کریمینل ڈسکوری ریفارمز پر پہلا سالانہ سمپوزیم ؛شاہد اعجاز، شیخ توقیر الحق، شبیر احمد گل کی قیادت میں پاکستانی کمیونٹی کے وفد کی خصوصی شرکت

 

سمپوزیم کے انعقاد میں نیویارک سٹیٹ سپریم کورٹ کے جج فرنینڈو تھاپیا اور ڈسکوری فار جسٹس نے خصوصی کردار ادا کیا، قانو ن ، شہری حقوق کی تنظیموں کے اہم قائدین سمیت اہم شخصیات کی شرکت


مجالس مذاکرہ میں پولیٹیکل لینڈ سکیپ فار کریمنل جسٹس ڈسکوری اور لیگل اینڈ ایجوکیشن بیک گراونڈ جیسے اہم موضوعات پر خصوصی بحث و مباحثہ کیا گیا اور سی پی ایل 240کا جائزہ لیا گیا


مجالس مذاکرہ میں جج کنگز کاونٹی مارک ڈوائیر، لیگل ایڈ سوسائٹی کے جان شوفل اور نیوجرسی سے کارل کولاگنو کے علاوہ کونسل ممبر اینڈی کنگ، اسمبلی مین کینی اگوسٹا سمیت اہم ماہرین کی خصوصی شرکت


ماڈریٹر کے فرائض ونسینٹ ایوگلیانو، کارلٹن برکلے، میسرز جولیواور میگوئیل سنٹانا نے انجام دئیے ، شرکاءنے جج فرنینڈو ٹھاپیا اور ڈسکوری فار جسٹس کی کوششوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا


نیویارک سٹیٹ کے قانون سی پی ایل 240میں تبدیلی سے کریمنل کیس میں گرفتار ہونے والے شخص کو ٹرائل کے لئے اپنا کیس موثر اور بہتر اندازمیں تیار کرنے میں مدد ملے گی


سمپوزیم میں شاہد اعجاز، شیخ توقیر الحق، شبیر احمد گل، طاہر میاں ، آصف بیگ،وسیم سید، ندیم وامق، جمال خان، چوہدری عامر رزاق، سلیم ملک، حاجی یونس، چوہدری خیرات حسین، شاہد کامریڈ، انور واسطی، عمران اگرہ، شہیل شیخ، حسن مسعود بھائی،بازہ روحی، اعجاز احمدکی شرکت

 


نیویارک (محسن ظہیر سے ) کریمینل ڈسکوری ریفارمز پر پہلا سالانہ سمپوزیم گذشتہ ہفتے یہاں نیویارک سٹی مین منعقد ہوا جس میں شاہد اعجاز، شیخ توقیر الحق، شبیر احمد گل کی قیادت میں پاکستانی کمیونٹی کے وفد نے خصوصی شرکت کی ۔سمپوزیم کے انعقاد میں نیویارک سٹیٹ سپریم کورٹ کے جج فرنینڈو تھاپیا اور ڈسکوری فار جسٹس نے خصوصی کردار ادا کیا۔قانو ن ، شہری حقوق کی تنظیموں کے اہم قائدین سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی ۔

 

 

جبکہ مجالس مذاکرہ میں پولیٹیکل لینڈ سکیپ فار کریمنل جسٹس ڈسکوری اور لیگل اینڈ ایجوکیشن بیک گراو¿نڈ جیسے اہم موضوعات پر خصوصی بحث و مباحثہ کیا گیا اور سی پی ایل 240کا جائزہ لیا گیا۔ مجالس مذاکرہ میں جج کنگز کاو¿نٹی مارک ڈوائیر، لیگل ایڈ سوسائٹی کے جان شوفل اور نیوجرسی سے کارل کولاگنو کے علاوہ کونسل ممبر اینڈی کنگ، اسمبلی مین کینی اگوسٹا سمیت اہم ماہرین نے خصوصی شرکت کی اور سی پی ایل 240کے بارے می اپنا نکتہ نظر پیش کئے ۔

 

 

واضح رہے کہ نیویارک سٹیٹ میں کسی کریمنل کیس میں گرفتاری کی صورت میں پراسیکوٹر ٹرائل سے پہلے ملزم کو معاملات طے کرنے کا موقع دیتا ہے تاہم اس موقع پر وہ اپنے پاس موجود کوئی شہادت ملزم سے شئیر نہیں کرتا ۔ مختلف اوقات لوگ شہادت کے مسلہ پر کنفوژ ہو جاتے ہیں اور ٹرائل پر جانے کی بجائے پلی گلٹی کرلیتے ہیں ۔ اس کے برعکس اگر ان کے ساتھ شہادت شئیر کی جائے تو وہ ٹرائل پر جانے یا نہ جانے کے حوالے سے اپنا صحیح فیصلہ کر سکیں گے
سمپوزیم میں مجالس مذاکرہ کے دوران ماڈریٹر کے فرائض ونسینٹ ایوگلیانو، کارلٹن برکلے، میسرز جولیواور میگوئیل سنٹانا نے انجام دئیے ، شرکاءنے جج فرنینڈو ٹھاپیا اور ڈسکوری فار جسٹس کی کوششوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔
سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہ اکہ نیویارک سٹیٹ کے قانون سی پی ایل 240میں تبدیلی سے کریمنل کیس میں گرفتار ہونے والے شخص کو ٹرائل کے لئے اپنا کیس موثر اور بہتر اندازمیں تیار کرنے میں مدد ملے گی
سمپوزیم میں شاہد اعجاز، شیخ توقیر الحق، شبیر احمد گل، طاہر میاں ، آصف بیگ،وسیم سید، ندیم وامق، جمال خان، چوہدری عامر رزاق، سلیم ملک، حاجی یونس، چوہدری خیرات حسین، شاہد کامریڈ، انور واسطی، عمران اگرہ، شہیل شیخ، حسن مسعود بھائی،بازہ روحی، اعجاز احمدنے شرکت کی ۔ انہوںنے جج تھاپیا اور ڈسیکوری فار جسٹس کو اس اہم مسلہ پر ایک تحریک شروع کرنے پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔

تاریخ اشاعت : 2015-04-22 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock