آقا محمدﷺ کے ساتھ محبت و عقیدت کے ساتھ ساتھ عمل بھی لازم ہے ؛ مفتی منیب الرحمن

المصطفیٰ اسلامک سنٹر برائٹن بیچ ،بروکلین پر سالانہ جشن عید میلاد النبی ، چئیرمین روئیت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن کا خصوصی خطاب
 
ہماری عقیدت و محبت صرف خوبصورت الفاظ میں ڈھل کر رہ گئی ہے ، عمل کا دور دور تک نشان نظر نہیں آتا، سرور کونین کی تعلیمات و احکامات پر عمل سے ان سے محبت و عقیدت کا عملی مظاہرہ ہوگا؛ مفتی اعظم پاکستان


المصطفیٰ اسلامک سنٹر میں ہونے والے جشن عید میلاد النبی ﷺ میںسید میر حسین شاہ، سید صفدر شاہ، مفتی عبدالرحمان قمر، قاری غلام رسول، علامہ مقصود احمد قادری، قاری رضا ءالمصطفیٰ ، قاری بشیر، ڈاکٹر رفیق چوہدری، ڈاکٹر عبدالواحد سمیت علماءکرام کی شرکت


شہزاد ہ سیف المکوک ڈاکٹر غلام مرتضی نقیبی سمیت ثنا خوان مصطفی نے سرور کونین حضرت محمد مصطفیﷺ کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کیا، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کی اہم شخصیات و ارکان کی بڑی تعداد میں شرکت


محفل میلاد کی نظامت کے فرائض ال مصطفی سنٹر کے امام قاری حبیب اللہ اور علامہ مقصود احمد قادری نے انجام دئیے جبکہ جشن میلاد کے اہتمام میں اصغر بھٹہ اور ہمایوں بٹ سمیت ال مصطفی سنٹر کی انتظامیہ نے اہم کردار ادا کیا


نیویارک (محسن ظہیر سے ) پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ ممتاز عالم دین اور روئیت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ سرور کونین ، نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیﷺ سے محبت اور عقیدت کے اظہار کے لئے ان کے احکامات و تعلیمات پر عمل لازم ہے ۔ہم نے عقیدت کو خوبصورت الفاظ کی شکل تو دے دی ہے لیکن عمل دور دور تک نظر نہیں آتا۔عمل کے بغیر خالی محبت کسی کام کی نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ال مصطفی اسلامک سنٹر ،برائٹن بیچ، بروکلین (نیویارک) میں جشن عید میلاد النبی ﷺ کی خصوصی محفل سے خطاب کے دوران کیا جس میں سید میر حسین شاہ، سید صفدر شاہ، مفتی عبدالرحمان قمر، قاری غلام رسول، علامہ مقصود احمد قادری، قاری رضا ءالمصطفیٰ ، قاری بشیر، ڈاکٹر رفیق چوہدری، ڈاکٹر عبدالواحد سمیت علماءکرام نے شرکت کی جبکہ شہزاد ہ سیف المکوک ڈاکٹر غلام مرتضی نقیبی سمیت ثنا خوان مصطفی نے سرور کونین حضرت محمد مصطفیﷺ کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کیا، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کی اہم شخصیات و ارکان کی بڑی تعداد میں شریک ہوئی ۔محفل میلاد کی نظامت کے فرائض ال مصطفی سنٹر کے امام قاری حبیب اللہ اور علامہ مقصود احمد قادری نے انجام دئیے جبکہ جشن میلاد کے اہتمام میں اصغر بھٹہ اور ہمایوں بٹ سمیت ال مصطفی سنٹر کی انتظامیہ نے اہم کردار ادا کیا۔
 مفتی منیب الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہماری محافل بار آور ثابت ہوجائیں ، اگر ہم ان محافل سے کچھ سیکھ کر جائیں۔محفل سے اٹھنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ آپ گھر ساتھ کیا لے کر جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آقا محمد ﷺ کی غلامی کا مطلب اپنی خواہشات کو فنا کرکے اللہ تعالیٰ اور سیدنا محمد ﷺ کے حضور پیش کر دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نفس کے تقاضوں کو قائم رکھتے ہوئے غلامی محمد ﷺ اختیار نہیں کر سکتے ۔ہم تو غیبت ، حسد اور بدگمانی جیسے بے لذت گناہ ترک نہیں کرتے ۔ لذت والے گناہ کیسے چھوڑ سکتے ہیں ۔ایسا تب ہوتا ہے کہ جب نفس مریض ہو جاتے ۔
 مفتی منیب الرحمن نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے روح میں شر کے جزبات پیدا کئے ہیں ۔ شر کو شر اور خیر کو خیر اپنی طرف کھینچتا ہے ۔حضرت یوسف ؑ فرماتے ہیں کہ جس پر اللہ تعالیٰ اپنا رحم فرما دیں ، وہ نفس کے شر سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔حضور اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ یہ کیسے معلوم ہوا کہ ہم مومن ہیں یا نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے نفس ، ذہن اور قلب کو قاضی بنا کر خود کو ان کی عدالت میں پیش کر دو، سوال کا جواب مل جائے گا۔اگر اپنے گناہ پر پریشانی محسوس کرو اور نیکی کرکے مطمئن ہو تو سمجھو کہ مومن ہو۔اگر گناہ کرنے کے بعد بھی دل ملامت نہ کرے تو پھر ایمان کی خیر منانی چاہئیے اور اگر قوم لوط کی طرح گناہ کرکے اسے فخرئیہ انداز میں بیان کیا جائے تو سمجھیں کہ بندہ قوم لوط کے دور میں چلا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نفس جب تک میل سے پاک نہیں ہوگا، اس وقت تک نقش نہیں جمے گا۔پہلے ہمیں نفس پر موجود دھبے صاف کرنے ہونگے ۔یہ دھبے توبہ سے دھل جاتے ہیں ۔ توبہ پر گناہوں کی معافی تو دور کی بات ، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں ، وہ توبہ قبول کرلیں تو گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیتے ہیں ۔ایسا اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہم اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں اور ان کی بار گاہ میں توبہ کی درخواست سچے دل اور نیت سے پیش کریں
مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے میلاد پاک منانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ویسے بن جائیں کہ جیسے آقا محمد ﷺ ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں ۔آپ بندے کو بندے کی بندگی کے عمل سے نکال کر خالق کائنات کے سامنے سربسجود ہونے کا پیغام لیکر تشریف لائے ۔ آپ ﷺ کی آمد سے ایک انقلاب برپا ہوا۔حضرت عمر ؓ ایک بار مکہ مکرمہ کی پہاڑیوں میں گھوم رہے تھے کہ اچانک رونے لگ گئے ۔پوچھنے پر آپ ؓ نے فرمایا کہ یہ تشکر کے آنسو ہیں۔میں بچپن میں ان پہاڑیوں پر اونٹ چروایا کرتا تھا۔میرے والد مجھے ڈانٹتے تھے کہ میں دس بیس اونٹ بھی کنٹرول نہیں کر سکتا۔ان پہاڑیوں پر گھومتے ہوئے میں نے سوچا کہ خطاب کا بیٹا عمر جو کہ دس بیس اونٹ بھی نہیں سنبھال سکتا تھا ، محمد عربی ﷺ کا غلام بننے کے بعد لاکھوں مربع میل اراضی پر دین اسلام کا نظام چلا رہا ہے ۔
قبل ازیں جشن عید میلاد النبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے مفتی عبدالرحمان قمر، علامہ مقصود احمد قادری اور قاری حبیب اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد ﷺ کا نام اپنے ناموں میں سے ایک نام محمود سے نکالا ہے ۔ ہر نبی کے لئے دنیا میں ایک خاص معجزہ اور خوبی تھی ۔ یہ سب معجزے اور خوبیاں سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیﷺ کی ذات پاک میں اللہ تعالیٰ نے اکٹھی کر دیں۔امام اہل سنت فاضل بریلوی ؒ نے بالکل صحیح کہا کہ آپ ﷺ کی مثال پوری کائنات میں نہیں ملتی ۔صحابہ کرام ؓ جب پریشان ہوتے تھے تو آپ ﷺ کے چہرہ انور کو دیکھ لیتے تھے تو پریشانیاں دور ہو جاتی تھیں ۔علماءکرام نے خطاب کے دوران مزید کہا کہ نبی کریم ﷺ سے محبت اور تعطیم کے ساتھ لازم ہے کہ ان کے ہر حکم پر عمل کیا جائے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے محبوب ﷺ اعلان کر دیں کہ جو اللہ سے محبت کرنا چاہتا ہے ، وہ آپﷺ سے محبت کرے اور آپ ﷺ کی اطاعت کرے ۔جو نبی کریم ﷺ سے محبت کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے گا۔
علماءکرام نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ہر سوموار کو روز ہ رکھتے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں سوموار کو اس لئے روزہ رکھتا ہوں کہ کیونکہ میں اس دن پیدا ہوا۔ جس دن نبی رحمت ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے ، اس دن سے زیادہ خوشی کادن کیسے ہوسکتا ہے ۔نبی کریم ﷺ کا پیغام محبت او ر امن کا پیغام ہے ۔نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میں تو اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ دنیا میں رحمتیں تقسیم کروں ۔
جشن عید میلاد النبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے علماءکرام نے کہا کہ ابولہب کافر تھا۔ اس نے آپ ﷺ کے میلاد پاک کی زندگی میں ایک بار خوشی منائی ۔ اس کو میلاد کی ایک خوشی منانے پر عذاب میں کمی کی صورت میں رعائیت ملی ۔آپﷺ خود سوچیں کہ جو ہر بار ہر سال نبی رحمت ﷺ کا میلاد پاک منائے گا، اسکو اللہ تعالیٰ کی جانب سے کیا کیا رحمتیں ملیں گی ۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے مخلص ہو جائیں اور کلمہ کی شکل میں ہم نے جو حلف اٹھایا ہے ، اسے ساری عمر نبھائیں
جشن میلاد النبی ﷺ کے آخر میں مفتی منیب الرحمن نے خصوصی دعا کروائی اور سب شرکاءکو عید میلاد النبی ﷺ کی مبارکباد دی ۔


تاریخ اشاعت : 2013-01-22 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock