پاکستانی امریکن میڈیا کا حامد میر اور رضا رومی سمیت پاکستان میں تشدد اور انتہا پسندی کا نشانہ بننے والے صحافیوں سے اظہار یکجتی،کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے نمائندے باب ڈائٹز کی خصوصی شرکت

 

نیو یارک(خصوصی رپورٹ) نیویارک میں مقیم پاکستانی امریکن الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے ارکان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کی اہم شخصیات نے جیو ٹی وی کے سینئر اینکر پرسن حامد میر اور ایکسپریس ٹی وی کے رضا رومی سمیت پاکستان میں صحافیوں پر ہونیوالے حملوں کی مذمت کی ہے اور صحافی برادری سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کو یقینی بناتے ہوئے حقائق سامنے لائے جائیں ۔ مزید براں ”دیکھو اور انتظار کرو“ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے حقائق کا انتظار کرنا چاہئیے اور اس دوران کسی بھی غیر ضروری بیان بازی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئیے
رائل بینکوئٹ ہال، بروکلین میں میڈیا اور کمیونٹی کے اس اجلاس میں امریکہ میں جیو ٹی وی اور جنگ گروپ کے بیورو چیف عظیم ایم میاں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا جبکہ اس اجلاس میں صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے ایشیائی پروگرام کے انچارج باب ڈائیڑز نے ایسٹر کی تعطیل کے باوجود اپنی فیملی اور نجی مصروفیات کو ترک کرکے خصوصی شرکت کی اور حامد میر اور رضا رومی سمیت صحافیوں پر ہونیوالے حملو ں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی آزادانہ تفتیش اور ٹرائل کے ذریعہ ذمہ دار عناصر کے خلاف ہر ممکن قانونی چارہ جوئی کرنی چاہئیے ۔
نیویارک میں صحافی برادری نے پاکستان میں آزادی صحافت کے حوالے سے پیش آنیوالے واقعات کے حوالے سے یہاں منعقد ہونیوالا یہ منفرد اجلاس تھا جس کے انتظام میں عظیم میاں نے اپنا کردار ادا کیا جبکہ محسن ظہیر شریک منتظم تھے ۔اجلاس میں آفاق جہانگیر خٹک، آفاق خیالی، ایم آر فرخ، بشیر قمر، عارف افضال عثمانی ، فائق صدیقی ،شفیق صدیقی ، معاوذ صدیق ، ارشد چوہدری ،حسن مجتبیٰ ،ظفر قریشی ،جہانگیر لودھی ، طاہر خان ،قیصر بھٹہ، صدر مسلم لیگ (ن) امریکہ روحیل ڈار، چئیرمین پاکستانی امریکن کمیونٹی کلب میاں فیاض، صدر پیپلز پارٹی امریکہ شفقت تنویر، فراست چوہدری ، مرزا خاور بیگ،سیف الرحمان چوہدری ، طاہر میاں ، چئیرمین پاک امریکن سوسائٹی شمس الزمان ،آصف بیگ، چئیرمین مرچنٹس ایسوسی ایشن جاوید خان ،راناس سعید ، ملک جمیل،سجد احمد بٹ ، وسیم سید، چوہدری پرویز اختر اور لئیق احمد سمیت دیگرنے شرکت کی ۔
اگرچہ اجلاس کا بنیادی مقصدصرف حامد میر اور رضا رومی سمیت حملے کا نشانہ بننے والے صحافیوں سے اظہار یکجہتی اور ذمہ دار عناصر کی نشاندہی تھا اور ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ تھا تاہم اجلاس میں حامد میر پر حملے کے بعد جیو گروپ کی جانب سے ڈی جی آئی ایس آئی پر عائد کئے جانیوالے الزام کا تنازعہ بھی زیر بحث آیا جس پر میڈیا اور کمیونٹی ارکان کی جانب سے منقسم آراءسامنے آئیںتاہم اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قطع نظر پاکستان میں جاری متنازعہ بحث کے نیویارک میں مقیم پاکستانی امریکن میڈیا اور کمیونٹی کے ارکان آزادی صحافت پر ہونیوالے حملے کی مذمت کرتے ہیں اور آزادانہ و شفاف تحقیقات چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے ۔

تاریخ اشاعت : 2014-04-20 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock