علامہ اقبال، محبت عالم اخوت کی جہانگیری اور محبت کی فراوانی پر یقین رکھتے تھے؛ ولید اقبال کا ”پاکونی“ کے استقبالیہ سے خطاب

 

پاکستانی امریکن کمیونٹی آف نیویارک (پاکونی) کا مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کے پوتے ولید اقبال کے اعزازمیں استقبالیہ، ولید اقبال کا اقبال ، اسلام اور سیاست کے موضوع پر خصوصی خطاب

نیویارک (سپیشل رپورٹر سے ) پاکستانی امریکن کمیونٹی نیویارک کی ایک اہم و نمائندہ تنظیم پاکستانی امریکن کمیونٹی آف نیویارک (پاکونی) کی جانب سے امریکہ کے دورے پر آئے مفکر پاکستان کے پوتے ولید اقبال کے اعزاز میں یہاں استقبالیہ دیا گیا اور علامہ محمد اقبال کے افکار کے اہم پہلووں پر تفصیلی بات چیت کی گئی جبکہ ولید اقبال نے علامہ اقبال ، اسلام اور سیاست کے موضوع پر مدلل گفتگو کی ۔

 


 

استقبالیہ میں صدر طاہر میاں ، پاکونی کے چیف پیٹرن طارق خان ،سینئر وائس پریذیڈنٹ وسیم سید،وائس چئیرمین طالب حسین،وائس پریذیڈنٹ محمد عثمان عباس،جنرل سیکرٹری علی رشید،میڈیا کوارڈی نیٹر سمن گل، ڈائریکٹرز عامر سلطان،فیاض خان، ریاض پرویز، ذیشانہ خان،حامد ملک،فرحان علیم، نواب آفریدی ، سیکرٹری فنانس عدنان رسول کے علاوہ کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی ۔ طحٰہ طاہر نے قران مجید کی سعادت حاصل کی جبکہ محمد نصر اللہ نے کلام اقبال پڑھا۔سٹیج سیکرٹری کے فرائض علی رشید نے انجام دئیے
استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے ولید اقبال نے کا کہ علامہ اقبال کی شاعری ، فکر اور سوچ میں ایک نہیں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں ایسی مثالیں ملتی ہیں ک جن میں وہ محبت ، اخوت ،بھائی چارے اور روادری کا درس دیتے ہیں اور جا بجا کہتے ہیں کہ یہ ان کی نہیں بلکہ دین اسلام اور پیغمر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیمات ہیں ۔اقبال نے اقلیتیوں اور خواتین کے حقوق پر بہت زور دیا ہے ۔ امریکہ میں مقیم پروفیسر مستنصر میر نے اپنی تصنیف ”اقبال بائی میر“ میں نہایت ہی مدلل انداز میں علامہ اقبال کی سوچ بالخصوص دین اسلام اور سیاست کے حوالے سے واضح کی ہے ۔


اقبال کہتے ہیں کہ اپنے دفاع کے لیے جنگ جائز ہے تاہم انہوں نے جنگ میں خواتین، شہریوں اور حتیٰ کہ فصلوں کو نقصان نہ پہنچانے کی دین اسلام کی تعلیمات کا واضح الفاظ میں ذکر کیا ہے ۔ لہٰذا یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ علامہ اقبال کی فکر کسی انتہا پسندی کی طرف مائل کرتی ہے ۔
ولید اقبال نے کہا کہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ”طلوع اسلام“ میں اخوت محبت رواداری اور باہمی برداشت کی تبلیغ کی گئی ۔علامہ اقبال محبت عالم پر یقین رکھتے ہیں وہ اخوت کی جہانگیری اور محبت کی فراوانی پر یقین رکھتے تھے ۔علامہ اقبال انسانی مساوات پر یقین رکھتے تھے ۔علامہ نے اقلیتوں کے حقوق پر زور دیا۔ وہ اس عقیدے سے نفر ت کرتے تھے جو دوسروں کے عقیدوں کو گھٹیا سمجھتا ہو ۔قرار داد لاہور میں بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کی گئی ۔


ولید اقبال نے کہا کہ ہم حقیقی طور پر اس وقت آزاد اور خودمختار ہونگے کہ جب اپنے فیصلے خود کریں گے۔ ہمیں اپنے آپ کو اندر سے مضبوط کرنا ہے ہمارے ہاں قیادت کے فقدان ہے ۔


ہمارے پہلے پی ایم لیاقت علی خان جمشید مار کر نے ایک تقریب میں کہا کہ لیاقت خان شاہی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے 200گاﺅں کی جاگیر تھی۔ جب ہجرت کرکے پی ایم بنے تو انہوں نے اپنے نام ایک مکان بھی الاٹ نہیں کروایا ۔ لیاقت کی وفات کے وقت ان کے جملے اثاثے بے تحاشہ کتابیں چند کپڑے اور 1200کا بنک بیلنس تھا۔ اس کے بعد سویلین اور فوجی ادوار میں ایسی اشرافیہ مسلط ہوئی کہ جوغریب کا خون چوس رہی ہے اس بالادست طبقے سے جان چھڑائی ۔

 

تاریخ اشاعت : 2015-05-05 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock