صحافی ندیم منظور سلہری کی کتا ب ”عالمی تحریروں کا انسائیکلو پیڈیا “ منظر عام پر آگئی، ندیم سلہری نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا



نیا کے ممتاز سکالرز ، ریسرچرز اور تھنک ٹنک کے ارکان کی اہم ترین عالمی موضوعات پر لکھی گئی رپورٹس، تحاریر کا نہایت اچھا اور آسان فہم ترجمہ کرکے انہیں کتاب کی شکل میں مرتب کیا گیا ہے


 ندیم منظور سلہری نے وہ کام سرانجام دیا ہے جو کبھی گورنمنٹ کالج لاہور میں اس وقت کے پرنسپل اے کے سوندہی صاحب نے اپنی نگرانی میںسوسائٹی کے قیام سے شروع کیا تھا
 ندیم منظور سلہری خود نہ صرف ذوق مطالعہ رکھتے ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ علم کا یہ ذخیرہ دوسروں کے ہاتھ بھی آئے؛ پاکستان کے ممتاز سکالر ، سیاستدان و قانون دان ایس ایم ظفر


اس اہم تصنیف میں سلہری صاحب نے اردو قارئین کے لیے ریاستہائے متحدہ امریکہ اور دیگر ممالک کے نابغہ روزگار دانشوروں کی فاضلانہ تحریروں کو یک جا کردیا ہے


 ندیم منظور سلہری مجھے تو کھوجی بھی لگتے ہیں وگرنہ وہ اتنی عرق ریزی سے حساس ترین موضوعات پر اہم ترین مضامین کیسے ڈھونڈتے ؛ سہیل وڑائچ


 میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ننھا سا دیا جلادوں جو شاید روشنی کا مینارہ بن سکے ۔ اسی خیال کے پیش نظر میں نے اس کتاب کی صورت میں ایک سعی کی ہے؛ندیم سلہری

 


 

نیویارک(سپیشل رپورٹر سے ) پاکستانی امریکن معروف صحافی ندیم سلہری کی مرتب کردہ کتاب ”عالمی شہرت یافتہ تحریروں کا انسائیکلو پیڈیا “ شائع ہو کر امریکہ میں منظر عام پر آگئی ہے ۔ 480صفحات پر مشتمل اس کتاب کو علم و عرفان پبلشر لاہور نے شائع کیا ہے ۔ کتاب کے اکاون ابواب میں دنیا کے ممتاز سکالرز ، ریسرچرز اور تھنک ٹنک کے ارکان کی اہم ترین عالمی موضوعات پر لکھی گئی رپورٹس، تحاریر کا نہایت اچھا اور آسان فہم ترجمہ کرکے انہیں کتاب کی شکل میں مرتب کیا گیا ہے ۔


پاکستان کے ممتاز سکالر ، سیاستدان و قانون دان ایس ایم ظفرنے ”علم کا ذخیرہ “ کے عنوان سے کتاب کے سرورق کے پچھلے حصے پر لکھی گئی اپنی خصوصی تحریک میں کہا کہ ندیم منظور سلہری نے وہ کام سرانجام دیا ہے جو کبھی گورنمنٹ کالج لاہور میں اس وقت کے پرنسپل اے کے سوندہی صاحب نے اپنی نگرانی میں(Sondi Translation society)کے نام سے شروع کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ دیگر زبانوں میں جو تحقیق اور موضوعات کا ذخیرہ ہے، اس سے طلباءواقف ہوں اور ایک اچھا ترجمعہ اپنی قومی زبان میں کرنے سے متعارف ہوجائیں ۔کالج کی یہ سوسائٹی اتنی کامیاب نہ ہوسکی جتنے کالج کے دیگر ادارے تھے لیکن آج ندیم منظور سلہری کی اس کتاب میں شامل مضامین کو جو مغرب کے مشہور معروف مصنفین کے تھے اور ہیں پڑھ کر خوشی ہوئی کہ اس کے ذریعے ہمارے ملک کے انگریزی سے ناواقف اور دلچسپی نہ لینے والوں کے لیے ایک نیا اور قابل مطالعہ مواد ان کے ہاتھوں میں ہوگا اور ان کے ذوق کی تسلی کا باعث ہوگا ۔کتابوں اور مضامین کا چناﺅ بتاتا ہے کہ ندیم منظور سلہری خود نہ صرف ذوق مطالعہ رکھتے ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ علم کا یہ ذخیرہ دوسروں کے ہاتھ بھی آئے ۔جب ان مضامین کا ہم اپنے اخباروں میں شائع مضامین اور کالموں سے موازنہ کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ابھی علم ابتداءمیں رہ رہے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے قارئین عام سیاست کو ہی سمجھ پارہے ہیں لیکن ان میں کوئی شعوری بہتری نہیں آرہی۔ایس ایم ظفر نے مزید کہا کہ مغرب میں ایسے ہزاروں لکھنے والے ہر روز ایک نا ایک نیا موضوع عوام کے ذہنوں کو جلا بخشنے کے لیے زیر بچث لاتے ہیں مغرب کی ترقی کا راز ہی علم ہے جس کی تلقین قرآن مجید کی پہلی وحی اور آیت میں ” اقرابسم ربی“کہہ کر کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب میں نے چند جاپانی دانشوروں سے ان کے ملک کی ترقی کا راز جاننا چاہا تو انہوں نے بتایا کہ مغرب سے سائنس اور دیگر علوم کا اپنی زبان میں ترجمہ کرنے سے ہمارے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کا رحجان بڑھا اور اب کوئی بھی نئی کتاب جو اہمیت رکھتی ہوہم فوراً اس کا ترجمہ اپنی زبان میں کرڈالتے ہیں۔ایس ایم ظفر نے مزید کہا کہ ندیم سلہری نے ان مضامین کا قومی زبان میں بڑا ہی سلیس اور قابل فہم ترجمہ کرکے نہایت اہم فریضہ ادا کیا گیا ہے اور بڑے مستند مصنفین سے ہمارے قارئین کو متعارف کروایا گیا ہے ۔بہت ساری قابل مطالعہ کتابوں اور مضامین کے ترجمے کے لیے ہمارے ہاں ایک ” ادارے “ کی ضرورت ہے جس کی بنیاد سلہری صاحب کو رکھنی ہوگی جو کام سوندہی ترجمہ سوسائٹی نے شروع کیا تھا اس کو ایک نئی سطح سلہری صاحب نے دی ہے۔


پاکستان کے ممتاز صحافی، جیو ٹی وی کے اینکر پرسن اور متعدد کتابوں کے مصنف سہیل وڑائچ نے ”ندیم منظور سلہری کی کاوش اور پاکستانی شعور“ کے موضوع پر کتاب کے لئے لکھی گئی اپنی خصوصی تحریر میں کہا کہ ندیم منظور سلہری نے اس کا م کا بیڑا اٹھایا ہے جس کی پاکستان کو اشد ضروری ہے اوروہ کام ہے دنیا بھر کی عقل و دانش کو پاکستانیوں کے لیے عام کرنا اس اہم تصنیف میں سلہری صاحب نے اردو قارئین کے لیے ریاستہائے متحدہ امریکہ اور دیگر ممالک کے نابغہ روزگار دانشوروں کی فاضلانہ تحریروں کو یک جا کردیا ہے ۔یہ ایک ایسا خزانہ ہے جس سے پاکستانی اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرسکتا ہے ۔دوسروں کی غلطیوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر وہ یہ مضامین پڑھ کر اپنی حکمت عملی بناسکتا ہے ۔عام قارئین دنیا کے بہترین دماغوں کی سوچ جان سکتے ہیں۔ مستقبل کا نقشہ پہچان سکتے ہیں ۔مضامین کا یہ انتخاب اس قدر خوب ہے کہ اس کو پڑھ کر ہر کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کہ اسے عالمی سیاست کے نشیب و فراز کا علم ہے ۔


سہیل وڑائچ نے کہا کہ ندیم منظور سلہری مجھے تو کھوجی بھی لگتے ہیں وگرنہ وہ اتنی عرق ریزی سے حساس ترین موضوعات پر اہم ترین مضامین کیسے ڈھونڈتے سبھی موضوعات ایسے ہیں جو آج کی دنیا کے لیے موزرڈ ترین ہیں موضوعات کا تتوع بھی اس کا م کی اہمیت دو چند کردیتا ہے ۔عالمی اقتصادیا ت،جمہوریت مستقبلیات، بین الاقوامی جنگی ٹیکنالوجی، تہذیبوں کی لڑائی، ایٹم بم کا اخلاقی جواز و تاریخ طالبان امریکہ اور افغانستان سمیت وہ ایشوز ہیں جو موضوع بحث لائے گئے ہیں ۔ندیم منظور سلہری کی محنت کی جھلک جگہ جگہ نظر آرہی ہے ۔ البتہ اس محنت کا ثمر تو تبھی ملے گا اگر اس کتاب کو پڑھ کر پاکستان کی پالیسیوں میں کوئی بہتری آئے ۔ شعور کی سطح بلند ہو علم و آگہی کے نئے سوتے پھوٹیں اور یہاں بھی اسی طرح کی فاضلانہ تحریریں لکھی جائیں ۔


ندیم منظور سلہری نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میں کہا کہ امریکہ میں طویل عرصے سے قیام کے باوجود وطن سے میرا رابطہ صحافتی میدان میں ہمیشہ قائم رہا بلکہ اس بات کا بھی احساس ہوا کہ جدائی محبت کو آنچ دینے کے لیے ضروری ہے۔ اس دوران صحافت و سیاست سے وابستہ افراد سے گفتگو کے دوران اس بات کا شدت سے احساس رہا کہ ہماری پالیسی سازی میں کہیں نہ کہیں کچھ ایسی کمی یا کوتاہی ضروری ہے جو صحیح رخ کے تعین میں رکاوٹ بنتی چلی آرہی ہے اور ہم مسلسل پٹری سے اترتے چلے جارہے ہیں۔ میں خدمت وطن کے جذبے سے سرشار تو ضرور ہوں لیکن نہ تو اس مقام پر ہوں جہاں میری گفتگو اثر انداز ہوسکے اور نہ ہی ان صلاحیتوں سے مالا مال ہوں کہ نئی راہوں کا تعین کرواسکوں۔ تب میری توجہ اس جانب مبذول ہوئی کہ کیوں نہ ایک ننھا سا دیا جلادوں جو شاید روشنی کا مینارہ بن سکے ۔ اسی خیال کے پیش نظر میں نے اس کتاب کی صورت میں ایک سعی کی ہے تاکہ ہمارے اہل دانش اور بطور خاص پالیسی میکرز اس طرح متوجہ ہوں اور وہ جان سکیں کہ امریکی پالیسی ساز ادارے دنیا کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور امریکی حکومت ان رپورٹوں کی روشنی میں کس طرح اپنی پالیسیاں وضع کرتی ہے ۔


تاریخ اشاعت : 2015-05-06 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock