فرقے جہالت کی پیداوار ہیں،جاوید احمد غامدی کا پاکستان لیگ آف یو ایس اے کے زیر اہتمام سوال و جواب کی نشست سے خطاب

 

نیویارک (سپیشل رپورٹر سے ) پاکستان کے ممتاز عالم دین اور المورد انسٹیٹیویٹ آف اسلامک سائنسز کے پریذیڈنٹ جاوید احمد غامدی نے کہا ہے کہ آج دنیائے اسلام کے اور اسلامی ممالک کے جو حالات ہیں،اس خرابی کے سب ذمہ دار ہیں اور سب کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔ جنگ و جدال کی بجائے علم و اخلاق کو اپنی ترجیح بنانا ہوگی۔ لوگوں کو بھی علم دیں اور اپنے اخلاقی وجود کو قائم و دائم رکھیں۔

 

 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستانی امریکن کمیونٹی نیویارک کی ممتاز سماجی تنظیم پاکستان لیگ آف یو ایس ا ے اور ال مورد یو ایس اے کے زیر اہتمام یہاں ایڈریا ہوٹل میں پاکستانی و مسلم امریکن کمیونٹی کے ساتھ ایک سوال و جواب کی نشست میں کیا ۔اس نشست کے اہتمام میں پاکستان لیگ آف یو ایس اے کے اجمل چوہدری اور اظہر چوہدری سمیت ان کے ساتھیوں نے اہم کردار ادا کیا ۔تقریب میں لیگ کے عہدیداران کے علاوہ کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔اس روزمرہ زندگی کے معاملات سے متعلق مختلف اہم سوالات جواب اور شرعی مسائل بیان کرتے ہوئے جاوید غامدی نے کہا کہ گناہ کے بعد فورآ توبہ کے لئے رجوع کر کیا جائے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے بارے ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ خدا کی زمین ہے جہاں چاہیں رہیں۔ خواتین کے نیل پالش لگانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں جاوید غامدی نے کہا کہ وضو کرکے نیل پالش لگا لیں اور پھر اس کے اوپر وضو کرتے رہیں۔

 


ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی کی کوئی پراپرٹی ہے تو اس کی مالیت کی بجائے پراپرٹی کے یونٹ پر حاصل ہونے والے کرائے کا دس فیصد زکواة دینا ہوگی ۔


توہین رسالت کی سزاکے بارے ایک سوال کے جواب میں جاوید احمد غامدی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تین سزاو¿ں کا ذکر کیا ہے ،زمین پر فساد پیدا کرنا، چوری کی سزااور بدکاری کی سزا ۔ یہ وہ سزائیں ہیں کہ جو اللہ نے بیان کیں ہیں۔ اس کے علاوہ اگر ریاست کوئی سزا ئیں قائم کرنا چاہیں تو یہ ان پر منحصر ہے ۔


فرقہ پرستی کو جہالت کی پیداوار قرار دیتے ہوئے جاوید غامدی نے کہا کہ فرقے ہمیشہ جہالت سے پیدا ہوتے ہیں جب تک جہالت رہے گی، اس وقت فرقے پیدا ہوتے جائیں گے۔


ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاٹری سمیت ہر قسم کا جوا حرام ہے۔ شب قدر کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب اللہ تعالی نے نہیںشب قدر کا نہیں بتایا تو آپ کو رات کی تاریخ طے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے راتوں میں اس رات کو چھپا کر رکھا ہے اور بہتر یہی ہے کہ رمضان کی راتیں عبادت الٰہی میں بسر کی جائیں ۔

 

عیدین کے چاند کے بارے جاوید احمد غامزدی نے کہا کہ چاند کا مسلہ سائنسدانوں کے سپرد کر دیا جائے۔ سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر غلام اسحاق خان نے مجھے روئیت ہلال کمیٹی کا رکن نامزد کردیا اور میں نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہہ کر کمیٹی کا رکن بننے سے معذرت کر لی کہ مجھ میں چاند دیکھنے کی صلاحیت نہیں ۔سائنسدانوں نے اللہ کے دئیے ہوئے علم کی بدولت کیلنڈر بنا دیا ہے ، اس پر عمل کرنا چاہئیے ۔
طلاق کے بارے میں بات کرتے ہوئے جاوید احمد غامدی نے کہا کہ اشتعال اور غصے میں طلاق نہیں ہوتی۔ اگر میں یہ کہوں کہ میں نے اشتعال میں آکر اپنی ہمسائی کو اپنی بیوی قرار دیدیا تو کیا وہ میری بیوی بن جائے گی؟

 


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ والدین کو بچوں کو شادی پر مجبور کرنے کا کوئی حق نہیں۔ والدین کو بچوں کی تربیت کرنی چاہئیے۔ایک اور سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس کمرے میں تصویریں ہو تو وہاں نماز پڑھنے میں کوئی ہرج نہیں البتہ تمام وقت اللہ کی بارگاہ میں ہونا چاہئیے۔

 


طالبان کے تصور اسلام کے بارے سوال کے جواب میں جاوید غامدی نے کہا کہ میں دین اسلام کا تصور اپنی کتب میں بیان کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدد صرف اللہ سے مانگنی چاہئیے۔ پروردگار ہم تیری کی بندگی کرتے ہیں اور تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔

تاریخ اشاعت : 2015-06-03 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock