مذہب زندگی کے بعد ایک نئی زندگی کے شروع ہونے کی منادی کرنے کےلئے آیا ہے،جاوید احمد غامدی کا جان جے یونیورسٹی میں خطاب

 

نیویارک (خصوصی رپورٹ) المود یو ایس اے کے زیراہتمام ممتاز مذہبی سکالر جاوید احمد غامدی کےساتھ ایک مذاکرے کا انعقاد ہوا، یہ مذاکرہ سینٹ جانز یونیورسٹی (کوئینز) میں منعقد ہوا۔ جاوید احمد غامدی کےساتھ گفتگو کی اور اس دن ان سے مختلف ایشوز پر بات چیت کی۔ جاوید غامدی نے عصری تقاضوں کے مطابق قرآن پاک کی روشنی میں جواب دئیے۔

 

اس انٹرایکٹو مذاکرے میں شرکاءکی بڑی تعداد موجود تھی۔ جاوید احمد غامدی نے خطاب اور سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انسانی میں غیر معمولی تجسس رکھا گیا ہے کہ جب کوئی سوال سامنے آتا ہے تو وہ اس کے حقائق اور عمل کو جاننا چاہتا ہے ۔کوئی چیز کیا ہو رہی ہے اور کیسی ہو رہی ہے ، یہ دو باتیں مجھے انسان بنا دیتی ہے ۔ میرے سارے علم کے پیدا ہونے کی وجہ کیوں ؟اور کیسے ہے ؟جب کیوں اور کیسے کے سوال پوچھے جاتے ہیں تو انسان علم حاصل کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انسان کا وجود ،اس کے اندر پایا جانے والا علم خالق کائنات کا ایک شاہکار ہے ۔

جاوید احمد غامدی نے مزید کہا کہ انسان اپنے گرو و پیش میں پھیلے ہر سوال کا جواب جاننے کی ہر وقت جستجو میں رہتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیغمرؑ تو اس لئے آئے تھے کہ انسان کو خبردار کریں کہ تمہارے دروازے پر موت دستک دے رہی ہے اور اس کے بعد ایک دوسری زندگی شروع ہونے والی ہے ۔ اس دوسری زندگی کا ماضی کے بعض ادوار میںصحیح تصور پیش نہیں کیا گیا، انسان دنیاوی نظام ہی بنا کر مطمئن ہو گیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انسان کو از خود محسوس ہو تا گیا کہ محض دنیاوی تصور کے مطابق زندگی گذارنا کافی نہیں ۔مذہب زندگی کے بعد ایک نئی زندگی کے شروع ہونے کی منادی کرنے کےلئے آیا ہے ۔

 

 

جاوید احمد غامدی نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ ان کی جہالت کو قرار دیا اور کہا کہ گزشتہ دو سو سالوں سے مسلمان اپنے مسائل کا حل تلوار میں تلاش کر رہے ہیں‘ جہالت دور کرنے کےلئے انہوں نے کبھی کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی مسلک یا فرقے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو تمام تر رہنمائی اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب سے بآسانی مل جاتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کے ذہنی اضطراب کو اپنا ذہنی اضطراب سمجھنا چاہئیے اور قران و سنت کی روشنی میں سوالات کے جواب تلاش کرکے آگے بڑھنے کے عمل کو یقینی بنانا چاہئیے ۔ان کے سوالوں کا جواب تلاش کرنا چاہئیے ، ان کی باتوں اور اضطراب کو اطمینان سے سننا چاہئیے ۔جب ہم کسی کو قائل کر لیتے ہیں تو اس کےلئے عملی زندگی میں تبدیلی آسان ہو جاتی ہے ۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم اپنے بچوں کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز اپنے آپ سے کریں ۔ اس سلسلے میں قول و فعل کے تضاد کا بہت خیال رکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو جذباتیت اور ردعمل کے روئیہ کو ترک کرکے چیزوں کا تجزئیہ کرکے ان کو سمجھنے کا رجحان پیدا کرنا چاہئیے
 

انٹرایکٹو سیشن کے دوران ہال میں موجود شرکاءکی بڑی تعداد نے ان سے مختلف مسائل اور ایشوز پر متعدد سوالات بھی پوچھے۔ شرکاءکے پوچھے گئے سوال ایڈٹ کے ساتھ جاوید غامدی کے گوش گزار کئے گئے۔ بعض سوالوں کو مصلحتاً مختصر کر کے پوچھا گیا، جاوید غامدی نے 35,30 کے لگ بھگ سوالات کے جواب دئیے۔
 

المورد یو ایس اے کے زیراہتمام جاوید غامدی کی کتابوں اور سی ڈی بھی فروخت کےلئے رکھی گئی ہیں۔ لوگوں نے ان کی کتاب پر ان کے آٹوگراف بھی لئے۔

پروگرام کے بعد لوگوں کو جاوید غامدی سے ملاقات کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔ آخر میں نیویارک میں المورد یو ایس اے کے آرگنائزر احسن رانجھا نے لوگوں کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
 

اختتام پر والنٹیرز اور خاص مہمانوں کےلئے مقامی ریسٹورنٹ میں عشائیے کا بھی اہتمام تھا جس میں جاوید احمد غامدی نے بھی خصوصی شرکت کی۔

 

تاریخ اشاعت : 2017-10-11 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock