مسلم امریکن کمیونٹی میں  فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فروغ؛ امام الخوئی سنٹر،نیویارک میں خصوصی مجلس مذاکرہ

 

 

نیویارک (محسن ظہیرسے) مسلم امریکن کمیونٹی میں اتحاد و یگانگت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں اضافہ کے سلسلے میں امام الخوئی سنٹر ، کوینز، نیویارک میں خصوصی مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی جس میں نیویارک، واشنگٹن ڈی سی اور برطانیہ کے مختلف اسلامک سنٹرز اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی علماءکرام اور سکالرز نکول کورائے، امام شمسی علی(جمیکا سلامک سنٹر) ، شیخ فاضل السہلانی(امام الخوئی سنٹر)، امام طاہر کوکیکی(البینین اسلامک سنٹر، سٹیٹن آئی لینڈ، نیویارک)، مولانا انور علی(نیویارک) ،برادر حسین ال نشید (برطانیہ)،شیخ عبدالجلیل (واشنگٹن ڈی سی )اور امام احمد دوئیداد(مڈ ٹاو¿ن اسلامک سنٹر ، نیویارک سٹی )نے شرکت کی۔ انہوں نے کہاکہ اتحاد ویگانگت اور ہم آہنگی کوئی آپشن نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ پینل ڈس کشن میں نظامت کے فرائض میثم علی نے انجام دئیے
مجلس مذاکرہ کا عنوان” اتحاد؛ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فروغ “رکھا گیا تھا ۔ نیویارک میں ہونیوالی اس خصوصی مجلس مذاکرہ میں شریک تمام سکالرز نے اس امر پر اتفاق کیا کہ قطع نظر اس امرکے کہ ہم کتنے مضبوط یا کمزور ہیں، محاذ آرائی اور تقسیم کی صورت میں ناکام ہونگے لہٰذا اتحاد کے راستے تلاش کرکے آگے بڑھنا چاہئیے ۔
جمیکا اسلامک سنٹر کے امام شمسی علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس وقت شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جب دوسرے کہتے ہیں کہ مسلم ورلڈ یا مسلم امہ کو باہمی اختلافات اور اپنے گھر کو پہلے ٹھیک کرنا چاہئیے ۔ہم اپن اپنی اناو¿ں اور اکٹر کی وجہ سے اپنی غلطیوں کو درست نہیں کرتے ۔انہوںنے کہاکہ مذہب کو سیاسی رنگ دینا بھی منع ہے ۔انہوںنے کہا کہ اسلام کا پیغام دوسروں کے ساتھ مل بیٹھنا ہے نہ کہ دوسروںکےلئے باعث پریشانی بننا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہوکر اپنا کردار ادا کرنے کے لئے جرات کی ضرورت ہے اور اس جرات کا ہمیں مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تنوع(diversity)کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔تنوع قدرت نے پیدا کیا ہے ۔ امام شمسی علی نے کہا کہ ہمارا مشترکہ دشمن غربت ، جہالت اور تشدد ہے ، ہمیں اس دشمن کا ملکر مقابلہ کرنا ہوگا اور ایسا اسی وقت ممکن ہے کہ جبہم متحد ہونگے ۔
ڈائریکٹرامام الخوئی اسلامک سنٹر شیخ فاضل السہلانی نے کہا کہ ہم میں مسائل موجود ہیں، اختلافات بھی ہیں۔ان سے انکار کرنا ایسے ہی ہے کہ جیسا دن ہو اور ہم اسے رات قرار دیں ۔امت مسلمہ ستر سے زائد فرقوں می تقسیم ہے اور ہر فرقے میں مزید ذیلی فرقے اور گروپ بنے ہوئے ہیں ۔ہر ایک کا ماننا ہے کہ وہ صحیح ہے اور باقی سب غلط ہیں ۔ان گروہوں کو آپس میں اکٹھا کرنا مشکل اور بعض کے نزدیک ناممکن ہے ۔ لیکن اگر غور کریں تو ایک شعبہ جس میں ہم سب میں کوئی اختلاف نہیں ، وہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ اور عزت کرنا ہے ۔اگر ہم اعلیٰ اخلاقیات اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دیں گے تو ایکدوسرے کے ساتھ اچھی طرح رہ سکتے ہیں۔ لہٰذا اس آسان طریقے پر عمل کرکے آگے بڑھنا چاہئیے ۔
سسٹر نکول کورائے نے کہا کہ انسان کا مطلب معاف کرنے والا ، ایک دوسرے کے ساتھ ملکر رہنے والا ہے ۔ انسان میں قدرت نے ہم آہنگی کا پوٹینشل پیدا کیا ہے ۔ ہماری مساجد اور سنٹرز اس انسانی خاصے کی اہمیت کا احساس نہیں کرتے ۔ہماری مساجد کو اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ کا بنیادی ذریعہ بننا چاہئیے ۔ مساجد کو دینی مرکز کے علاوہ سیکھنے کا ایک مرکز بھی ہونا چاہئیے ۔
امام شیخ عبدالجلیل (واشنگٹن ڈی سی ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج امت کو جتنے اتحاد کی ضرورت ہے ، اس سے پہلے شاید کبھی نہ تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقے میں نہ پڑو۔ہمیں اللہ کے حکم پر عمل کرنا ہے ۔ اسلام اتحاد و یگانگت کا مذہب ہے ۔ نماز اور نماز کے ہر رکوع، سجدے اور قیام میں بار بار واضح کیا جاتا ہے کہ ہم سب ایک اور یکسا ں ہیں ۔ اعلیٰ تقویٰ پر زور دیا گیا ہے اور ہمیں بھائی چارے کی تعلیم دی گئی ہے ۔ہمیں اتحاد و اخوت کو بنیاد بنانا ہے اور ایسا ہم تقویٰ اختیار کرکے کر سکتے ہیں ۔ تقویٰ اختیار کرنے کے بعد ہمیں ایک دوسرے کی سلامتی کے لئے دعا کرنی چاہئیے ۔مزید براں کلمہ طیبہ ایک ایسی بنیاد ہے کہ جو ہم سب کو ایک جگہ جمع کردیتا ہے ۔
امام طاہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم خواہ کتنے ہی مضبوط یا کمزور ہوں ، محاذ رائی اور فرقہ وارانہ تقسیم کی صورت میں ہم مجموعی طور پر ناکام ہونگے ، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وہ طریقے ڈھونڈیں کہ جس سے متحد ہوں ۔انہوں نے کہا کہ ہم میں جرات ہونی چاہئیے کہ ہم اپنی اصلاح خود کریں اور اپنی غلطیوں کی خود نشاندہی کریں اور انہیں ٹھیک کریں ۔اگر ہم انفرادی طور پر اپنی اپنی اصلاح کر لیں گے تو بہتر نتائج نکلیں گے ۔
مولانا انور علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک گلدستہ ہے ۔ گلشن اسلام کے مسلمان پھول ہیں ۔جب ہم اپنے باہمی اختلافات پر زور دیتے ہیں تو ایک دوسرے کو غلط قرار دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت ہم سب کو اکٹھی کرنے کا اہم ذریعہ ہے ۔ہم قران و سنت کے راستے پر چلنے کی بجائے ان راستوں کی اپنی اپنی تشریح کے چکرمیں پڑ جاتے ہیں ۔گذشتہ دو صدیوں میں کوشش کی گئی کہ نبی کریم ﷺ کی سنت کو ہماری زندگیوں سے دور کر دیا جائے ۔نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے ۔ہمیں سنت نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے اتحاد کے راستے پر آگے بڑھنا ہوگا۔بہت سے لوگ ہمیں آپس میں تقسیم اور لڑتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، ہم جب ان کو ناکام بنا دیں گے تو خود بخود کامیاب ہو جائیں گے ۔
برادر حسین ال نشید (برطانیہ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام فرقہ وارانہ تقسیم کو نہیں مانتا ۔مسلم امت کی تقسیم اسلام کا نہیں کسی اور کا ایجنڈا ہوسکتا ہے ۔ لہٰذا ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم کسی کے ایجنڈے پر عمل نہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے باہمی اختلافات ہیں ۔ ہمیں اس مسلہ کو باہمی طور پر دیکھنا چاہئیے ۔ اگر کوئی تیسرا اس میں آکر بات کرے تو اس صاف الفاظ میں کہہ دینا چاہئیے کہ یہ اس کا مسلہ نہیں ہے ۔ہمیں اپنے مذہب کا خود نمائندہ بننا ہے ۔ میڈیا میں مذہب کی نمائندگی ضروری ہے ۔ میڈیا میں اہم اپنی نمائندگی موثر انداز نہیں کریں گے تو کوئی اور ہماری اپنے انداز میں منظر کشی کردے گا۔ہمیں دین محمد ی ﷺ کے پرچم تلے متحد ہونا چاہئیے ۔
امام احمد ڈوئیداد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام الخوئی سنٹر میں ہونیوالی مجلس مذاکرہ ایک احسن کوشش ہے جس کو جتنا سراہا جائے کم ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ایسے سلسلے جاری رکھنے چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ اعلان کیا کہ ہم آہنگی اور اتحاد و یگانگت کے مسلہ پر آئندہ اجلاس وہ نیویارک سٹی میں واقع اپنے اسلامک سنٹر میں منعقد کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکی میں صرف مسلم امریکن کمیونٹی کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لئے ایک مثال بننا ہے ۔
آخر میں خصوصی دعاکروائی گئی اور امام الخوئی سنٹر اور منتظمین کی جانب سے تمام شرکا ءبالخصوص سکالرز اور امام صاحبان کا شکرئیہ ادا کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔

 

تاریخ اشاعت : 2014-03-08 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock