دو تین الیکشن مسلسل ہوگئے تو سیاست سے گند ے انڈے نکل جائینگے؛ صفدر عباسی، ناہید خا ن

پارٹی کی کاز کو آگے بڑھانے کے لئے پارٹی کی نظریاتی سوچ اور بنیاد کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ بدقسمتی سے پارٹی کو ذاتی اور خاندانی جاگیر میں بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے


سب سے بڑا نقصان حالیہ الیکشن میں نتائج کی شکل میں سامنے آیا۔تین صوبوں سے پارٹی کا صفایا ہو گیا ، ووٹرز نے کنارہ کشی اختیار کر لی، پارٹی کو اس بحران سے نکالنے کے لئے نظریاتی اساس بحال کرنا ہوگی


 پارٹی کی نظریاتی اور عملی سیاست میں خلیج بڑھتی جا رہے جو کہ باعث تشویش امر ہونا چاہئیے ۔قیادت اور نظریاتی کارکنون کے درمیان ایک تعلق کو بحال کرنا ہوگا ؛ حفیظ کشمیری کے استقبالیہ سے خطاب

نیویارک (محسن ظہیر سے ) پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین سابق سینیٹر صفدر عباسی اور ناہید خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں دو تین الیکشن تسلسل کے ساتھ ہو گئے تو سیاست سے گندے انڈے نکل جائیں گے تاہم ملک میں حقیقی جمہوریت اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک کہ پارٹیوں میں جمہوریت نہ ہوا ور پارٹی الیکشن صاف و شفاف طریقے سے منعقد نہ ہوں۔ ان ملے جلے خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں بھٹو خاندان کے دیرینہ ساتھی اور پارٹی رہنما حفیظ کشمیری کی جانب سے ان کی رہائشگاہ پر دئیے گئے عشائیہ کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا ۔ صفدر عباسی اور ناہید خان جن کا شمار محترمہ بے نظیر بھٹو کے انتہائی قریب اور معتمد ساتھیوں میں ہوتا تھا، اپنی لیڈر کی شہادت کے بعد پہلی بار امریکہ کے نجی دورے پر ہیں ۔

 

ڈاکٹر صفدر عباسی اور ناہید خان نے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ پارٹی کی کاز کو آگے بڑھانے کے لئے پارٹی کی نظریاتی سوچ اور بنیاد کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔بدقسمتی سے پارٹی کو ذاتی اور خاندانی جاگیر میں بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس میں سب کا نقصان ہوگا۔سب سے بڑا نقصان حالیہ الیکشن میں نتائج کی شکل میں سامنے آیا۔تین صوبوں سے پارٹی کا صفایا ہو گیا ، ووٹرز نے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کو اس بحران سے نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی کو مسائل سے نجات دلانے کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی کے اندر انتخابات ہوں ¾پارٹی کے اندر ایک جمہوری سوچ بیدار ہو لیکن فرض تو موجودہ لیڈر شپ پر ہے کہ وہ اس کام کو آگے بڑھائے۔ انہوں نے کہا کہ لیڈر شپ کو چاہئے کہ پارٹی کے اندر ایک نظریاتی سوچ کو بیدار کرے اور پارٹی کے اندر جمہوری روئیوں کو دوبارہ متعارف کروائیں لیکن اگر وہ ایساکرنے کوتیار نہیں ہیں تو پھر پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکن کو آگے بڑھ کر اپنا کردرا ادا کرنا چاہئیے ۔


ڈاکٹر صفدر عباسی نے کہا کہ بلاول بھٹو صاحب کو طے کرنا ہوگا کہ وہ کون سی سیاست کرنا چاہتے ہیں؟ وہ سیاست جو ان کے نانا اور ان کی والدہ نے کی؟ یا وہ سیاست جو ان کے والد صاحب نے متعارف کروائی؟ ہاں اگر وہ اپنے نانا اور اپنی والدہ کی سیاست کو اپناتے ہیں اور اس کو لے کر آگے چلتے ہیں تو یقیناً ان کو ایک فائدہ ہوگا۔ وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے ہیں۔


ناہید خان نے کہا کہ پارٹی کی نظریاتی اور عملی سیاست میں خلیج بڑھتی جا رہے جو کہ باعث تشویش امر ہونا چاہئیے ۔قیادت اور نظریاتی کارکنون کے درمیان ایک تعلق کو بحال کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید اور ذوالفقار علی بھٹو شہید کی نظریاتی سیاست کے علاوہ پیپلزپارٹی کے پاس کھڑے ہونے اور آگے بڑھنے کی کوئی بنیاد نہیں ۔اس بنیاد سے دوری کا جو بھی تجربہ کرےگا ، ناکام ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک کا غریب ،مزدور، ہاری، مڈل کلاس، وکیل ،طلباء،نوجوان ،ڈاکٹرز طبقے پارٹی کی شناخت تھے ۔ اس شناخت کو برقرار رکھنا ہوگا ۔ پارٹی میں نظریاتی کارکنوں کو ہاریوں کی طرح ٹریٹ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے ہمارے پارٹی کے لیڈران نے وہ کردار ادا نہیں کیاجو کردار ان کو ادا کرنا چاہئے تھا۔ان کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کارکن خاموشی سے پارٹی سے دور ہوتا جارہا ہے اور ووٹر کنارہ کش ہو گیا ہے ۔
ڈاکٹر صفدر عباسی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم پیپلز پارٹی سے الگ نہیں ہوئے اور نہ ہی ہمارا ارادہ ہے پارٹی چھوڑنے کا ۔انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ پارٹی چھوڑ کر گئے انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو صاحبہ سے بغاوت کی، ہم نے تو شہید جمہوریت اور قائد عوام کا پرچم تھاما اور بلند کر رکھا ہے ۔تاہم یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اگر روئیوں کو درست کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو پارٹی کی نظریاتی بنیاد بحال ہونا مشکل سے مشکل تر ہو جائے گا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نہرو اور بھٹو خاندان پاکستان اور انڈیا کی سیاست کے بڑے نام ہیں ۔اگر قیادت کرشماتی ہو تو موروثی سیاست بھی چل جاتی ہے لیکن اگر ایسا نہیں تو قیادت کو اپنی نظریاتی بنیاد کو قائم رکھتے ہوئے بہت محنت کرنا ہوتی ہے ۔ یہی حالیہ انڈین الیکشن کا سبق بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر موروثی سیاست ایسے ہاتھوں میں چلی جائے جن کی اپنی صحیح سوچ نہ ہو اور ایک قبضہ گروپ کی طرح ابھر کر آئیں تو پھر معذرت کے ساتھ پارٹیاں پھر نہیں چلتیں۔میں سمجھتا ہوں کہ کانگریس کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس سے سبق لینا چاہئے ا۔
ڈاکٹر صفدر عباسی نے کہا کہ پارٹی نظریات پر ہو سکتا ہے کہ پارٹی کے بڑے لیڈروں نے کوئی سمجھوتہ کیا ہو،لیکن کارکنوں نے تو نظریات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔ وہ تو آج بھی پارٹی کے بنیادی اثاثہ اس کے نظرئیہ کا دفاع کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکن اس بنیاد پر اکٹھے ہونا شروع ہونگے کہ ہمیں اپنے بنیادی کاوشوں کو آگے بڑھانا ہوگا ۔اور پارٹی کے اندر انتخابات کرا کر پارٹی کو ایک جمہوری پارٹی بنانا ہوگا ۔ 

تاریخ اشاعت : 2014-05-21 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock