امریکہ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع،بالٹی مور میں تین روزہ اکنا کنونشن

 
 
میری لینڈ ، بالٹی مور( محسن ظہیر) امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں مسلم امریکن کمیونٹی کی ایک اہم و نمائندہ تنظیم اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (اکنا) اورمسلم امریکن سوسائٹی کے زیر اہتمام سالانہ کنونشن شروع ہو گیا ہے
 
 
اس سال کنونشن کا موضوع حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمت الللعالمین رکھا گیا ہے۔ تین روزہ کنونشن کے دوران ہونیوالے معتدد سیمینیارو مباحثوں میں اہم سکالرز نے نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مختلف اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔
 
اکنا کے امیر نعیم بیگ کا کہنا ہے کہ اس سال کنونشن کا موضوع حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم رکھنے کا مقصد سب سے پہلے مسلم کمیونٹی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ان کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کے فرائض کی یاد دہانی ہے اور دوسرا مغرب میں دین اسلام کی تعلیمات کے متعلق بعض حلقوں میں پائے جانیوالے غلط تاثرات کو دور کرنا ہے اور انہیں بتانا ہے کہ دین اسلام دین رحمت ہے۔
 
اکناکنونشن کے انتظامات کے انچارج و آرگنائزر حامد صدیقی کا کہنا ہے کہ اس سال کنونشن میں امریکہ بھر سے بیس ہزار سے زائد لوگ شریک ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق چار ہزار خاندانوں ملک کے مختلف حصوں سے سفر کرکے بالٹی مور پہنچے ۔ حامد صدیقی کا کہنا ہے کہ اکنا کنونشن کے بالٹی مور شہر کی اکنامی پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کل اخراجات ملا کر اس کنونشن کی وجہ سے شہر کی اکنامی کو کم از کم چار ملین ڈالرز ملتے ہیں
 
 
 
یہ وجہ ہے کہ اکنا کنونشن کے انعقاد پر بالٹی مور کی مئیر کی جانب سے کنونشن کو شہر میں خوش آمدید کہا گیا اور مئیر نے کنونشن کے منتظمین اور شرکاء کے لئے اپنا خصوصی پیغام بھجوایا۔ اکنا کنونشن امریکی ریاست میری لینڈ کے بالٹی مور شہر میں ہو رہا ہے کہ جہاں چند ہفتے قبل ایک سیاہ فام کی پولیس کی حراست کے دوران ہلاکت کے واقعہ کے بعد شہر میں اتنے سنگین فسادات شروع ہوئے کہ بالٹی مور میں کرفیو لگانا پڑا
 
 
اکنا کے سیکرٹری جنرل طارق الرحمان کے مطابق اس سال کنونشن میں امریکہ بھر سے بیس ہزار سے زائد شرکاء کے علاوہ  
ساتھ افریقہ ، نیپال ،برطانیہ جاپان، بنگلہ دیش سے بھی مندوبین و مہمان آئے ہیں  
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مئیر بالٹی مور کی جانب سے جہاں کنونشن کے شرکاء کو خوش آمدید کہا گیا وہاں کنونشن سنٹر کے باہر سیکورٹی کا انتظامات سٹی انتظامیہ کی جانب سے کئے گئے ہیں ۔
 
طارق الرحمان کے مطابق اکنا کنونشن ایک ایسا اجتماع ہے کہ جہاں ہر رنگ و نسل اور ہر عمر کے لوگ شریک ہوتے ہیں اور کنونشن میں ہر ایک کی دلچسپی کا ساماں موجود ہوتا ہے
 
کنونشن میں موجود بچوں کے لئے سب سے دلچسپی رائیڈز میں ہوتی ہیں جہاں وہ تین روز قیام کے دوران جی بھر کے کھیلتے کودتے ہیں اور اس کیساتھ ساتھ دینی تعلیم و رہنمائی بھی حاصل کرتے ہیں ۔
 
اس سال کنونشن میں جواں سال جواں کے لئے دلچسپی کا ایک ساماں باسکٹ بال کھیل کا انتظام بھی ہے اور کنونشن کے دوران آل نائٹ باسکٹ بال کھیل کا انتظام کیا گیا ۔
 
اکنا کنونشن دیگر مذہبی اجتماعات سے اس لحاظ بھی مختلف ہوتا ہے کہ یہاں روایتی مذہبی اجتماع کی بجائے روزہ مرہ زندگی کے معاملات ار تفنن طبع کے انتظامات کیساتھ دینی تعلیم و رہنمائی کے انتظام کے ساتھ مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں
 

 

کینیڈا میں مقیم مصر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جمال بداوی کنونشن میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر کینیڈا سے آئے اور وہ برس ہا برس سے کنونشن میں شریک ہو رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ شروع میں یہ کنونشن چند ایک مخصوص کمیونٹی کے ایک اجتماع ہوتا تھا لیکن اب یہ ایک ڈائیورس اجتماع ہے ۔ اس میں ہر کمیونٹی اور رنگ و نسل کے لوگ شریک ہو رہے ہیں ۔ اور شرکاء کی تعداد اور معیار کے لحاظ سے بھی میں ہر سال بہتری محسوس کررہا ہوں
 
حسب روایت اس سال کنونشن میں بین العقائد ہم آہنگی کے سیشن کا بھی انتظام کیا گیا
 
ساؤتھ افریقہ اسلامک سنٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شبیر حسین پہلی بار اکنان کنونشن میں شریک ہوئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے کنونشن کے بارے میں جیسا سنا تھا ویسے ہی پایا ۔ امریکہ میں بلا شبہ یہ ایک مسلم امریکن کمیونٹی کا ایک منظم اور با مقصد اجتماع ہے
 
 
ڈاکٹر شبیر کا کہنا ہے کہ دین اسلام کے بارے میں مغرب میں موجود غلط تاثرات کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ خلق خدا کی بلا امتیاز خدمت کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ساؤتھ افریقہ میں سفید موتیہ ایک بہت بڑا مسلہ ہے ۔ وہاں لاکھوں افراد اس مرض کا شکار ہیں اور ہسپتالوں میں محدود وسائل کی وجہ سے انہیں آپریشن کے لئے کم از کم اڑھائی سال انتظار کرنا پڑتا ہے ۔
 
ہم نے گذشتہ سال وہاں پونے چار سو مریضوں کے فری آپریشن کئے ۔ خدمت خلق کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں ہمارے بارے میں موجود تاثرات یکسر بدل گئے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اکنا کے مختلف ادارے بھی یہ کام کررہے ہیں اور مسلم امریکن کمیونٹی کو نہ صرف ایسے منصوبوں کی سپورٹ کرنی چاہئیے بلکہ ایسے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئیے ۔
 
انہوں نے کہا کہ دین اسلام کی دعوت سے زیادہ ہمارے خلاف ہونیوالا پروپیگنڈہ زیادہ مضبوط ہے اور فلاحی و خدمت کے کام اس پروپیگنڈہ کا موثر توڑ ثابت ہوں گے
 

تاریخ اشاعت : 2015-05-24 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock