ایم کیو ایم امریکہ کا اقوام متحدہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

 

نیویارک (پ ر ) ایم کیو ایم امریکہ کے زیر اہتمام گذشتہ ہفتے یہاں اقوام متحدہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ایم کیو ایم کے سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین ، ایم کیو ایم نیویارک ،چیپٹر ، میڈیا سیل، خواتین ونگ، یوتھ ونگ اور دیگر شعبہ جات قرب و جوار کی ریاستوں سے آئے کارکنان وذمہ داران نے شرکت کی ۔ ان مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ایم کیو ایم اور قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کے حق میں جبکہ ایم کیو ایم لندن کے خلاف پاکستان میں ہونیوالی کاروائیوں کے خلاف نعرے درج تھے ۔یہی نعرے مظاہرین تمام وقت لگاتے بھی رہے ۔ اقوام متحدہ کے دفتر میں پاکستان میں جاری مہاجر کش آپریشن ، ظلم و تشدد اور مہاجر نسل کُشی کے حوالے سے ایک احتجاجی پٹیشن جمع کروائی گئی ۔مظاہرے میں متحدہ قومی موومنٹ امریکہ کے اراکین سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی، عمران حسین، سید اسامہ حسن، مطلوب زیدی، محفوظ حیدری، انجم عارف ، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ونگ کے انچارج عارف صدیقی، رکن گل محمد، نیویارک چیپٹر کے انچارج علی قلی، نیو جرسی چیپٹر کے انچارج شان ہاشمی، فلاڈلفیا چیپٹر کے انچارج نوید قاضی، واشنگٹن ڈی سی چیپٹر کے جوائنٹ انچارج شکیل الدین، کمیونیکیشن اینڈ میڈیا سیل، خواتین ونگ، یوتھ ونگ اور دیگر شعبہ جات قرب و جوار کی ریاستوں سے آئے کارکنان وذمہ داران سمیت بڑی تعداد میں نیویارک میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین، بزرگوں اور بچوں نے شرکت کی ۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم امریکہ کے ذمہ داران و ارکان نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی نہیں پاکستان میں رائج گلے سڑے فرسودہ نظام کی مخالف ہے اور وطن میں ۸۹ فیصد مظلوم عوام کیلئے انصاف کا نظام چاہتی ہے۔ پاکستان میں مہاجر قوم اور انکے حقیقی نمائندوں کو بد ترین ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے، پاکستان کی بقا کیلئے لازم ہے کہ استحصال ذدہ مہاجروں سمیت ملک بھر کے تمام مظلوموں کو انصاف فراہم کیا جائے ۔ غیر آئنی و غیر قانونی چھاپے و گرفتاریاں، جبر و تشدد، جبری گمشدگیاں اور زیر حراست کارکنان کا ماورائے عدالت قتل آئے روز کا معمول ہیں۔ ایم کیو ایم اور اے پی ایم ایس او کے کارکنان کو گرفتار کر کے لاپتہ کیا جارہا ہے۔ مہاجر کارکنان کو جبر و تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور ، گرفتار شدگان کے اہل خانہ سے لاکھوں وپے رشوت وصول کی جارہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قائد تحریک الطاف حسین پاکستان کے واحد دور اندیش رہنما ہیں جو برسوں سے القاعدہ، طالبان، داعش سمیت مذہبی انتہا پسندوں اور انکے سہولت کاروں و حمائتیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں مگر ان کی آواز ، تقریر، تصویر اور بیانات پر پاکستان میں غیر جمہوری ، غیر آئنی پابندی لگادی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر قوم کا مقدمہ اقوام متحدہ ، انسانی حقوق کے اداروںسمیت دنیا بھر کے دستیاب ایوانوں میں اٹھائیں گے۔
اس موقع پر شرکاءمظاہرہ نے کراچی میں امن و امان کے قیام ، جرائم پیشہ عناصر کے خاتمہ کے نام پر شروع کئے جانے والے آپریشن کو یکطرفہ طور پر مہاجر قوم اور ان کی واحد نمائندہ جماعت پر مسلط کرکے اس کی سیاسی و فلاحی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے، ایم کیو ایم اور مہاجر قوم کو دیوار سے لگانے ، کراچی پر طالبانی اور اپنے زرخرید قوتوں کے قبضہ کی سازش کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا۔
 شرکاءمطالبہ کر رہے تھے مہاجروں پر بدترین ریاستی مظالم کو بند کرکے انہیں انصاف فراہم کیا جائے ۔ ڈاکٹر حسن ظفر عارف، مومن خان مومن، امجد اللہ سمیت ایم کیو ایم اور اے پی ایم ایس او کے تمام بے گناہ کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے، تمام لاپتہ کاکارکنان کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ شرکاءنے اس عزم کا عادہ کیا کہ خواہ کتنے ہی ظلم و ستم ڈھائے جائیں مگر وہ قائد تحریک الطاف حسین کی قیادت میں اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد سے باز نہیں آئیں گے۔۔

تاریخ اشاعت : 2015-02-21 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں

SiteLock