نیویارک میں اکنا ریلیف کی تاریخ کا سب سے بڑا فنڈ ریزنگ ڈنر 

فنڈ ریزنگ میں اسلام کے خلاف فلم بنا نے کے بعد اسے اپنی غلطی ماننے اور اسلام قبول کرنیوالے مسٹر آرنوڈ وین ڈورن کی عدم شرکت کے باوجود آٹھ سو اہم شخصیات اور ارکان نے شرکت کی
 فند ریزنگ ڈنر میں اکنا کے امیر نعیم بیگ نے شرکاءکو بتایا کہ بعض نا معلوم وجاہات کی بنیاد پر ہالینڈ سے مسٹر آرنوڈ وین ڈورن ، اکنا ریلیف کی تقریبات میں شرکت کے لئے امریکہ نہیں پہنچ سکے
 اکنا ریلیف امریکہ میں ویمن شیلٹر ہوم، متاثرین قدرتی آفات کی مدد، بیک ٹو سکول، فیملی سروسز، فوڈ پینٹریز اور حلال کچن سمیت مختلف اہم پروگرامز جاری رکھے ہوئے ہے
تقریب سے اکنا کے امیر نعیم بیگ، نوجوان سکالرزوصام شریف ،ڈاکٹر فرحان نے بھی خطاب کیا جبکہ شیخ محمد حسن نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ، ایک لاکھ 40ہزار ڈالرز کی فنڈ ریزنگ
 اکنا ریلیف نہ صرف اپنوں کی مدد کرتی ہے بلکہ دوسروں کے بھی کام آتی ہے اور مسلہ کا حصہ بننے کی بجائے اس کے حل میں حصہ دار بنتی ہے ۔ یہ وہ کردار اور کام ہے کہ جس کی وجہ سے ملک بھر میں ہمارا انفرادی اور اجتماعی طور پر نام سربلند ہوتا ہے



 

نیویارک (محسن ظہیر سے ) مسلم امریکن کمیونٹی کی نمائندہ تنظیم اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ ریلیف (اکنا ریلیف) کے زیر اہتمام جاری مختلف اہم فلاحی و امداد ی پروگراموں اور منصوبو ں کے لئے منعقد کیا جانیوالا فنڈ ریزنگ ڈنر اکنا ریلیف کی تاریخ کا سب سے بڑا فنڈ ریزنگ ڈنر ثابت ہوا جس میں اسلام کے خلاف فلم بنا نے کے بعد اسے اپنی غلطی ماننے ، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر اسلام قبول کرنے والے مسٹر آرنوڈ وین ڈورن کی عدم شرکت کے باوجود مسلم امریکن کمیونٹی کی آٹھ سو اہم شخصیات اور ارکان نے شرکت کی جن میں بڑی تعداد خواتین کی تھی ۔

 


فند ریزنگ ڈنر میں اکنا کے امیر نعیم بیگ نے شرکاءکو بتایا کہ بعض نا معلوم وجاہات کی بنیاد پر ہالینڈ سے مسٹر آرنوڈ وین ڈورن ، اکنا ریلیف کی تقریبات میں شرکت کے لئے امریکہ نہیں پہنچ سکے تاہم مسٹر وین ڈورن نے کہا کہ جب بھی موقع ملا ، وہ نیویارک(امریکہ ) آئیں گے ۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اکنا ریلیف امریکہ میں ویمن شیلٹر ہوم، متاثرین قدرتی آفات کی مدد، بیک ٹو سکول، فیملی سروسز، فوڈ پینٹریز اور حلال کچن سمیت مختلف اہم پروگرامز جاری رکھے ہوئے ہے اور انہی پروگرامز اور دیگر منصوبوں کےلئے نیویارک میں فند ریزنگ کی گئی جس میں ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالرز کے فنڈز جمع ہوئے ۔ اکنا ریلیف کے میڈیا اور کمیونیکیشن مینیجر معاوذ صدیقی کے مطابق بیشتر ڈونرز نے تقریب میں فنڈز اس استدعا کے ساتھ دئیے کہ ان کا نام کا اعلان نہ کیا جائے اور دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی یہ خدمت قبول فرمائیں ۔

 


 

فنڈ ریزنگ کی اس تاریخی تقریب میں اکنا ریلیف کی جانب سے مسلم امریکن کمیونٹی کی مختلف اہم تنظیموں اور شخصیات کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ایوارڈز دئیے گئے اور ان کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ یہ ایوارڈز نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی مسلم پولیس آفیسرز سوسائٹی کے رانا عدیل، مسلم فاو¿نڈیشن آف امریکہ اور مسلم ڈے پریڈ کے شبیر گل ، کریسنٹ سکول کے بانی ڈاکٹر جعفر اور اکنا کے ایک اہم سپورٹر فارماسسٹ محمود عالم بالخصوص ان کی تنظیموں کو پیش کئے گئے ۔
تقریب سے اکنا کے امیر نعیم بیگ، نوجوان سکالرزوصام شریف ،ڈاکٹر فرحان نے بھی خطاب کیا جبکہ شیخ محمد حسن نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔
تقریب میں اکنا اور اکنا ریلیف کی جانب سے اکنا ریلیف کے ڈائریکٹرکمیونٹی آو¿ٹ ریچ شاہد فاروقی ،اسسٹنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عارف، اکنا کے سیکرٹری جنرل طارق رحمان، اکنا کنونشن کے چئیرمین حامد صدیقی ، اکنا المرکز کے امام حافظ ظفیر،ڈائریکٹر میڈیا و پبلک ریلیشن معاوذ صدیقی نے شرکت کی اور تقریب کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔

 


تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اکنا کے مرکزی امیر نعیم بیگ نے کہا کہ امریکہ میں بھی عوام کو غربت، بے روزگاری، افلاس، صحت عامہ ، قدرتی آفات سمیت مختلف مسائل کا سامنا ہے ۔ جب ہم امریکی عوام کی بات کرتے ہیں تو اس میں امریکہ میں بسنے والے مسلم امریکن کمیونٹی بھی شامل ہے ۔ ایک امیگرنٹ کمیونٹی ہونے کی حیثیت سے مسائل کے ان پر زیادہ گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ان حالات میں۔ دین اسلام اور اس کے پیروکاروں کا اصل اور صحیح امیج سامنے آتا ہے ۔ لہٰذا میں کمیونٹی سے اپیل کرونگا کہ وہ اکنا ریلیف کی ان کوششوں کا حصہ بنیں اور اپنے بچوں کو بھی اس میں شامل کریں تاکہ ہماری جواں ہونیوالی نسل اپنے فلاحی و تعمیری کاموں کے ساتھ کروائے ۔


 

نوجوان سکالرزوصام شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے مسٹر آرنوڈ وین ڈورن کا ایک گستاخ سے عاشق رسول بننے کا سفر ہماری سوچ اور فکر کےلئے توجہ طلب ہے ۔ اس شخص نے اسلام کے خلاف فلم بنائی بعد ازاں جب انہیں دین برحق کی حقیقت کا پتہ چلا تو اس نے اپنی غلطی کا اعلان کیا ، دنیائے اسلام سے معافی مانگی اور اسلام قبول کیا۔ آئیے ہم اپنی حالت دیکھیں ۔ہم یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن کیا ہم اپنی زندگی نبی کریم حضرت محمد مصطفیﷺ کی سنت مبارکہ کے مطابق اور ان کے احکامات پر عمل کرکے گزارتے ہیں ؟اگر نہیں تو ہمارے ذریعے دنیا کے سامنے اسلام کا کیا امیج پیش ہو رہا ہو گا۔ہمیں بھی دنیا بھر کا دورہ کرکے معافی مانگنی چاہئیے کہ ہم نے ایک قران و سنت کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی نہیں گزاری اور یہ عہد کرنا چاہئیے کہ ہم باقی ماندہ زندگی نبی کریم ﷺ کے احکامات اور تعلیمات کے مطابق بسر کریں گے۔وصام شریف نے کہا کہ اکنا ریلیف اپنی امدادی و فلاحی پروگراموں کے ذریعے ، انسانیت کی بلا امتیاز خدمت کرکے لوگوں کے ذہنوں میں دین اسلام کے بارے میں موجود غلط تاثرات کو دورکررہی ہے ۔ ان کی اس کوشش کا حصہ بننا چاہئیے اور اکنا رلیف کے شانہ بشانہ چلنا چاہئیے ۔

 


نوجوان سکالرفرحان عبدالعزیز نے اکنا ریلیف کے لئے فنڈ ریزنگ کرتے ہوئے شرکاءپر زور دیا کہ اکنا کے پلیٹ فارم سے ہونیوالی ہر اس کوشش کا حصہ بنیں کہ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کار خیر ہے اور وہ کام ہیں کہ جو ہمارے لئے ہی نہیں بلکہ آنیوالی نسلوں کے لئے بھی باعث فخر ثابت ہونگے ۔
تقریب کے آخر میں اکنا مرکز کے امام حافظ ظفیر احمد نے دعا کروائی اور اکنا ریلیف کی جانب سے تمام شرکاءبالخصوص ان شخصیات کا کہ جنہوںنے مسٹر وین ڈورن کی عدم شرکت کے باوجود فنڈ ریزنگ ڈنر کو تاریخی بنایا ،کا شکرئیہ ادا کیا ۔



تاریخ اشاعت : 2014-04-03 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock