پاکستان میں وہ دن گئے کہ جب ایک فوجی حکمران کی بات ملک و قوم کا فیصلہ بن جاتی تھی ؛ جلیل عباس جیلانی

بطور سفیر پاک امریکہ معاشی ، تجارتی ودفاعی تعلقات کا فروغ میری ترجیحات ہیں ، حتیٰ الامکان کوشش کرونگا کہ کمیونٹی سے اپنے قریبی تعلقات استوار رکھوں کیونکہ کمیونٹی ہماری طاقت ہے


 ہمیں اپنے بچوں کو روز اول سے یہ بات بتانی چاہئیے کہ دھرتی بھی ماں ہوتی ہے اور اس ماں کی عزت و احترام لازم ہے ۔ آج ہم جو کچھ بھی ہیں ، وہ اپنی دھرتی ماں پاکستان کی وجہ سے ہیں


پاکستان میں وہ دن گئے کہ جب کسی فوجی حکمران کی بات کو پورے ملک کا فیصلہ قرار دیدیا جاتا تھا، اب ملک میں قومی و ریاستی ادارے ، سول سوسائٹی، آزاد میڈیا و عدلیہ سب اپنا کردار ادا کررہے ہیں


چند سال قبل پاک امریکہ تعلقات بہتر نہیں تھے، اب ان تعلقات میں ہر آنیوالے دن میں اضافہ ہو رہا ہے، باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دینا ہوگا؛سفیر جلیل عباس جیلانی


واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفیر جلیل عباسی جیلانی کا شکاگو میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی معروف سماجی و کاروباری شخصیت اختر علی کے استقبالیہ سے خطاب،کمیونٹی کی اہم شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت
ڈاکٹر سرفراز نیازی نے سفیر جلیل عباس جیلانی کو شکاگو آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سفارتی شعبے میں ان کا طویل کیرئیر ہے اور خدمات قابل ستائش ہیں


استقبالیہ میں قونصل جنرل فیصل نیاز ترمذی، ویلج آف برج کے مئیر مکی سٹرب ،ڈاکٹر سرفراز اے نیازی سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کی اہم شخصیات کی شرکت

 


 

شکاگو(محسن ظہیر، ندیم ملک سے )امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں وہ دن گئے کہ جب کوئی فوجی حکمران ایک بات کرتا تھا اور وہی فیصلہ ہوتا تھا۔ آج پاکستان میں ایک جمہوری دور ہے ، ادارے اپنا اپنا کام موثر انداز میں کررہے ہیں،میڈیا اور عدلیہ کی آزادی کی وجہ سے ہر ایک کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں پاکستانی امریکن کمیونٹی شکاگو کی معروف سماجی شخصیات اختر علی کی جانب سے دئیے گئے استقبالیہ سے خطاب کے دوران کیا ۔
پاک امریکہ تعلقات کے بارے ایک سوال کے جواب میں جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ میں امریکی انتظامیہ اور کانگریس کے ارکان و نمائندوں سے مسلسل رابطے میں رہتا ہوں اور ان کے ساتھ اہم امور پر تبادلہ خیال کرتا ہوں جن کے مثبت نتائج برامد ہوتے ہیں ۔بعض اوقات بعض ارکان کانگریس سے ملاقات کے دوران بعض منفی باتیں بھی سننے میں ملتی ہیں ۔میں سمجھتا ہو ں کہ ان کے روئیوں یا سوچ میں منفی پن کی ایک وجہ ان ارکان کانگریس کو دی جانیوالی وہ بریفنگ بھی ہیں کہ جو انہیں اس وقت دی گئیں کہ جب شاید پاک امریکہ تعلقات اچھے نہیں تھے ۔میں جب ارکان کانگریس سے ملتا ہوں تو انہیں کہتا ہوں کہ آپ کو پاکستان سے شکایات ہیں ، پاکستان کو بھی آپ سے شکایات ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شکایات کرنے والے مرحلے سے آگے گذریں اور باہمی اعتماد کو جس حد تک ممکن ہو فروغ دیں ۔میں ملاقاتوں میں یہ بات بھی کرتا ہوں کہ گذشتہ صدی میں امریکہ کی خارجہ پالیسی نے جو سب سے بڑا ہدف یا کامیابی حاصل کی ، وہ سوویت یونین کو شکست دینا تھاجو کہ پاکستان کے تعاون اور مدد کی وجہ سے ممکن ہوا۔یہ وہ حقیقت ہے کہ جو امریکی عوام کو بھی بار بار بتانی چاہئیے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کو باہمی اعتماد کو بڑھاتے ہوئے تعلقات کو فروغ دینا ہوگا۔دوسری بات میں امریکیوں سے ملاقات میں کہتا ہوں کہ ہم ایک بالکل نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں ۔
 پاکستانی امریکن کمیونٹی شکاگو کی معروف سماجی و کاروباری شخصیت اختر علی نے امریکہ میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی کی اپنی تعیناتی کے بعد پہلی بار شکاگو آمد پر اپنی رہائشگاہ پر ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا جس میں قونصل جنرل فیصل نیاز ترمذی، سفیر کے بڑے بھائی جاوید جیلانی ، ویلج آف برج کے مئیر مکی سٹرب ،ڈاکٹر سرفراز اے نیازی ، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف ، ایم کیو ایم ، آل پاکستان مسلم لیگ ،پاکستان نیشنل انٹریسٹ کونسل کے مقامی عہدیداران سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کی اہم شخصیات اور ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اختر علی نے اپنی اور پوری کمیونٹی کی جانب سے سفیر جلیل عباس جیلانی کو شکاگو آمد پر خوش آمدید کہا جبکہ سفیر جیلانی نے کمیونٹی کی ملک و قوم کے لئے خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔

 


 

سفیر جلیل عباس جیلانی نے مزید کہا کہ میرے لئے واشنگٹن ڈی سی میں بطور سفیر خدمات انجام دینا کسی اعزاز سے کم نہیں کیونکہ میں مکمل طور پر ایک ٹرانسفارم ہوئے پاکستان کی نمائندگی کررہا ہوں ۔پاکستان میں گذشتہ چند سالوں میں نہایت اہم مثبت پیش رفت ہوئی ہیں ۔ میڈیا مکمل طور پر آزاد ہے ،سو سے زائد ٹی وی چینل ہیں، پانچ سو سے زائد اخبارات ہیں ۔پاکستان میں آزاد عدلیہ اہم ترین کردار ادا کررہی ہے، ہماری پارلیمنٹ موثر کردار ادا کررہی ہے ، جمہوریت مستحکم ہورہی ہے ، ایک جمہوری حکومت نے اپنی ٹرم مکمل کی اور پر امن طریقے سے اقتدار ایک سے دوسری جماعت کو منتقل ہوا۔
سفیر نے کہا کہ پاکستان میں حکومت توانائی، انتہائی پسندی، دہشت گردی، تعلیم اور معاشی ترقی سمیت اہم شعبوں پر بھرپور توجہ دئیے ہوئے ہے ۔انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، خواتین کے کردار کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے،ہماری پارلیمنٹ میں خواتین کی تیس فیصد نمائندگی ہے ۔گذشتہ گیارہ ماہ میں معاشی بہتری ہوئی ہے، بجٹ خسارہ میں کمی ہوئی ہے، جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ ہوا ہے ، افراط زر میں کمی ہوئی ہے، روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب میری واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بنک، آئی ایم ایف سمیت مالیاتی اداروں کے حکام سے بات ہوتی ہے تو وہ پاکستان کی معاشی پروگریس کو سراہتے ہیں۔آنیوالے مہینوں میں معیشت کے شعبے میں مزید ترقی ہو گی ۔
جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ ایک عرصے کے بعد انتہا پسندی اور دہشت گردی کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کےلئے ان چیلنجوں پر بھرپور توجہ مرکوز کی گئی ہے جس کا ہدف قو م کو ان مسائل سے نجات دلانا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں دہشت گردی تین دہائی پہلے ہونیوالی افغان جنگ کی وجہ سے آئی لیکن اچھی بات ہے کہ حکومت ان چیلنجوں سے نبر د آزما ہونے کے لئے ٹھوس اقدام کررہی ہے اور آج کی صورتحال یقینا کل سے بہتر ہے ۔مجھے کوئی شک نہیں کہ آنیوالے دنوں میں صورتحال میں مزید بہتری آئے گی ۔
پاکستان میں توانائی کے مسلہ پر بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ ہم تونائی کے شعبے میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کی مددپر ان کے مشکور ہیں ۔اس مدد کی وجہ سے ہم بار سو میگا واٹ بجلی اپنے نیشنل گرڈ میں شامل کر سکے ہیں ۔اسی طرح حکومت کی اپنی کوششوں کی وجہ سے نیشنل گرڈ میں سترہ سو میگا واٹ بجلی شامل ہوئی ہے ۔نیلم جہلم پراجیکٹ کی وجہ سے نو س میگا واٹ ،چین کی مدد سے شروع کئے جانیوالے نیوکلیر پراجیکٹ کی وجہ سے بائیس سو میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ دس جون کو عالمی بنک سات سو ملین ڈالرز کا قرض داسو ہائیڈل الیکٹرک پراجیکٹ کے لئے منظور کرے گاجس کی وجہ سے پنتالیس سو میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی ۔اسی طرح دیا میر بھاشا ڈیم کے منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے ۔
پاکستان میں تعلیم کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ حکومت کا ارادہ تعلیم کا بجٹ دوگنا کرنے کا ہے ۔پاک امریکہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ گذشتہ کچھ سالوں کے دوران ہمارے تعلقات میں کچھ اتار چڑھاو¿ آئے ۔دو سال پہلے جب میں پاکستان کا سیکرٹری خارجہ تھا، اس وقت ہمارے امریکہ سے تعلقات اچھے نہیں تھے لیکن آج ان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور یہ تیزی سے فروغ پا رہے ہیں ۔ہر آنیوالے دن میں ان تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔صدر اوبامہ سے میری ملاقات اور اس ملاقات میں ہونیوالی بات چیت اوبامہ انتظامیہ کی پاکستان کے بارے میں مثبت پیش رفت کی عکاسی کررہی تھی ۔صدر اوبامہ نے مجھے کہاکہ پاکستان سے میرا سپیشل کنکشن ہے اور انہوں نے مجھے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ امید ہے مسٹر ایمبیسیڈر آپ کو میرے سپیشل کنکشن کا پتہ ہوگا۔میں نے کہا کہ بالکل مسٹر پریذیڈنٹ مجھے آپ کے سپیشل کنکشن کا علم ہے ۔اسی طرح میں نے اہم امریکی منتخب نمائندوں اور حکام سے ملاقاتیں کی ہیں جو کہ نہایت مثبت اور مفید رہی ہیں ۔جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ، انٹیلی جنس،افغانستان کے مسلہ سمیت پاک امریکہ معاشی تجارتی تعلقات کے فروغ پر پاک امریکہ تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے ۔وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے دورہ واشنگٹن ڈی سی کے دوران واضح انداز اور الفاظ میں پاکستان کی موجودہ حکومت کی پالیسی بیان کر دی تھی کہ پاکستان امداد کی بجائے دنیا سے تجارت چاہتا ہے ۔پاکستان کو امریکی منڈیوں تک رسائی دی جائے اور اگر رعایتیں دی جائیں تو پاکستان کو مالی امداد کی ضرورت نہیں رہے گی ۔
جلیل عباسی جیلانی نے کہا کہ بطور سفیر پاک امریکہ معاشی ، تجارتی ودفاعی تعلقات کا فروغ میری ترجیحات ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں جتنا عرصہ امریکہ میں رہونگا میں حتیٰ الامکان کوشش کرونگا کہ کمیونٹی سے اپنے قریبی تعلقات استوار رکھوں کیونکہ کمیونٹی ہماری طاقت ہے ۔عہدہ سنبھالنے کے بعد میں نے تمام قونصل جنر ل اوت ٹریڈ قونصلرز کا اجلاس بلایا۔انہیں وزیر اعظم نواز شریف کا پیغام دیا کہ ہمارا کام امریکہ میں مقیم کمیونٹی کی جس حد تک ممکن ہو مدد کرنا ہے ۔
سفیر نے مزید کہا کہ میں امریکی حکام سے ملاقات میں باہمی اعتماد کے فروغ پر زور دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ پاکستان کی خدمات کا بھی واضح الفاظ میں اعتراف کریں ۔جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ پاکستانی امریکن کمیونٹی ارکان کو بھی امریکی منتخب نمائندوں سے ملاقات کے دوران انہیں پاکستان کے بارے میں جس حد تک ممکن ہو، مثبت اور تعمیری فیڈ بیک دینا چاہئیے ۔
جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو روز اول سے یہ بات بتانی چاہئیے کہ دھرتی بھی ماں ہوتی ہے اور اس ماں کی عزت و احترام لازم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم جو کچھ بھی ہیں ، وہ اپنی دھرتی ماں پاکستان کی وجہ سے ہیں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کا روشن اور تابناک مستقبل ہے اور اپنے مستقبل کو کامیاب سے کامیاب ترین بنانے میںہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے ۔


تاریخ اشاعت : 2014-05-28 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock