قوم کو آج23مارچ1940سے بھی زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے؛ پاکستان لیگ آف امریکہ کے زیر اہتمام بروکلین میں یوم پاکستان کی پروقار تقریب

 

نیویارک (خصوصی رپورٹ ) قوم کو آج 23مارچ1940سے زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے ۔ ہمیں یوم پاکستان اس عزم اور عہد کے ساتھ منانا چاہئیے کہ ہم منظم اور متحد ہو کر اپنا کردار ادا کریں گے اور اپنے کردار سے ملک و قوم کا نام روشن کریں گے ۔ ان ملے جلے خیالات کا اظہار پاکستانی امریکن کمیونٹی کی اہم و نمائندہ تنظیم پاکستان لیگ آف امریکہ کے زیر اہتمام یہاں رائل بینکوئٹ ہال ، بروکلین میں یوم پاکستان کی پروقار تقریب سے خطاب کے دوران مقررین نے کیا۔
عین الحق کی صدارت میں منعقد ہونیوالی تقریب میں لیگ کے قائمقام چئیرمین ڈاکٹر تجمل گیلانی، ڈاکٹر شفیع بیزار سمیت لیگ کے دائریکٹرز و عہدیداران ، نیویارک میں پاکستان کے نئے قونصل چوہدری آفتاب اور امریکہ کے دورے پر آئے میر خلیل الرحمان فاو¿نڈیشن کے چئیرمین اور تحریک پاکستان کے کارکن ارشد صابری نے خصوصی شرکت کی ۔تقریب کی نظامت کے فرائض پاکستان لیگ آف امریکہ کے سینئر نائب صدر میاں فیاض نے ادا کئے ۔شبیر گل نے تلاوت قران مجید کے علاوہ حمد باری تعالیٰ پڑھنے کی سعادت حاصل کی جبکہ سجاد بٹ نے بارگاہ رسالت ﷺ میں ہدئیہ عقیدت پیش کیا۔کمیونٹی کی معروف شاعرہ صبیحہ صبا نے پاکستان کے حوالے سے اپنی نظم پڑھی اور خوب داد وصول کی ۔ معروف دانشور اور کالم نویس نے 23مارچ کے حوالے سے خصوصی مقالہ پڑھا اور قرار داد پاکستان ک اغراض و مقاصد ،تاریخی پس منظر اور اس کے مختلف اہم پہلوو¿ں پر نہایت فکر انگیز انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم کی رحلت بعد کھوٹے سکوں نے ان کے خدشات کو سچ ثابت کیا ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ 23کی قرار داد کو من مرضی کے معنی دینے کی کوشش کرتے ہیں، ان کوناکام بنانا ہوگا۔
تقریب میں امریکہ میں موجود پاکستان کی مختلف اہم سیاسی جماعتوں کے چیپٹرز کے اہم عہدیداروں ، ارکان کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کی اہم شخصیات اور ارکان نے شرکت کی ۔ تقریب میں پاکستان کے مشہور فنکار اسد عباس نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔
لیگ کے صدر عین الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان لیگ آف امریکہ ایسا پلیٹ فارم ہے کہ جس پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کی اہم و نمائندہ شخصیات اور ارکان ایک جگہ پر اکٹھے ہیں ۔ہمیں اسی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ ہر سطح بالخصوص کمیونٹی میں کرنا چاہئیے اور یہی یوم پاکستان منانے کا تقاضہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ مقاصد کبھی فراموش نہیں کرنے چاہئیے کہ جن کے حصول کے لئے وطن عزیز پاکستان قائم کیا گیا تھا۔
لیگ کے قائمقام چئیرمین ڈاکٹر تجمل حسین گیلانی نے کہاکہ ہمیں یوم پاکستان کو یوم تجدید عہد کے طور پر منانا چاہئیے اور جو غلطیاں ہوئیں ، ان کو مانتے ہوئے ان کا ازالہ کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان والے ہم سے جدا نہیں ہوئے بلکہ ہم نے انہیں الگ کیا۔ ہمیں ان سے اپنی ہر غلطی کی معافی مانگنی چاہئیے ۔آج کل بلوچستان میں بسنے والے ہم وطنو کے گلے شکوے سامنے آرہے ہیں۔ ان گلے شکووں کو بلاتاخیر دور کرنا چاہئیے ۔انہوں نے کہاکہ تھر اور چولستان میں قحط کے جو بھی ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف ہر ممکن کاروائی کرنی چاہئیے ۔ پاکستان سب کا ملک ہے اور اس پر سب کا برابر حق ہے ۔
پاکستان لیگ آف یو ایس اے کے سینئر نائب صدر اور تقریب میں نظامت کے فرائض دینے والے میاں فیاض نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے ہم وطنو کی نسبت اوورسیز پاکستانی نہ صرف دن رات محنت کرتے ہیں بلکہ ان کے دلوں میں وطن کی محبت اور تڑپ ہر وقت نمایاں نظر آتی ہے ۔وطن سے ہزاروںمیل دور ہونے کے باجود پاکستان ، اوورسیز پاکستانیوں کے دلوں میں بستا ہے ۔ میاں فیاض نے مزید کہا کہ پاکستان لیگ آف امریک کے پلیٹ فارم پر ہمیں اسی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئیے کہ جس کا ہمارے آباو¿ اجداد نے قراداد پاکستان کے موقع پر کیا۔
میر خلیل الرحمن فاو¿نڈیشن کے چئیرمین اور تحریک پاکستان کے رکن ارشد صابری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں پاکستانیوں کی وطن سے محبت اور جوش و خروش دیکھ کر نہایت خوشی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک فیشن ہے کہ قیام پاکستان کے بعد آنیوالی ملکی و قومی قیادتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہہ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے ملک و قوم کے لئے کچھ نہیں کیا۔قائد اعظم کی رحلت کے بعد ان قیادتوں نے جس حد تک ممکن ہوا، اپنا کردار ادا کیا اور پاکستان کا ایٹمی وقت بننا اس کی سب سے بڑی مثال ہے ۔البتہ بہتری کی ہمیشہ گنجائش موجود رہتی ہے اور رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ مسلمان وہ قوم ہیں کہ جنہیں جتنا دبایا جائے ، اتنا ہی زیادہ یہ ابھر کر سامنے آتی ہے ۔
نیویارک میں پاکستان کے نئے قونصل چوہدری آفتاب نے کہا کہ قرارداد پاکستان کے پیچھے پوری ایک تاریخ، محرکات اور اسباب تھے جن کہ وجہ سے مسلمان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے اور انہوںنے الگ وطن کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آج اتحاد و اتفاق کی زیادہ ضرورت ہے ۔ متحد ہو کر ہی ہم اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں ۔چوہدری آفتاب نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ہی ملک و قوم کے اصل سفیر ہیں، ہم تو یہاں ان کی خدمت کے لئے موجود ہیں ۔
پاکستان لیگ آف امریکہ کے ڈاکٹر شفیع بیزار نے کہا کہ قرار داد پاکستان 24مارچ1940کو منظور ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے اغراض و مقاصد اور آنیوالی نسلوں کی اس کے تاریخی پس منظر سے آگاہی کو یقینی بنانا چاہئیے۔ڈاکٹر بیزار نے کہا کہ برصغیر میں دو قومی نظرئیہ کے بانی سر سید احمد خان تھے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان لیگ آف امریکہ ایک پلیٹ فارم ہے جس پر پوری کمیونٹی کو متحد ہر کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے ۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) یو ایس اے کے صدر روحیل ڈار نے کہاکہ قائد اعظم محمد علی جناح کے اصول اتحاد ، تنظیم ، یقین محکم قوم کا نصب العین ہونا چاہئیے ۔اتحاد و تنظیم کے فقدان کی وجہ سے ہم بحرانوں کا شکار ہوئے اور انہی اصولوں پر عمل کرکے ہم داخلی و خارجی بحرانوں سے نکل سکتے ہیں ۔روحیل ڈار نے کہاکہ سانحہ مشرقی پاکستان میں دو قومی نظرئیہ کا نہیں ہمارا اپنا قصور تھا۔
عوامی نیشنل پارٹی امریکہ کے صدر تاج اکبر نے کہا کہ ایک آزاد وطن اور مملکت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد ہمارا ایک بازو کٹ گیا، ہمیں سوچنا چاہئیے کہ ایسا کیوں ہوا؟انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔
تقریب کے آخر میں پاکستان کے معروف فنکار اسد عباس نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور حاضرین سے خو ب داد وصول کی ۔



تاریخ اشاعت : 2014-03-29 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock