ٹورنٹو کی خاتون مئیر نے روزہ رکھ کر مسلم کینیڈین کمیونٹی سے منفرد انداز میں اظہار یکجہتی کیا، بین العقائد ہم آہنگی کی منفرد مثال

 

ٹورنٹو (خصوصی رپورٹ)ٹورنٹو کی خاتون مئیر نے روزہ رکھ کر مسلم کینیڈین کمیونٹی سے منفرد انداز میں اظہار یکجہتی کیاہے اور بین العقائد ہم آہنگی کی منفرد مثال قائم کر دی ہے ۔کمیونٹی افطار ڈنر کینیڈا کے سب سے بڑے اور اھم ترین شہر ٹورانٹو میں منعقد ہوا جس میں اونٹاریو کی پریمئیر(وزیراعلی)کیتھلین او وائین اور انکے کاکس ممبران بشمول ممبر آف پارلیمنٹ اندرا نائیڈو اور گریٹر ٹورانٹو ایریا(GTA) سے اراکین پارلیمنٹ، مسسی ساگا کی مئیر بونی کرمبی،اور برامپٹن کی مئیر لنڈا جیفری اور دیگر شامل تھے.

 

اس تقریب میں پاکستانی کینیڈینز سمیت مختلف مسلم اور دیگر کمیونٹیز کی نامور شخصیات نے بھرپور شرکت کی.اس تقریب کی دلچسپ بات یہ تھی کہ اونٹاریو کی پریمئیر کیتھلین او وائین اور مسسسی ساگا نے مسلم کمیونٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی اور مقدس مہینے کا آحترام میں روزہ رکھا ہوا تھا.

 

دونوں نے مغرب کی آذان کے ساتھ روزہ کھولا.پریمئیر مس کیتھلین نے کہا کہ روزہ رکھ کر معلوم ہوا کہ واقعی روزہ کس قدر صبرو اسقامت کا درس دیتا ہے اور مسلمانوں میں کتنا برداشت اور ایمان ہے.مس کیتھلین نے اپنی پوری ٹیم اور اونٹاریو کی حکومت کی طرف سے کینیڈین مسلمانوں کو رمضان کریم کی دلی مبارکباد دی.اس خوبصورت اور یادگار کمیونٹی افطار ڈنر کے انعقاد میں ٹورانٹو میں مسلم کمیونٹی کی ممتاز شخصیت امام ڈاکٹر حامد سلیمی،محمد فقہیہ اور ان کی ٹیم نے کیا تھا

 

 

تاریخ اشاعت : 2016-06-22 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock