ہم لوگ پاکستان چھوڑ کر امریکہ آگئے لیکن رچرڈ گیری امریکہ چھوڑ کر برسوں پہلے پاکستان منتقل ہو گیا

 

نیویارک(محسن ظہیر سے ) پاکستان میں گونگے و بہرے بچوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں معاشرے کے کارآمد شہری بنانے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرنے والے ادارے فیملی ایجوکیشن سروسز فاونڈیشن (ایف ای ایس ایف ) کے زیر انتظام چلنے والے ڈیف ریسرچ سکولز اینڈ ٹریننگ سنٹرز کےلئے حسب معمول اس سال بھی فنڈ ریزنگ کی گئی ۔ پاکولی کے فنڈ ریزنگ ڈنر میں پاکولی کے عہدیداران ذاکر صدیقی ، جمال محسن ، بشیر قمر، سعید حسن ، لیاقت سندھو، ہمایوں شبیر، عثمان عباس، سلمان شیخ ، مسز سلمان شیخ ، طاہر ہ احمد، امتیاز راہی ، بانو قاضی ،وسیم سید ،ضیاءقریشی ،دانش سعیدکے علاوہ کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور نے شرکت کی ۔

 

تقریب میں ایف ای ایس ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رچرڈ گیری ، امریکہ کے انچارج عرفان برنی اور نیویارک میں پاکستانی قونصل جنرل راجہ علی اعجاز نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔تقریب میں پاکولی کی جانب سے بشیر قمر، ذاکر صدیقی ، جمال محسن اور سعید حسن نے شرکائایف ای ایس ایف کے بارے میں بتایا اور ان پر زور دیا کہ وہ اس ادارے کے کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ تقریب میں نظامت کے فرائض لیاقت سندھو نے ادا کئے ۔تقریب میں کانگریس مین کے امیدوار جان کیمین نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی ۔


تقریب سے خطاب کے دوران رچرڈ گیری نے پاکستان میں فیملی ایجوکیشن سروسز فاو¿نڈیشن (ایف ای ایس ایف ) کے زیر انتظام چلنے والے ڈیف ریسرچ سکولز اینڈ ٹریننگ سنٹرز کے بارے میں شرکاءکو بتایا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کے تحت کراچی، حیدر آباد، سکھر، نوبشاہ ، ٹنڈو اللہ یاراور لاہور سنٹرز کام کررہے ہیں ۔ ان سنٹرز و اداروں میں ابھی تک پانچ ہزار سے زائد بچے مستفید ہو چکے ہیں ۔


رچرڈ گیری نے بتایا کہ پاکستان کی 20کروڑ سے زائد آبادی کے ملک میں 65فیصد عوام کی عمر25سال یا اس سے کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی کل آباد ی میں سے 90لاکھ افراد کسی نہ کسی حوالے سے سماعت سے متعلقہ مسلہ رکھتے ہیں جبکہ بارہ لاکھ سے زائد بچے بہرے ہیں جو کہ گونگے بھی ہوتے ہیں ۔ ان بچوں میں سے صرف دو فیصد بچے سکول جاتے ہیں ۔ اس صورتحال کے پیش نظر ایف ای ایس ایف کے زیر اہتمام پسماندہ و دور دراز علاقے میں بچوں کو تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں تاکہ یہ بچے کسی کے محتاج نہ ہوں اور اپنے پاو¿ں پر کھڑے ہوکر معاشرے کا کارامد حصہ بن سکیں ۔رچرڈ گیری نے بتایا کہ گونگے بہرے بچوں کے لئے آن لائن وسائل پیدا کئے جا رہے ہیں جس سے وہ نہ صرف مستفید ہو سکتے ہیں بلکہ عام بچوں کی طرح تفریحی امور سے محظوظ بھی ہو سکتے ہیں ۔ انہوں نے جب اپنے سلائیڈ شو کے ذریعے ایف ای ایس ایف کے بچوں کی جانب سے اشاروں کی زبان میں پاکستان کا قومی ترانہ پڑھتے ہوئے دکھایا تو تقریب گاہ شرکاءکی تالیوں سے گونج اٹھی ۔


ایف ای ایس ایف کے امریکہ میں انچارج عرفان برنی نے بھی بتایا کہ انہیں کیسے ایف ای ایس ایف کے بارے میں علم ہوا اور وہ کیسے ان کے ساتھ اس نیک کام میں مصروف ہو گئے ۔انہوں نے بتایا کہ ایف ای ایس ایف کو امریکہ میں 501(c)کے طور پر رجسٹرڈ کروایا جا رہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ گونگے بہرے لوگوں کی اپنی زبان ہے جس سے وہ نہ صرف ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں بلکہ اپنے احساسات سمیت ہر بات کو بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہماری زبان نہیں سمجھ سکتے بلکہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہم ان پڑھ ہیں کہ جو ان کی زبان نہیں سمجھتے ۔ اگر ہم ان کی زبان کو سمجھیں تو ان سے ہم کلام ہو سکتے ہیں ، انہیں اپنے شانہ بشانہ آگے لیکر بڑھ سکتے ہیں ۔

 


 

بشیر قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب لوگ بہتر معاش اور مستقبل کے لئے اپنا وطن پاکستان چھوڑ کر امریکہ آگئے جبکہ رچرڈ گیری امریکہ چھوڑ کر پاکستان کے مستحق و نادار بچوں کی مدد کے لئے پاکستان جا بسا اور 1984سے اپنا کردار ادا کررہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ایسے شخص کی خدمات کو پاکولی ہی نہیں پوری پاکستانی امریکن کمیونٹی سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے ادارے کو بڑھ چڑھ کر فنڈز دیں اور کار خیر میں حصہ لیں ۔

 


سعید حسن نے کہا کہ میں نے جس دن ایف ای ایس ایف کے کام کا سنا ، میرے بیٹے کی سالگرہ تھی۔ میں نے بیٹے سے کہا کہ تمہارا گفٹ بچوں کے نام کریںگے اور تقریب کے مہمانوں سے بھی کہا کہ وہ باکس گفٹ لانے کی بجائے ،ایف ای ایس ایف کے لئے نقد دیں ۔


 تقریب کے مہمان خصوصی قونصل جنرل راجہ علی اعجاز تھے جنہوں نے اپنی تقریر میں FESF کے انسانی خدمات اور گونگے بہرے بچوں کی تعلیم و تربیت پر مامور رچرڈ گیری کو خراج تحسین پیش کیا۔ قونصلر جنرل نے پاکونی کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے پروگراموں سے پاکونی کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔فنڈ ریزنگ میں ہر طبقہ فکر سے وابسطہ افراد نے شرکت کر کے FESF کیلئے 34 ہزار ڈالرز سے زیادہ کے عطیات دئیے۔FESF کے لاہور پروجیکٹ کیلئے پاکونی کے سلمان شیخ نے 50,000 روپے کا اضافی عطیہ دیا جبکہ کچھ افراد نے مزید عطیات کا وعدہ کیا ہے۔



تاریخ اشاعت : 2016-04-27 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock