پشارو گندھارا تہذیب کا دارلحکومت تھا جہاں پانچ ہزار سال پہلے ہندکو زبان بولی جاتی تھی ، نیویارک میں پانچویں عالمی ہندکو کانفرنس

نیویارک (محسن ظہیر ) پاکستان ہی نہیں بلکہ پاکستان کے قیام سے بھی ہزاروں سا ل قبل گندھارا تہذیب کے زمانے میں پشاور میں بولی جانیوالی ہندکو زبان کے حوالے سے گندھارا ہندکو بورڈ نارتھ امریکہ کے زیر اہتمام پانچویں انٹر نیشنل ہندکو کانفرنس نیویارک میں منعقد ہوئی ۔ ہند کو کانفرنسوں کے سلسلے میں یہ پہلی کانفرنس تھی جو کہ عالمی سطح پر امریکہ میں منعقد کی گئی ۔اسے پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی ہندو کو کانفرنس کے فروغ اور ترقی کے سلسلے میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا ۔پانچویں عالمی کانفرنس میں ڈاکٹر سید امجد حسین ، ضیاءالدین ، عتیق صدیقی ، ڈاکٹر نسیم اشرف، ڈاکٹر عدیل اشرف، پروفیسر تزئین گل ، امجد عزیز ملک ،فصیحہ ضیاءکے علاوہ پاکستانی امریکن کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

نیویارک میں کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں عتیق صدیقی سے کمیونٹی کے مقامی قائدین سلیم احمدملک اور محمد حسین نے بھی تعاون کیا ۔ گندھارا ہندکو بورڈ کے چئیرمین اعجاز احمد قریشی کانفرنس میں شریک نہیں ہو سکے تاہم ڈاکٹر سید امجد حسین نے ان کا پیغام پڑھ کر سنایا ۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ میں گندھارا ہندکو بورڈ کے امجد حسین اور عتیق صدیقی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ جنہوںنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر پانچویں عالمی کانفرنس نیویارک میں منعقد کی ۔ہمارا بورڈ 24سال پہلے ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کی قیادت میں قائم کیا گیا تھا ۔ ان کی وفات کے بعد چئیرمین کی ذمہ داری مجھے ملی ۔عدنان گل ، صلاح الدین اور ضیاءالدین جیسے پرعزم لوگ ہمارے ساتھ ہیں ۔ انشاءاللہ ہم پر جس اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے ، اس پر پورا اترنے کے لئے اپنا ہر ممکن کردار ادا کریں گے

ضیاءالدین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہندکو زبان بولنے والے گھر میں پیدا کیا ۔ میں نے زبان کی تاریخ تلاش کرنا شرو ع کیتو مجھے معلوم ہوا کہ اس زبان کی اپنی ایک تاریخ ہے اور یہ ہماری پہچان ہے اور باعث فخر ہے ۔ 1990کی دہائی میں مطالبہ کیا گیا کہ ہندکو کی ترقی کے لئے باقاعدہ ایک ادارہ قائم کیا جائے ۔اس وقت صوبے میں اس زبان کے لئے ایک روپیہ بھی مختص نہیں تھا۔ہم نے سوچا کے ایک اکیڈیمی قائم کی جائے جہاں ہندکو کے حوالے سے کام ہو ۔لہٰذا میرے گھر کی بیٹھک سے گندھارا ہندکو بورڈ قائم ہوا۔میں نے روزنامہ خبریں میں ہندکو زبان میں خصوصی ایڈیشن شائع کئے تو بہت پذیرائی ملی ۔انہوں نے کہا کہ میری زبان پشاور کی گلیوں کی زبان ہے ۔اس میں بڑی وسعت موجود ہے ۔گندھارا اکیڈیمی میں ہم ہر زبان پر کام کررہے ہیں ۔ ہم نے 17رسالے شائع کئے ہیں ۔اکیڈیمی قائم کی ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندکو کو عوام تک لے کر جائیں ۔ہندکو زبان کے احمد علی سائیں ایسے قادر الکلام شاعر ہیں کہ علامہ اقبال نے ان کے بارے میں کہاکہ یہ ہندکو کے غالب ہیں ۔

 

ضیاءالدین کے خطاب کے بعد کانفرنس میں پشاور شہر اور ہندکو زبان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ کے بارے میں ایک خصوصی ڈاکوینٹری بھی دکھائی گئی ۔

گندھارا ہندکو بورڈ نارتھ امریکہ کے چئیرمین ڈاکٹر سید امجد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گندھار ا ایک عظیم الشان سلطنت تھی جس میں افغانستان ، پاکستان ، ہندوستان اور چین کے حصے شامل تھے ۔یہ پہلی سے تیسری صدی تک موجود تھی ۔گندھارا کا ایک بادشاہ کنشکا تھا جس نے سترہ سال حکومت کی ۔تاریخ میں اس کا نام ایک اچھے بادشاہ کے طور پر لیا جاتا ہے ۔ پشاور ، گندھارا تہذیب کا دارالحکومت تھا ۔ یہاں بدھ مت کی حکومت تھی ۔بدھا جب اس علاقے میں آیا ۔اس کے ایک چیلے آنند کے مطابق بدھا کا کہنا تھا کہ اس کے چار سو سال کے بعد ایک بادشاہ (کنشکا) یہاں (پشاورمیں ) ایک خوبصورت یادگار بنائے گا ۔
 

ڈاکٹر سید امجد حسین نے ڈاکومینٹری اور سلائیڈ شو کے ذریعے پشاور شہر کی تاریخ بتاتے ہوئے مزید کہا کہ پشاور ایک پہاڑی شہر ہے ، یہ ٹیلوں پر آباد ہے ۔فرانسیسی تاریخ دان اور ماہر آثار قدیمہ نے پشاور شہر کی تاریخ کے میں بہت کچھ بتایا ہے ۔ چینی زائرین نے سفر ناموں سے بھی پشاور شہر کی تاریخ کا علم ہوتا ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ ڈیوڈ برینڈ سپونر امریکی ماہر آثار قدیمہ تھا ۔اس نے تحقیق کے بعد کہا کہ پشاور میں شاہ ج کی ڈھیریوں کے پاس ”سٹوپا“ موجود تھا ۔ گنج دروازاے کے باہر ڈھیریوں کی کھدائی کی گئی ۔ اس دوران وہاں اسے ایک ڈبی ملی جس کے اندر ہڈیاں تھیں ۔وہ ہڈیاں انڈین برٹش گورنمنٹ نے برما کو دے دیں ۔ پشاورمیں کنشکا کے دورمیں تعمیر کیا گیا کہ سٹوپا کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔سٹوپا وہاں کے مقامی لوگوں نے بنایا ہوگا ۔سٹوپا کی سائٹ کو ہیریٹیج قرار دیا جانا چاہئیے ۔شاہ جی کی ڈھیریوں کے نیچے واقع پارک میں سٹوپا ک یاد میں ایک چھوٹا سا ماڈل سٹوپا تعمیر کیا جانا چاہئیے ۔ ہمیں فخر کرنا چاہئیے کہ ہمارے آباو¿ اجداد نے ہزاروں سال پہلے ایسا فن تعمیر کا شاہکار تعمیر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہم ماضی بعید سے رشتہ نہیں رکھتے ۔پشاور کے عجائب گھر میں گندھارا تہذیب کے مجسمے موجود ہیں ۔

 

عتیق احمد صدیقی نے پرانے پشاور کے ذرائع ابلاغ کے بارے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ پہچان کو ثابت کرنا بہت ضروری ہے ۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم خطہ زمین سے اپنے تعلق کو ثابت کریں ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس اراضی میں آباو¿ اجداد رہتے تھے ، ان سے تعلق ثابت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ روایتی ذرائع ابلاغ میں اخبار ،پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا وغیرہ آتے ہیں ۔آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے پشاور کے ذرائع ابلاغ پشاور کے لوگوں کے طرز زندگی ، تہذیب اور ثقافت کی نشاندہی کرتے تھے ۔پچاس سال پہلے پشاور میں ایک سے دوسری جگہ خبر و اطلاع پہنچانے کے مختلف طریقے تھے ۔ہر معاشرے میں ہر دور کے اپنے ذرائع ابلاغ رہے ہیں ۔پرانے ذرائع ابلاغ کو دیکھیں تو پرانے پشاور کے ذرائع ابلاغ کے طریقوں کا پتہ چلتا ہے ۔ ڈنڈورچی ،ایک اہم ذریعہ ابلاغ تھا۔ان کی آواز گرجدار ہوتی تھی اور وہ علاقوں اور لوگوں کے بارے میں کمال علم رکھتے تھے ۔انگریزوں اور مغلیہ دور میں ڈنڈروچی کے اعلان کا طریقہ مختلف ہوتا تھا۔پہلوانوں کی کشتی کا اعلان ڈنڈروچی کیا کرتے تھے ۔ وال چاکنگ بھی ذرائع ابلاغ کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے ۔پھر تانگے اور لاوڈ سپیکر کے ذریعہ اعلانات ہونے لگ گئے ۔

 

عتیق صدیقی نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی سے پرانا سماج ختم ہوتا جا رہا ہے اور نیاسماجی آجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پشاور ایک زرخیر خطہ ہے ۔ وہاں فنکاروں ، رائٹرز اور تخلیق کاروں کی کمی نہیں ۔ان کو مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے ، ان کا ہنر کھل کر سامنے آجائیگا۔ ہمیں ایسے مواقع پیدا کرنے چاہئیے ۔


کانفرنس سے پشاور ٹی وی کے مشہور فنکار دلاور ندیم نے بھی اپنے مشاہدات اور تجربات بیان کئے اور ہندکو زبان کے ماضی کے حوالے سے بات چیت کی ۔انہوں نے کہا کہ یہ زبان بہت میٹھی اور جو کوئی بھی اسے سنتا ہے ، خوش ہوتا ہے ۔


کانفرنس میں انٹر ٹیمنٹ کے پروگرام کے دوران مقامی سنگر سعدئیہ ملک نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔سلیم احمد ملک نے کانفرنس کے تیسرے حصے میں میزبانی کے فرائض انجام دئیے ۔ کانفرنس کے شرکاءکے اعزازمیں ظہرانہ اور عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ شرکاءنے کانفرنس کو عظیم کامیابی قرار دیا اور اس کے منتظمین کو مبارکباد دی ۔

تاریخ اشاعت : 2017-10-30 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock