عزت و عظمت جس وجود کا طواف کرتی ہیں ، زمانہ اسے سیدنا امام حسین ؑکہتا ہے؛ شہادت کانفرنس

کائنات کی معراج سجدے میں ہے اور سجدے کی معراج امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓ کی پیشانی میں ہے، حسین ؓ نماز میں ہیں اور نماز حسین ؓ میں ہے

کوفہ کے بازار سے جب قافلہ گزرا تو حضرت امام زین العابدین ؓسے ایک شخص نے پوچھا کہ کربلا میں کس کی فتح ہوئی تو آپ ؓ نے فرمایا کہ فتح اس کی ہوئی کہ جس کی اذانیں مساجد میں گونجتی ہیں


سید الشہدائ، راکب دوش مصطفی ، نور چشم فاطمة الزہراؓ ، جگر گوشہ مولا علی المرتضیٰؓ امام عالی مقام حضور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر شہداءکربلا کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے مکی مسجد میں سالانہ شہادت کانفرنس


 قیامت تک آنیوالا مسلمان امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا مقروض ہوگا کیونکہ قیامت تک اسے اسلام امام عالی مقام کے وسیلہ تک پہنچے گا؛ علماءکرام کا شہداءکربلا کو خراج عقیدت


سید صفدر حسین شاہ اور سید شفقت حسین شاہ کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی ساتویں سالانہ شہادت کانفرنس میں امیر جماعت اہل سنت پنجا ب علامہ مفتی اقبال چشتی اور قاری نیاز علی نیازی (راولپنڈی ) نے خصوصی شرکت کی


قاری یونس،علامہ بشیر سیالوی (کیلی فورنیا ) ، علامہ بشارت شاذی ، مولانا بشیر سیالوی، حافظ عبدالقدیر، میاں غلام حیدر، صوفی مشتاق احمد ، سید میر حسین شاہ ، علامہ ضمیر ستار،نعیم الدین الازہری ، سمیت اہم علماءکرام و دیگر نے شرکت کی


 محمد اصغر چشتی، سجاد بٹ ، چوہدری مختار احمد ، خالد انصاری ، محمد طفیل ، منیر بیگ، ملک اعجاز، سید زاہد علی زیدی ، سید ظفر شاہ اور حافظ اللہ رکھاسمیت ثناءخوان و منقبت خواں نے بھی امام عالی مقام سمیت شہداءکربلا کو منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔


 امام عالی مقام نے یزید سے ٹکر لیکر اور اپنے کنبے کی قربانی دے کر بتا دیاکہ رسول اللہ ﷺسے محبت کا حق یہ ہے کہ دین کو جو بھی اور جب بھی قربانی کی ضرورت پیش آئے وہ قربانی پیش کر دی جائے

 



نیویارک (محسن ظہیر سے ) سید الشہداء، راکب دوش مصطفی ، نور چشم فاطمة الزہرا ؓ، جگر گوشہ مولا علی المرتضیٰ ؓ،امام عالی مقام ،فاتح کربلا امام عالی مقام حضور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر شہداءکربلا کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے بروکلین ، نیویارک میں حسب روایت اس سال بھی ساتویں سالانہ شہادت کانفرنس منعقد ہوئی۔

 

مکی مسجد میں منعقد ہونےو الی اس کانفرنس سے خطاب کے دوران پاکستان سمیت نارتھ امریکہ سے آئے ممتاز علماءکرام نے کہا کہ امام عالی مقام حضور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر شہداءکربلا کی بے مثال قربانی کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کائنات کی معراج سجدے میں ہے اور سجدے کی معراج امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین ؓ کی پیشانی میں ہے ۔ قیامت تک آنیوالا مسلمان امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا مقروض ہوگا کیونکہ قیامت تک اسے اسلام امام عالی مقام کے وسیلہ تک پہنچے گا۔


صدر انجمن غوثیہ نیویارک سید صفدر حسین شاہ کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی ساتویںسالانہ شہادت کانفرنس میں پاکستان سے امیر جماعت اہل سنت پنجا ب علامہ مفتی اقبال چشتی جبکہ راولپنڈی سے خطیب اہل سنت مولانا قاری نیاز علی نیازی نے خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض طیبہ اسلامک سنٹر کے امام قاری محمد یونس قادری نے ادا کئے جبکہ کانفرنس کے انتظام و اہتمام میں قاری محمد یونس قادری ، چوہدری محمد پرویز اشرف، مہر محمد شفیق کڑیانوالہ، باو یوسف قمر،ناصر اعوان، مہر سلیم اختر، سائیں محمد الیاس ،مہر سلیم،مہر شاہد رشید، تصدق چیمہ (نشیمن ریسٹورنٹ)،بابر قمر، عادل چوہدری، اور ان کے ساتھیوں نے اہم کردار ادا کیا۔
کانفرنس میں علامہ بشیر سیالوی (کیلی فورنیا )، علامہ الحاج ضمیر ستار سمیت علامہ بشارت شاذی ، مولانا بشیر سیالوی، حافظ عبدالقدیر، میاں غلام حیدر، صوفی مشتاق احمد ، سید میر حسین شاہ ، علامہ ضمیر ستار،نعیم الدین الازہری ،سید عارف شاہ ، چوہدری ضمیر (کیلی فورنیا) سمیت اہم علماءکرام و دیگر نے شرکت کی جبکہ محمد اصغر چشتی، سجاد بٹ ، چوہدری مختار احمد ، خالد انصاری ، محمد طفیل ، منیر بیگ، ملک اعجاز، سید زاہد علی زیدی ، سید ظفر شاہ اور حافظ اللہ رکھاسمیت ثناءخوان و منقبت خواں نے بھی امام عالی مقام سمیت شہداءکربلا کو منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔


 مفتی اقبال چشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس کے دل میں اہل بیت کا بغض ہے وہ جہنم کا ایندھن ہے اور جس کا دل اہل بیت کی محبت سے سرشار ہے وہ جنتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سید، اسے کہتے ہیں کہ جس کے پاس لوگ پریشانیاں اور مشکلات لے کر آئیں اور وہ مشکلات کوحل کرے۔ نبی پاک ﷺنے فرمایا کہ میری ذات سے امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓتک سب مشکل کشا ہیں۔ یہ دنیا اور آخرت کے سردارہیں۔


مفتی اقبال چشتی نے کہا کہ اگر ہم دنیا اورآخرت میں مشکلات سے نجات چاہتے ہیں اور پنج تن کے گھر کے گدا بننا ہوگا۔ امام حسن ؓفرماتے ہیںکہ اہل بیت ؓکی محبت میں جینے اور مرنے والا سیدھاجنت میں جائے گا۔مفتی اقبال چشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمل کورنگ ہی تب لگتا ہے کہ جب دل میں اہل بیت کا پیار اور عقیدت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولا علی ؓ فرماتے ہیں کہ حضورؓفرماتے ہیں کہ پل صراط سے ثابت قدمی سے وہ گزرے گا کہ جس کے دل میں اہل بیت ؓکی محبت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم مولا علی ؓ کو مولا علی ؓ کی ذات کو سامنے رکھ کر مانتے ہیں۔ مولانا علی ؓکواہل سنت سے زیادہ کوئی پیار ہیں کرتا۔


مفتی اقبال چشتی نے کہا کہ اہل بیت اور صحابہ کی محبت دین کی بنیاد ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر مومن کی معراج سجدے میں ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ سجدے کی معراج سیدنا امام حسین ؓ کی پیشانی میں ہے ۔ امام عالی مقام ؓ نے سجدے میں سر کٹوایا، انہوں نے سجدے سے سر اٹھایا ہی نہیں لہٰذا ان کی نماز میں سجدہ ہے اور ان کے سجدے میں نماز ہے ۔


مفتی اقبال چشتی نے کہا کہ دین اورعزتیں جس وجود کا طواف کرتی ہیں ، زمانہ اسے حسین ؓ کہتا ہے ۔ اسی طرح مولا علی ؓ کی شان مبارکہ یہ ہے کہ طہارت آپ کے عقد میں ہے اور حُسن آپ کی اولاد ہے ، ایمان والے قافلے کے امیر مولا علی ؓ ہیں ۔


مفتی اقبال چشتی نے واقعہ کربلا بیان کرتے ہوئے کہا کہ سارا کنبہ کٹا کر امام حسین ؓنے سر پر نبی پاک ﷺ کی دستار رکھی۔ ہاتھ میں علی المرتضیؓ کی تلوار تھامی اور کمر پہ سیدہ زہراء پاک ؓ کا دوپٹہ باندھا اور بڑی شان سے مقتل کی جانب روانہ ہوئے اور مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کوفہ والے پہچانو میں کون ہوں،جب میدان کربلا میں نواسہ رسول ؓ امام عالی مقام نے اپنا تعارف کروایا تو یزدیوںکے سر پر جوں تک نہ رینگی ،انہوں نے نواسہ رسولؓ پر تیروں کی بوچھاڑ کردی۔ امام زخمی ہوگئے۔ خون سے لت پت ہوئے امام حسین ؓ سجدہ ریز ہوگئے۔زمانے کو بتا دیا کہ سجدے کی عظمت پوچھنی ہے تو کربلا کے سر سے پوچھو۔یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ سجدے کی معراج امام عالی مقام ؓ کی پیشانی میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیﷺ ، مولا علی ؓ ، سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو معلوم تھا کہ ان کے جگر گوشے کربلا کے میدان میں کٹیں گے ، جن کے کہنے پر سورج پلٹ جائیں ، وہ اگر چاہتے تو اللہ سے دعا کر سکتے تھے کہ وہ کربلا کو ٹال دیں لیکن انہوں نے سب کچھ معلوم ہوتے ہوئے بھی دعا نہیں کی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قربانی لینی ہے اور انہوں نے یہ قربانی دینی ہے ۔


راولپنڈی سے آئے خطیب اہل سنت مولانا قاری نیازعلی نیازی نے نے شہادت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام عالی مقامؓ کی شہادت کو جس کثرت سے یاد کیاجاتا ہے۔ اس کی کائنات میں کوئی اور مثال نہیں ملتی۔ اس کی انفرادیت کو دیکھیں۔ جتنی شہادتیں ہوئیں اس کا تذکرہ اس کے بعد کیا تھا۔

 

امام عالی مقام سیدنا حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا ذکر شہادت سے پہلے اللہ کے نبی کریم ﷺنے کیا۔ جو چند آنسو آل نبی کی یاد میں بہا دیتا ہے اللہ کریم اس کو جنت عطاءفرما دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ قربانی کہ جس میں نبی زادے ، نواسہ رسول امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین ؓنے اپنے کنبے سمیت جانوں کا نذرانہ دین محمدی کےلے پیش کر دیا ، وہ قربانی عظیم، بے مثال اور لازوال ہے۔ ہم اس قربانی کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ قربانی دینے والا کون ہے اور اس کی شان پاک کیاہے۔؟حضور اکرمؓ نے ارشاد فرمایا کہ میں حسین ؓ سے ہوں اور حسین ؓ مجھ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضوراکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کو سب انبیاءکرام سے زیادہ کرامات جمال و کمال اور معجزات عطاءفرمائے۔ دونوں شہزادوں حضرت سیدنا امام حسین ؓ اور حضرت امام حسنؓ کو اکٹھا کھڑے کر دو تو صورت مصطفی ﷺ نظر آتی تھی۔ دونوں شہزادوں کی شہادت سے مل کر فضائل رسول ﷺ میں شامل ہوگئی۔


اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ۔۔
 تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا

 توں ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا
مولانا قاری نیازعلی نیازی نے کہا کہ نبی پاک ﷺ نے شزادوں کی تربیت خود کی۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا امام عالی مقام ؓکے قدم میدان کربلا میں ایک لمحے کے لئے بھی نہیںڈگمگائے۔امام عالی مقام ؓ نے سب کچھ قربان کر دیا لیکن دین کا سودا نہیں کیا۔ حس نے آل محمد ؓؓ سے نسبت عقیدت اور محبت قائم کر لی اس نے دین و نیا سنوار لی۔


سید شفقت حسین شاہ (جلال پور شریف ) ،قاری محمد یونس قادری ، مولانا نعیم الدین (مسجد بیت الکرم)، صوفی مشتاق احمد نقشبندی، الحاج ستار ضمیر و دیگر علماءکرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام عالی مقام ؓ یزید کے مقابلے میں فتح یاب ہوئے۔کربلا میں لڑائی یہ تھی کہ یذید کہتا تھا کہ امام حسین ؓ انہیں مان لیںجس میں یزید کامیا ب نہ ہوسکا،لہٰذا فتح ظاہر اور باطنی دونوںطور پرامام حسین ؓکی ہوئی۔ کوفہ کے بازار سے جب قافلہ گزرا تو حضرت امام زین العابدین ؓسے ایک شخص نے پوچھا کہ کربلا میں کس کی فتح ہوئی تو آپ ؓ نے فرمایا کہ فتح اس کی ہوئی کہ جس کی اذانیں مساجد میں گونجتی ہیں۔
کانفرنس کے آخر میں سید صفدر حسین شاہ ، سید شفقت حسین شاہ اور سید میر حسین شاہ نے خصوصی دعا کروائی اور سلام پڑھا گیا۔


شہادت کانفرنس کے منتظمین قاری محمد یونس قادری ، باو یوسف قمر، چوہدری پرویز اشرف ، مہر شفیق ، ارشد فاروق، سائیں محمد الیاس ، مہر سلیم،مہر شاہد رشید، بابر قمر، عادل چوہدری ، جمشید عارف سمیت علماءکرام ، کانفرنس کے شرکاءاور کمیونٹی کا شکرئیہ ادا کیا کہ جنہوں نے کانفرنس میں شرکت کرکے اسے کامیاب بنایا۔اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول فرمائے (آمین)


 


تاریخ اشاعت : 2013-11-19 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock