نیویارک میں اردو ادب کے فروغ میں ادبی تنظیموں کاکردار 

 

نیویارک ( تحریرو انتخاب" پروفیسر حماد خان)گزشتہ ایک سال سے ہم نے خود ساختہ قلم چھوڑ ہڑتال شروع کر رکھی تھی اور وہ اس لئے تھی کہ نیویارک کے قارئین کا مزاج اور ادبی رواج تبدیل کر کے رکھ دیاگیا ہے۔ یہاں کے قارئین کی اکثریت اب سچ پڑھنے اور سمجھنے کے لئے تیارنہیں اور ہم سوائے سچ کے کچھ اور لکھنا ایک ادبی اور صحافتی جرم اور شرعی گناہ سمھتے ہیں۔ یوں اندھوں کے شہر میں آئینہ بیچنے سے کہیں بہتر تھا کہ لکھنا چھوڑ کر گوشتہ نشینی اختیار کر لی جائے۔ پچھلے ہفتے نیویارک کے ایک جینوئن صحافی اور ٹیکسلا انجینئر یونیورسٹی کے میرے عزیز دوست اور کلاس فیلو حسن ظہیر کے چھوٹے بھائی جناب محسن ظہیر نے جب ان کے اخبار ” اردو نیوز“ میںلکھنے کے لئے کہا تو ہم انکارنہ کر پائے اور تازہ ترین تحریر آپ کی نظروں سے گزر رہی ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ کچھ ایسا نہ لکھیں جس سے کسی کی دل آزاری ہو یا خدانخواستہ کسی سے ذاتی رنجشوںکا غصہ نکالا جائے۔

تمہید مختصر کرتے ہوئے اصل موضوع پر آتے ہیں۔ ہمیںنیویارک میں آئے تقریباً ستائس سال ہو چکے ہیں ۔ اتنا ہی عرصہ ہمیں لکھتے ہوئے بھی ہوچکا ہے۔کہاں جاتا ہے کہ دلی ¾ لکھنﺅ ¾ لاہور اور کراچی کے بعد نیویارک اردو ادب اور ادبی سرگرمیوں میں بہت نمایاں ہے۔یہ ادبی سرگرمیاں کوئی دوچارسالوں سے شروع نہیں ہوئیں .اس کے پیچھے دہائیوں کا سفر ہے۔ بہت سے سینئرز شعراءکرام اور احباب جنہوں نے یہ ادبی سفر شروع کرایا, آج ہم میں موجود نہیں ہیں مگر ان کی کوششیں آج ثمر بار ہیں۔ اس وقت نیویارک اور گردو نواح میں تقریباً پچاس کے قریب شعراءاورشاعرات ہیں جب کہ درجن بھر نثر نگار موجودہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیویارک میں ادبی سرگرمیوں کی بنیاد یہاںکے معروف شاعر ¾نقاد ¾ علم عروض کے استاد اور کئی کتابوں کے خالق جناب مامون ایمن نے رکھی۔چھوٹے چھوٹے مشاعروں سے شروع ہونے والا یہ ادبی سفر عوامی مقبولیت کا درجہ حاصل کرتا گیا۔ مامون صاحب کو شمالی امریکہ کا بابائے اردو بھی کہاجاتا ہے۔ مامون صاحب کی کوئی باقاعدہ ادبی تنظیم نہ تھی۔ نیویارک کے ایک اور سینئر شاعر جناب حنیف اخگر جو اپنی مترنم شاعری اور تر نم کی وجہ سے مشاعروں کے مقبول شاعر تھے۔ انہوںنے حلقہ فن و ادب کے نام سے ادبی تنظیم بنائی اور پندرہ روزہ باقاعدہ مشاعروں کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم میں اخگر صاحب کو معروف شاعرہ زریں یٰسین او انکے شوہر یٰسین زبیری کا ساتھ ملا رہا۔

معروف کمیونٹی لیڈر اور شاعر وکیل انصاری بھی اس تنظیم میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ اس تنظیم نے طرحی اور غیر طرحی مشاعروں سے اردوشاعری اور ادب کو خوب فروغ دیا۔ اس تنظیم کے تحت کئی بین الااقوامی مشاعرے بھی منعقد ہوئے۔ مگر انتظامیہ کی ذاتی رنجشوں کی بدولت یہ تنظیم سازشوں کا شکار ہوئی اور آج تک دوبارہ بحال نہ ہو سکی۔ ایک اور ادبی تنظیم خیبر سوسائٹی ہر سال نیویارک میں ایک مشاعرہ منعقد کرایا کرتی تھی۔ اس مشاعرے کی خاص بات دور حاضر کے شہنشاہ غزل جناب احمدفراز کی شرکت ہوا کرتی تھی۔ یہ مشاعرہ نیویارک کے معروف شاعر اور کالم نگار ڈاکٹر شفیق اور میڈیکل ڈاکٹر احمد جان کرایا کرتے تھے۔ یہ مشاعرے احمد فراز کی وفات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی مگر نیویارک میں اردو شاعری کے فروغ میں خیبر سوسائٹی کے کردار کو فراموش نہیں کیاجاسکتا۔

نیویارک کے نوجوان شاعر ریئس وارثی نے اردو مرکز کے تحت پہلی عالمی اردو کانفرنس کرائی اور بعد میں مختلف کتابوں کی رونمائی اور مشاعرے کرا کے اردو ادب کی خوب خدمت کی اور پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر پہلے اردو مرکز ختم ہوا اورپھر رئیس وارثی خود بھی گوشتہ نشینی اختیار کر گئے۔ پاکستان کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے شمالی امریکہ میں عہدیداران نے گہوارہ ادب نامی تنظیم کے تحت دو تین سال تک ماہانہ طرحی مشاعروں کا سلسلہ جاری رکھا مگر پھر یہ لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے مگر چند سالوں تک مشاعرے منعقد کرا کے تاریخ میں اپنانام درج کروا گئے۔
 

ربیع الاول کے میہنے میں جشن عید میلاد النبیﷺ کے سلسلے میں ادارہ تبلیغ الاسلام کے زیراہتمام ایک سالانہ مشاعروں کا سلسلہ شروع کیاگیا۔ جوآج بھی جاری ہے۔ ان مشاعروں کا آغاز1995ءسے ہوا اور اس کے بانی شمالی امریکہ کے ورسٹائل بزرگ شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف جناب صلاح الدین ناصر ہیں۔ صلاح الدین ناصر کی انگلی پکڑ کر ہم نے اپنی شاعری کاآغاز کیا گویا آپ شاعری میںمیرے استاد بھی ہیں۔
 

ان مشاعروں میں ناصر صاحب کو مسرور جاوید ¾ کوثر چشتی اور ہماری معاونت حاصل تھی۔ نیویارک میں ظفر زیدی میموریل سوسائٹی بھی گزشتہ دو دہائیوں سے باقاعدگی کے ساتھ ایک سالانہ مشاعرہ کا انعقاد کر رہی ہے۔ اس سوسائٹی کی روح رواں معروف شاعرہ محترمہ حمیرا رحمن ہیں۔ نیویارک والے اس مشاعرے کا انتظار سارا سال کرتے ہیں۔
 

حلقہ ارب ذوق پورے پاکستان میں اپنے نام اور کام کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ نیویارک میں اس کی بنیاد معروف ترقی پسند مستند شاعر جناب جوہر میر نے رکھی۔ پندرہ روزہ اجلاس میں ادبی اورتنقیدی نشستیں ہوتی رہیں۔ جوہر میر مرحوم کے علاوہ اشرف میں اس حلقے کے روح رواں رہے۔ جوہر میر کی وفات کے بعد یہ حلقہ پھردو حلقوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک حلقہ جو باقاعدہ رجسٹرڈ ہے وہ ڈاکٹر شفیق ¾ محمد طاہر خان ¾ یونس شرر اور واصف حسین واصف کے زیرا نتظام ہے جب کہ دوسرا حلقہ اس وقت اردو ٹائمز ویکلی اخبار کے پبلشر خلیل الرحمن اور ڈاکٹر سعید نقوی کے کنٹرول میںہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ دونوں حلقے پندرہ روزہ اجلاس کے علاوہ عالمی مشاعرے بھی کراتے ہیں۔ اس سے نیویارک اور گردو نواح میں اردو ادب کونہ صرف فروغ مل رہا ہے بلکہ نئے لکھاریوں کی تربیت بھی ہو رہی ہے۔ افسوس کی بات یا ہے کہ یہاں بھی سینئر شعراءکی ذاتی رنجش یہاں کے لکھاریوں کو گروپس میں بانٹے ہوئے ہے۔ آج بھی چند سینئر شعراءذاتی وجوہاں کی بنا پر ایک دوسرے کے وجود کو برداشت نہیںکر پاتے۔

 

اس سے نئے لکھاریوں کو کوئی اچھی پیغام نہیں پہنچ رہا۔ کاش شمالی امریکہ خصوصاً نیویارک کے سینئر شعراءاپنی عمر کے آخری حصے میں ذاتی رنجش اور اپنی جھوٹی اناﺅں کو بھول کرمتحد ہو جائیں اور اردو ادب کی بہترخدمت کر سکیں اور آنے والی نسلوں کیلئے ایک خوشگوار اورصحت مند ادبی ماحول چھوڑ جائیں۔

 ادب اور ادبیوں کی خبریں
 ظفر زیدی میموریل سوسائٹی کے سیکرٹری ریئس وارثی مستعفی
 نیویارک کی ادبی تنظیم ظفر زیدی میموریل سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری معروف شاعر ریئس وارثی مستعفی ہو گئے ہیں۔ استعفی کی وجہ اصولی اختلافات بتائے جاتے ہیں۔نوجوان شاعر اویس راجہ کونئے سیکرٹری کی ذمہ داریاںسونپی گئی ہیں۔
 مقسط ندیم پاکستان روانہ ہو گئے۔
نیویارک کے ترقی پسند شاعر اور دو کتابوں کے خالق جناب مقسط ندیم پاکستان چلے گئے ہیں۔ یادرہے کہ مقسط ندیم ان دنوں گردوں کے عارضہ میں مبتلا ہیں۔ ادارہان کی مکمل صحت یابی کے لئے دعاگو ہیں۔

 شہلا نقوی کی بیٹی کی برسی
نیویارک کی معروف شاعرہ شہلا نقوی کی جواں سال بیٹی فوت ہوئے پانچ سال گزر گئے۔ آج اتوار کو ان کے گھر پر برسی منائی گئی۔ مرحومہ کے بلنددرجات کے لئے قرآن خوانی اور دعا کی گئی۔ ادارہ قارئین سے التماس دعا کرتاہے۔

جمیل عثمان کے گھر پر ادبی محفل
 نیو جرسی میں مقیم شاعر ¾ افسانہ نگار اور جمیل عثمان کے گھر پر بروز ہفتہ ایک ادبی تقریب کا اہتمام کیاگیا۔ جس میں مقامی شعراءو شاعرات نے اپنا کلام سنایا۔
 سب رنگ اردو فورم کے ایک شام¾ پروین شاکر نے نام
سب رنگ اردو فورم نیویارک کے زیر اہتمام ایک شام پروین شاکر کے نام سے منائی جاری رہی ہے۔ کباب کنگ جیکسن ہائٹس میں4 فروری بروز اتوار2 بجے دن کو اس تقریب میںمقامی شعراءاور ادیب شرکت کریں گے۔ اس فورم کے روح رواں ظفر اقبال ¾ اسدنذیر اور وکیل انصاری اس پروگرام کو لائیو ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں۔


 

تاریخ اشاعت : 2018-02-02 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock