امریکن مسلم کونسل اور پاکستانی امریکن کونسل کے زیر اہتمام بین العقائد گرینڈ افطار ڈنر: نیوجرسی سٹیٹ کے سینیٹرز ، اسمبلی مین ،ویمن ، اعلیٰ منتخب ارکان، مسلم ، ہندو، سکھ،بنگالی،یہودی،کرسچین کمیونٹیز کی مذہبی و سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت

 

نیوجرسی (محسن ظہیر سے ) امریکن مسلم کونسل اور پاکستانی امریکن کونسل کے زیر اہتمام رمضان المقدس کے بابرکت مہینے میں یہاں رائل البرٹ پیلس میں عظیم الشان بین العقائد افطار ڈنر دیا گیا جس میں نیوجرسی سٹیٹ کے سٹیٹ سینیٹرز ، سٹیٹ ارکان اسمبلی، اعلیٰ منتخب قائدین کے علاوہ مسلم ، یہودی ، کرسچین، ہندو، سکھ کمیونٹیز کی اہم مذہبی ، سماجی و کمیونٹی قائدین نے شرکت کی اور ان سب نے پاکستانی و مسلم امریکن کمیونٹی کے ساتھ ملکر روزہ افطار کیا ۔
بین العقائد افطار ڈنر کے اہتمام میں ابرار سیم خان، شیخ توقیر الحق اور چوہدری اجمل سمیت ہوسٹ کمیٹی اور ان کے ساتھیوں نے اہم کردار ادا کیا۔نیویارک ٹرائی سٹیٹ ایریا میں نہ صرف ماہ رمضا ن المبارک میں بین العقائد ہم آہنگی کے حوالے سے یہ سب سے بڑی تقریب ثابت ہوئی بلکہ تقریب میں مختلف عقائد اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی اپنی اپنی کمیونٹی کی اہم شخصیات اور قائدین نے مثالی اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ اس بین العقائد افطار ڈنر سے دنیا کو یہ پیغام جانا چاہئیے کہ ملک بیٹھ کر ، باہمی افہام و تفہیم سے نہ صرف ہم اس دنیا کو امن کو گہوارہ بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی اجتماعی ترقی کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں ۔

 


 

بین العقائد افطار ڈنر کا آغاز دنیائے اسلام کی ممتاز شخصیت ، زینت القراءقاری سید صداقت علی کی جانب سے قران مجید کی تلاوت اور ترجمے سے کیا گیا ۔تقریب میں قاری سید صداقت کے علاوہ ہندو پجاری، عیسائی ریورنڈ، یہودی ریبائی سمیت مختلف عقائد کی اہم مذہبی شخصیات نے بھی اپنے اپنے انداز میں دعائیہ سروس کروائی ۔ تقریب میں امریکہ کے دورے پر آئیں رکن قومی اسمبلی بیگم شکیلہ لقمان چوہدری سمیت مختلف کمیونٹیز کی اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔افطار ڈنر میں سٹیٹ سینیٹر پیٹر بارنز، سینیٹر سیم تھامپسن، اسمبلی ویمن نینسی پنکن، کاو¿نٹی شیرف ملڈریڈ سکاٹ ، فری ہولڈرز جیمز پولو، فری ہولڈر بلال بیسلے ، فرینکلن ٹاو¿ن شپ مئیر برائن لیوائن، سٹیٹ سینیٹر لنڈا گرین سٹائین، اسمبلی مین اوپندرا شیوکلا، اسمبلی مین پیٹرک ڈائیگن، فری ہولڈر چارلس ٹومارو، مئیر خیر اللہ سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی ۔
نظامت کے فرائض اجمل چوہدری اور سیم ابرار خان نے ادا کئے ۔
امریکن مسلم کونسل اور پاکستانی امریکن کونسل کی جانب سے مختلف کمیونٹیز کی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے اور بین العقائد ہم آہنگی کو فروغ دینے میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں خصوصی شیلڈز پیش کی گئیں اور ان کی خدمات کو سراہا گیا۔
بین العقائد افطار ڈنر سے احشام ایل میلگی، سیمی کٹووک ، پروفیسر محمد نقوی اور بیگم شکیلہ لقمان نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے دین اسلام اور اس کی تعلیمات کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور اس امر پر دیا گیا ہے کہ ایک انسان کی زندگی بچانا پوری انسانیت کو بچانے اور ایک انسان کا بے جا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے ۔ مقررین نے کہا کہ امریکہ ایک عظیم ملک ہے اور یہاں کی مذہبی آزادی سمیت اعلیٰ اقدار کی بدولت ہم یہاں جس اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کررہے ہیں ، اسے دوسروں کو ایک مثال سمجھنا چاہئیے ۔
یہودی ریبائی، عیسائی ریور اور ہندو پجاری نے بھی اپنے خطابات میں امن ، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے سیم ابرار خان سمیت مسلم امریکن اور پاکستانی امریکن کونسلز کی خدمات اور کوششوں کو شاندار الفاظ میں سراہا ۔انہوں نے کہاکہ امریکہ ایک ڈائیورس معاشرہ ہے اور یہاں بسنے والی کمیونٹیز و ایک دوسرے کے قریب آکر ایک دوسرا کو زیادہ سے زیادہ سمجھنا چاہئیے ۔

 


 

سیم ابرار خان، اجمل چوہدری اور شیخ توقیر الحق نے کہا کہ مسلم امریکن کونسل اور پاکستانی امریکن کونسل بین العقائد ڈائیلاگ اور ہم آہنگی کی کوششوں کو مستقبل میں بھی جاری رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمارا وطن ہے ، یہاں ہم اور ہماری موجودہ اور آنیوالی نسلیں پروان چڑھ رہی ہیں ۔ہمیں ملکر اپنے حال اور مستقبل کے لئے ہمیشہ کوشاں رہنا چاہئیے ۔ انہوں نے افطار ڈنر میں شریک تمام اہم شخصیات ، مذہبی رہنماو¿ں ، منتخب قائدین سمیت شرکاءکا شکرئیہ ادا کیا ۔
مسلم امریکن کونسل کے صدر شیخ توقیر الحق نے اپنے خطاب کے دوران غزہ میں جاںبحق ہونے والے بے گناہ افراد بالخصوص بچوں ، خواتین اور بزرگوں کی ہلاکتوں کے سوگ میں سب مہمانان اور شرکاءسے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کی جس پر سب شرکاءنے کھڑے ہو کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی ۔
افطار ڈنرکے موقع پر شرکاءنے قاری سید صداقت علی کی امامت میں نماز مغرب بھی ادا کی۔

۔

 

تاریخ اشاعت : 2014-07-23 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock