ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل میں آگے بڑھنا ہے، اتحاد، تنظیم اور ایمان کے اصول کو اپنانا ہوگا ؛ ڈائیلاگ فورم 

سقوط ڈھاکہ اور قائد اعظم کی بصیرت؛ ڈائیلاگ فورم میں مکالمہ

طاہر خان کے زیر اہتمام ڈائیلاگ فورم کی صدارت ڈاکٹر شفیع بیزارنے کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر اشرف عدیل کلیدی مقرر اور سینئر صحافی عظیم ایم میاں سینئر تجزئیہ کار کے طور پر شریک ہوئے

ہم ایک پاکستانی بن جائیں تو اب کوئی سقوط ڈھاکہ نہیں ہوگا، دشمن نے ہماری کمزوریوں سے سقوط ڈھاکہ کے دوران سب سے زیادہ فائدہ اٹھا، اب یہ موقع دشمن کو نہیں دینا ہوگا؛ مقررین

 

نیویارک (محسن ظہیر سے ) پاکستان کے عوام بالخصوص سیاسی قیادت کو ماضی کے سقوط ڈھاکہ کے اسباب سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں آگے بڑھنا ہوگااور ان غلطیوں کو نہیں دوہرانا ہوگا کہ جن کی وجہ سے وطن عزیز پاکستان دولخت ہوا ۔ ہم ایک پاکستانی بن جائیں تو اب کوئی سقوط ڈھاکہ نہیں ہوگا۔قائد اعظم کے اصول اتحاد، تنظیم اور ایمان کو نصب العین بناکر ملک و قوم کو درپیش چیلنجوں سے نبرد آزما ہونا ہوگا۔ ان ملے جلے خیالات کا اظہار نیویارک میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی ممتاز سماجی ، ادبی و علمی شخصیت طاہر خان اہتمام ڈائیلاگ فورم میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور ارکان نے کیا ۔ڈائیلاف فورم کے اس دسویں اجلا س کا موضوع ” سقوط ڈھاکہ اور قائد اعظم کی بصیرت“ تھا۔


 پاکستان لیگ آف امریکہ کے پیٹرن ڈاکٹر شفیع بیزار کی صدارت میںمنعقد ہونےو الے ڈائیلاگ فورم میں فلا ڈیلفیا یونیورسٹی کے پروفیسر آف فلاسفی ڈاکٹر اشرف عدیل کلیدی مقرر اور سینئر صحافی اور امریکہ میں جیو و جنگ گروپ کے بیورو چیف عظیم ایم میاں سینئر تجزئیہ کار کے طور پر شریک ہوئے ۔طاہر خان نے حسب روایت نظامت کے فرائض انجام دئیے اور بانی پاکستانی قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور خدمات کاذکر کرتے ہوئے ان اغراض و مقاصدپر روشنی ڈالی کہ جنہیں پیش نظر رکھتے ہوئے انہوںنے پاکستان بنایا ۔ اسی طرح طاہر خان نے سقوط ڈھاکہ کا بھی پش منظر بیان کرتے ہوئے اس کے اسباب کے حوالے سے مختلف آراءحاضرین کے سامنے پیش کی ۔ انہوں نے خادم حسین راجہ ، میجر جنرل ابو بکر عثمان مٹھا، شرمیلا بھوش اور کرنل شریف الحق کی اہم کتابوں کا حوالہ بھی دیاجن میں سقوط ڈھاکہ کے اسباب اور حالات و واقعات درج کئے گئے ہیں ۔


ڈائیلاگ فورم میں طاہر میاں نے قران مجید کی تلاوت کی سعادت حاصل کی جبکہ کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات عتیق احمد صدیقی ،سردار نصراللہ ، ڈاکٹر شفیق خٹک، نسیم گلگتی، سلیم ملک، طاہرمیاں ، مشیر طالب،قسیم واسطی، اشرف اعظمی، انیس صدیقی ، رضا نقوی ، ڈاکٹر نور زمان خان ، طاہرہ حسین ، واحد بخش بھٹی،اقبال علی ، بہادر علی ، عبدالرحیم،سرفراز امین، یاسر علی ، فائق صدیقی نے فورم سے خطا ب کیا ۔

 

ڈاکٹر اشرف عدیل نے کہا کہ ریاست جب انصاف اور عوام الناس کی عزت نفس کو یقنی بنانے جیسی ذمہ داریوں سے ہٹ جاتی ہے تو پھر علیحدگی پسندی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ قائد اعظم نے بھی پہلے اجلاس میں اردو کو قومی زبان بنانے کی تجویز پیش کی۔انہوں نے یہ سوچ کر کیا تھا کہ چونکہ چار صوبے اردو جانتے ہیں ، اس لئے اردو کو قومی زبان بنانا آسان ہوگا۔


ڈاکٹر شفیع بیزار نے کہا کہ اکثریت کی بات نہیں مانی گئی تھی جس کا نتیجہ ہمیں بالآخر ملک کو دولخت ہونے کی شکل میں دیکھنا پڑا۔ عظیم میاں نے کہا کہ ہمیں سقوط ڈھاکہ کے اسباب سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سقوط ڈھاکہ کا جائزہ لیتے وقت متحدہ پاکستان کے اندرونی حالات ہی نہیں بلکہ بیرونی حالات بالخصوص بیرونی قوتوں کے کردار کا بھی جائزہ لینا چاہئیے ۔


ڈائیلاگ فورم میں مقررین کے خطابات میں سقوط ڈھاکہ پر ملے جلے خیالا ت سامنے آئے تاہم مقررین کا اس بات پر اتفاق تھا کہ پاکستان کو اپنے اس تلخ ماضی سے سبق سیکھنا چاہئیے اور مستقبل میں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئیے ۔ مقررین نے کہاکہ سقوط ڈھاکہ ہو چکا، اب سوچنا یہ چاہئیے کہ بچے کھچے پاکستان کو کیسے بچایا جائے ۔ہمیں ہر وقت شکایت کرتے رہنے کی بجائے خود کو چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے رجحانات کی طرف مائل کرناہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہئیے کہ ہماری کمزوریاں تھیں کہ جن سے دشمن نے فائدہ اٹھا اور ملک کو دولخت کر دیا۔ ان کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا۔مقررین نے کہا کہ سقوط ڈھاکہ کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہمارے ہاں قیادت سے لیکر اہلکار اہل نہیں تھے،انہیں میڑٹ پر ذمہ داریاں نہیں سونپی گئیں ۔لہٰذا سقوط ڈھاکہ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ قومی اداروں میں میرٹ کا راج قائم کیا جائے ۔ہمیں تعصب سے ہٹ کر میرٹ کو سپورٹ کرنا چاہئیے ۔


بعض مقررین نے کہا کہ گذشتہ42سالوں میں کسی بنگالی کو اظہار افسوس کرتے ہوئے نہیں سنا یا دیکھا، انہوں نے اپنا ملک بنالیا۔ ہمیں بھی اب اپنے ملک میں ایک قوم بن کر اپنے مستقبل کو تابناک بنانا چاہئیے ۔تابناک مستقبل کےلئے ضروری ہے کہ ملک کی بھاگ ڈور ایماندار اور دیانتدار سیاسی قائدین کے ہاتھوں میں ہو اور جمہوریت مستحکم ہو جس میں ہر کوئی جوابدہ ہو۔کٹھ پتلی سیاسی قیادت سے قوم کو نجات حاصل کرنا ہوگی ۔مقررین نے کہا کہ جو ہوا سو ہوا ، سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئیے ؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر ہم ایک قوم اور سب سے پہلے پاکستانی بن جائیں تو کبھی سقوط ڈھاکہ جیسا سانحہ رونما نہیں ہوگا۔

 

مقررین نے کہا کہ پاکستان کی دشمن طاقتیں ہمیشہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہیں گی ۔وہ ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، ہمیں انہیں یہ موقع کبھی نہیں دینا اور سقود ڈھاکہ پر ہم سب کو اسی عزم کا اعادہ کرنا چاہئیے ۔

تاریخ اشاعت : 2013-12-23 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock