾ دوسری مرتبہ اور تیسری مرتبہ روکا۔ حضرت امام حسین ؓ نے فرمایا کہ میں اس لئے جاﺅں گا کہ میرے ناناﷺ نے خواب میںآ کر حکم دیا ہے او میں نے حکم پورا کرنا ہے۔میدان کربلا میں یکم سے نو محرم ہو گئی ۔کربلا میںنومحرم کو امام حسین ﷺکے ہاتھوں میں قرآن ¾ آنکھوں میں آنسو ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہیں۔دس محرم کی رات کو بھائی عباس ؓسے کہا کہ ان کو کہو ایک رات دے دیں۔ خدا کی بارگاہ میں مزید سجدے کر لیں۔ قرآن کی مزید تلاوت کر لیں۔
 شیر خدا حضرت مولا علی ؓ نے کہا کہ حسنؓ¾حسین میرے بعد تم سے زیادہ کوئی قرآن پڑھنے والا ہو اور نہ عمل کرنے والا ہو۔ کربلا میں امام حسین ؓ ساری شہادتیں دیکھتے رہے او لاشے بھی اٹھاتے رہے۔ لیکن امام عالی مقام کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ وہ کانپے نہیں۔ زمانے والو امام حسین ؓ کا حوصلہ دیکھو پورا خاندان قربان کر دیا لیکن ایک لمحہ         کے لئے ہاتھ نہیں کانپے۔
 نے سارا کنبہ کٹا کر امام حسین نے سر پر نبی پاک ﷺ کی دستار رکھی۔ ہاتھ میں علی المرتضیؓ کی تلوار تھامی اور کمر پہ سیدہ زہراءپاک ؓ کا دوپٹہ باندھا اور بڑی شان سے مقتل کی جانب روانہ ہوئے اور مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کوفہ والے پہچانو میں کون ہوں۔
مگتی اقبال چشتی نے کہا کہ یہاں ایک نکتہ قابل غور ہے کہ اما م حسین ؓکے فضائل اگر امام حسین ؓ خود بھی بیان کریں لیکن اگر مزاج یذیدی ہوتو طبیعت مائل نہیں ہوتی۔لہذا جب میدان کربلا میں نواسہ رسول ؓ امام عالی مقام نے اپنا تعارف کرویا تو یزدیوںکے سر پر جوں تک نہ رینگی ،انہوں نے نواسہ رسولؓ پر تیروں کی بوچھاڑ کردی۔ امام زخمی ہوگئے۔ خون سے لت پت ہوئے امام حسین ؓ سجدہ ریز ہوگئے۔زمانے کو بتا دیا کہ سجدے کی عظمت پوچھنی ہے تو کربلا کے سر سے پوچھو۔
مفتی اقبال چشتی نے کہا کہ کربلا کہ بعداصل امتحان سیدہ زبنت ؓ کا تھا۔ ان کے صبر کو سلام پیش کرتے ہیں۔ کربلا کے بعدحضرت ام سلمیٰ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو حضور پاکﷺ کی خواب میں زیارت کروائی۔حضرت ام سلمی ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کے چہرے پہ غبارتھا۔ جب عبداللہ ابن عباس نے زیارت کی تو آپ ﷺ کے ہاتھ میںسیشی تھی اورفرمایا کہ کربلا میں خون جمع کرتا رہا ہوں۔
 مصطفی نے اپنے دکھ کا اظہار اپنوں سے کر کے بتایا کہ جو اپنے ہوں گے انہی کو دکھ کا احساس ہوگا۔حضرت سیدہ زینت ؓ نے کربلا کہ میدان سے محمد عربی ﷺ کو پکارا اور کہا کہ یارسول اللہ ؓیہ آپ کی اولاد ہے جو کربلا میں کٹی پڑی ہے۔حضرت امام زین العابدین ؓپکار کر کہتے ہیں اے محمد عربی ﷺ اب زین العابدین کا کوئی نہیں رہا۔ پورے اس قافلہ اہل بیت کا ذمہ مجھ پہ آن پڑا ہے۔ کربلا کی دھرتی سے بی بی زینب ؓاور زبن العابدین ؓکی صدائیں سن کر نبی کریم ﷺ پہ کیا گزری ہوگی۔مفتی اقبال چشتی نے کہا کہ کربلا کی خاک بھی امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓکی پیشانی پہ چمکنے والے نور کو دبا نہ سکی۔
امامحسین کے سر کو کوفہ سے یزید کے پاس بھیجاگیا۔ یہ کام کلمہ پڑھنے تھے۔
 لندن سے علامہ پروفیسر سید احمد حسین شاہ ترمذی نے شہادت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام عالی مقامؓ کی شہادت کو جس کثرت سے یاد کیاجاتا ہے۔ اس کی کائنات میں کوئی اور مثال نہیں ملتی۔ اس کی انفرادیت کو دیکھیں۔ جتنی شہادتیں ہوئیں اس کا تذکرہ اس کے بعد کیا تھا۔ امام عالی مقام سیدنا حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا ذکر شہادت سے پہلے اللہ کے نبی کریم ﷺ نے کیا۔ جو چند آنسو آل نبی کی یاد میں بہا دیتا ہے اللہ کریم اس کو جنت عطاءفرما دیتے ہیں۔ حضرت سیدنا ابراہیم ؑ نے اپنے صاحبزادے کی جو قربانی پیش کی تھی اس کا متبادل ایک دنبہ تھا۔وہ قربانی اتنی عظیم تھی کہ اسے ہم صدیوں سے مناتے ہیں اور قیامت تک مناتے رہیں گے ۔ اب خود اندازہ لگائیں کہ وہ قربانی کہ جس میں نبی زادے ، نواسہ رسول امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین ؓنے اپنے کنبے سمیت جانوں کا نذرانہ دین محمدی کےلے پیش کر دیا ، وہ قربانی کتنی عظیم، بے مثال اور لازوال ہو گی ۔ ہم اس قربانی کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ قربانی دینے والا کون ہے اور اس کی شان پاک کیاہے۔؟حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں حسین ؓ سے ہوں اور حسین ؓ مجھ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضوراکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کو سب انبیاءکرام سے زیادہ کرامات جمال و کمال اور معجزات عطاءفرمائے۔ دونوں شہزادوں حضرت سیدنا امام حسین ؓ اور حضرت امام حسنؓ کو اکٹھا کھڑے کر دو تو صورت مصطفی ﷺ نظر آتی تھی۔ دونوں شہزادوں کی شہادت سے مل کر فضائل رسول ﷺ میں شامل ہوگئی۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ۔۔
 تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
 توں ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا
 علامہ پروفیسر سید احمد حسین شاہ ترمذی نے کہا کہ نبی پاک ﷺ نے شزادوں کی تربیت خود کی۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا امام عالی مقام کے قدم میدان کربلا میں ایک لمحے کے لئے بھی نہیںڈگمگائے ۔امام عالی مقام ؓ نے سب کچھ قربان کر دیا لیکن دین کا سودا نہیں کیا۔ حس نے آل محمد ﷺ سے نسبت عقیدت اور محبت قائم کر لی اس نے دین و نیا سنوار لی۔ امام عالی مقام میدان کربلا میں جانے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیںکہ۔۔اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ لوگو جب تم میں سے کوئی جابرحکمران کودیکھے اور جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرو اور جو رسول اللہﷺ کی سنت کی خلاف ورزی کرنیوالے ہو۔ اس شخص کی اگر کوئی مخالفت نہ کرے ، خاموش رہے تو اللہ کاحق بن جاتا ہے کہ اس جابر مردودحکمران کے ساتھ چپ رہنے والوں کو بھی جہنم میں ڈالے۔بعض خارجی کہتے ہیں کہ امام کو بیعت سے انکار کیوں تھا۔ ہم پوچھتے ہیں کہ یذید کواسرار کیوں تھا۔ یذید جانتا تھا کہ اگر حسین ؓ نہیں مانے تو میری حکومت کبھی لیگل نہیں ہو سکتی۔
 علامہ پروفیسر سید احمد حسین شاہ ترمذی نے کہا کہ امام حسین ؓکی شہادت کوآج 1373 برس ہو گئے ہیں، 1373 سال پہلے امام عالی مقام ؓ یزید کے مقابلے میں فتح یاب ہوئے۔کربلا میں لڑائی یہ تھی کہ یذید کہتا تھا کہ امام حسین ؓ انہیں مان لیںجس میں یزید کامیا ب نہ ہوسکا،لہٰذا فتح ظاہر اور باطنی دونوںطور پرامام حسین ؓکی ہوئی ۔ کوفہ کے بازار سے جب قافلہ گزرا تو حضرت امام زین العابدین ؓسے ایک شخص نے پوچھا کہ کربلا میں کس کی فتح ہوئی تو آپ ؓ نے فرمایا کہ فتح اس کی ہوئی کہ جس کی اذانیں مساجد میں گونجتی ہیں۔
شہادت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد صابر،علامہ بشارت شاذی، قاری غلام رسول قادری ، قاری یونس قادری سمیت علماءکرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام عالی مقام پوری امت اسلام کے محسن ہیں ¾ امام عالی مقام نے یزید سے ٹکر لیکر اور اپنے کنبے کی قربانی دے کر بتا دیاکہ رسول اللہ ﷺسے محبت کا حق یہ ہے کہ دین کو جو بھی اور جب بھی قربانی کی ضرورت پیش آئے وہ قربانی پیش کر دی جائے۔ امام حسین ؓ جس امتحان سے گزرے ، اس سے کوئی نہ گزرا ¾ سیدہ پاک ؓ کے جگر گوشہ جس امتحان سے بھی گزرے اس میں سرخرو ہوئے۔ کوئی سجدہ کرنے والا ایسا بھی ساجد ہوگا کہ جس کے سجدے کی عبادت کی مثال نہیں دی جاسکتی۔امام حسینؓ کا ذکر پاک کر کے جو رسول ﷺ کو راضی کرے گا قیامت کے دن وہ حضور پاکﷺ کی شفاعت پائے گا۔علماءکرام نے کہا کہ ہمیں اپنی موجودہ اور آنیوالی نسلوں کو اہل بیت کے مقام اور دین و دنیا میں ان کی ہمارے لئے اہمیت سے آگاہ کرناہوگا۔
کانفرنس کے آخر میں مفتی اقبال چشتی نے خصوصی دعا کروائی اور سلام پڑھا گیا۔
شہادت کانفرنس کے منتظمین قاری محمد یونس قادری ، باو¿ یوسف قمر، چوہدری پرویز اشرف ، مہر شفیق ، سائیں محمد الیاس ، مہر سلیم،مہر شاہد رشید، بابر قمر، عادل چوہدری سمیت علماءکرام ، کانفرنس کے شرکاءاور کمیونٹی کا شکرئیہ ادا کیا کہ جنہوں نے کانفرنس میں شرکت کرکے اسے کامیاب بنایا ۔اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول فرمائے (آمین)

تاریخ اشاعت : 2012-10-13 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock