نیویارک میں انجمن غوثیہ نیویارک کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسہ و جلوس میلاد النبی ﷺ،کونی آئی لینڈ ایونیو کی فضاءیا رسول اللہ ﷺ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی

 

نیویارک (خصوصی رپورٹ) انجمن غوثیہ نیویارک کے زیر اہتمام حسب روایت اس سال بھی نبی آخر الزمان ، سرور کونین ، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفی ﷺ کے میلاد پاک کے حوالے سے امریکہ میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کے سب سے بڑے گڑھ کونی آئی لینڈ ایونیو ، بروکلین (نیویارک)پر31واں سالانہ عظیم الشان انٹر نیشنل جشن عید میلاد النبی ﷺ منایا گیا۔ اس موقع پر منعقدہ جلسہ و جلوس میں نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی دین اسلام کے حوالے سے تعلیمات کے اہم پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا گیا کہ اسلام امن ، بھائی چارے، خلوص ، رواداری ، تحمل اورکل انسانیت سے محبت کا دین ہے ۔ میلاد النبی منانے کا مقصد بھی اس پیغام کو عام کرنا ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیںبلکہ کل انسانیت اور سب جہانوں کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے اور ان کی تعلیمات سے انحراف کرنے والے کا اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی مسلمانوں سے ۔
انجمن غوثیہ نیویارک کے صدر پیر سید صفدر حسین شا ہ قاسمی کی زیر سرپرستی نیویارک میں نکالے جانے والے جشن عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس و جلسہ کی صدارت والی ¾ موہڑہ شریف ،رہبر شریعت،پیر طریقت علامہ ڈاکٹر فضیل عیاض قاسمی نے کی جبکہ جلسہ و جلوس میںپاکستان کے ممتاز علماءکرام مولانا سید مظفر حسین شاہ،مفتی اقبال چشتی ، ڈاکٹر جمیل راٹھور،حافظ نعیم نے خصوصی شرکت کی ۔ جلسہ و جلوس میں شامل دیگر علماءکرام میںعلامہ ڈاکٹر سید شہزاد مصطفی الحسینی،علامہ ڈاکٹر شہباز احمدچشتی،صوفی محمد انور مدنی، سید میر حسین شاہ چشتی نظامی، صوفی مشتاق نقشبندی، قاری یونس قادری، علامہ خبیب چشتی، ڈاکٹر رفیق چوہدری، قاری سیف النبی قادری، قاری غلام رسول ، میاں غلام حیدر، حافظ عبدالقدیر، حافظ حبیب اللہ ، قاری محمد حسین رضوی اور صاحبزادہ سلطان ریاض الحسن کے صاحبزادے نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی ۔
جلو س میں ممتاز ثناءخوانان مصطفی صاحبزادہ عبدالکریم سلطان ،محمد علی سہروردی، ڈاکٹر غلام مرتضی نقیبی، محمداصغر چشتی، خان فیاض خان، سجاد بٹ، راجہ رزاق سمیت دیگر بھی شریک ہوئے ۔ وہ جلسہ و جلوس کے دوران تما م راستے سرکار دو عالم ﷺکی شان مبارکہ میں ہدئیہ عقیدت پیش کرتے رہے اور فضاءتمام وقت درود و سلام سے گونجتی رہی ۔


میلاد النبی ﷺ کے جلسہ و جلوس کے انعقاد میں مکی مسجد نے خصوصی تعاون کیا جبکہ پاک امریکن سیفٹی پٹڑول کے ناصر اعوان کی جانب سے حسب روایت خصوصی کوارڈی نیشن کی گئی ۔قونصل جنرل راجہ علی اعجاز نے بھی جلو س میں خصوصی شرکت کی ۔اس موقع پر پاک امریکن سیفٹی پٹرول کے چئیرمین ناصر اعوان کی جانب سے 70پریسنٹ جس کا ہر سال جلوس و جلسہ میلاد کے انعقاد میں ہر سال کی طرح اس سال بھی خصوصی تعاون رہا ، کے کمانڈنگ آفیسر ڈپٹی انسپکٹر جیمز پلمبو اور پولیس آفیسر مائیکل (مائیک) سمتھ کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر پوری کمیونٹی کی جانب سے خصوصی شیلڈز پیش کی گئیں جو کہ انہیں قونصل جنرل راجہ علی اعجاز اور علامہ ڈاکٹر فضیل عیاض قاسمی نے ملکر پیش کیں ۔ کاوش ٹی و ی کے ارشد اعوان اور اصغر میر کی جانب سے حسب روایت اس سال کمیونٹی رہنما طاہر بھٹہ اور پاکستان کے معروف عالم دین علامہ سید مظفر حسین شاہ کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر شیلڈز پیش کی گئیں ۔ مکی مسجد میںجلوس و جلسہ میلا د کے شرکاءکے لئے حسب روایت اس سال بھی وسیع لنگر کے انتظام اہالیان کڑیانوالہ کی جانب سے کیا گیا۔


جلوس میلاد النبی ﷺ کے دوران سید صفدر شاہ کے صاحبزادے کی علامہ ڈاکٹر فضیل عیاض قاسمی نے اپنے دست مبارک سے دستار بندی بھی کی اور اعلان کیا گیا کہ انشاءاللہ نیویارک میں انجمن غوثیہ کے زیر اہتمام جلوس و جلسہ میلاد النبی تا قیامت جاری رہے گا۔علامہ ڈاکٹر فضیل عیاض قاسمی نے سید صفدر شاہ اور انجمن غوثیہ نیویارک کے تمام ارکان کو حسب روایت اس سال بھی نیویارک میں میلاد النبی ﷺ کا تاریخی جلوس و جلسہ کے انعقاد پر مبارکباد دی ۔ انہوں کونی آئی لینڈ ایونیو پر جلوس کے اختتام پر اور مکی مسجد میںجلسہ کے اختتام پر خصوصی دعا کرواتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ امت مسلمہ کےلئے رب ذولجلال کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ لہذا آپ کے یوم ولادت پر تشکر اور خوشی کا اظہار ہر صاحب ایمان پر لازم ہے۔ انہوں کہا کہ رب کائنات نے آپ ﷺ کو رحمة للعالمین، ہادی کائنات، اسوہ¿ حسنہ، شافع محشر اور ساقی کوثر بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن وسنت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی سب سے پہلی مخلوق نور محمدی ہے اور پھر ساری مخلوق اس سے پیدا کی گئی لہذا رحمة للعالمین ہونے کا معنیٰ یہ بھی ہے کہ پوری کائنات کو آپ ﷺ کے نور سے وجود ملا ہے۔


جلوس کا آغاز حسب روایت ایونیو ایچ ، کونی آئی لینڈ ایونیو سے ہوا جہاں پی آئی اے کار لیمو کے افتخار بٹ اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے علماءکرام ، ثناءخوانان اور شرکاءجلوس کے اعزاز میں ناشتہ کا اہتمام کیا گیا ۔ ناشتے کے بعد علامہ ڈاکٹر فضیل عیاض قاسمی نے خصوصی دعا کروائی جس کے بعد درود و سلام کی بلند آوازوں کے ساتھ جلوس کا آغاز ہوا ۔ جلوس ایو نیو ایچ سے لیکر 18ایونیو تک گیا اور وہاں سے واپس مکی مسجد کے سامنے آکر اختتام پذیر ہوا ۔
 
مزید کہا کہ نبی پاک کا دامن مضبوطی سے پکڑ لو، کبھی دنیا و آخرت میں ٹھوکر نہیں کھاو¿ گے۔ سچا عاشق وہ ہوتا ہے کہ جو محبوب کے رنگ میں رنگ جائے۔ نماز کا حکم سب کام پر اولین ترجیح حاصل ہے۔
مکی مسجد میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید مظفر شاہ نے کہا کہ عشقِ رسول اور ذکر رسول امت کے اتحاد کی ضمانت ہے۔ اس کاز کی ہمیشہ حفاظت کرنی ہے اور اس کو فروغ دینا ہے۔آقا کریم ﷺ جب پیدا ہوئے تو اتنا نور پھیلا کہ سیدہ آمنہؓ کو سینکڑوں میل دور کے محل بھی نظر آرہے تھے۔آپ اس دنیا کے گلشن میں بہار بن کر تشریف لائے ۔علامہ سید مظفر شاہ نے کہا کہ اگر فیض حاصل کرنا ہے تو سرکار دو عالمﷺ کا ذکر کرتے رہنا ہوگا۔ مصطفیٰ ہدایت کا پورا قرآن لیکر پیدا ہوئے۔ہمیں اپنی دنیا اور آخرت کو قران اور صاحب قران کے احکامات پر عمل کرکے کامیاب و کامران بنانا ہوگا، یہی وہ عزم ہے کہ جو اس سال اور آنیوالے سالوں میں میلاد النبی پر کرنا ہوگا۔


پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ ممتاز عالم دین مفتی اقبال احمد چشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موت و حیات کو جس نے لذت عطا کی ہے وہ کمال مصطفی ٰ ہے۔ صورت ایسی کہ جو دیکھے فدا ہو جائے، ادائیں ایسی کہ جو دیکھے فنا ہو جائے۔ جمال یار کو رب نے لٹنے کے لئے اور کائنات کو لوٹنے کے لئے بنایا ہے۔ اسی جمال پر درزی اور عرشی دونوں ہی لٹے۔ جو مصطفی کی اداو¿ں پر فنا ہو جائے وہ محبوب خدا ہو جائیگا۔
قرآن کی ترتیب دیکھیں کہ کہتا ہے کہ پہلے محبوب بناو¿ں گا پھر گناہوں کو بخشے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ نسبت مصطفی ٰ دیکھتے ہیں۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ میلاد کیوں مناتے ہیں ؟ میں کہتا ہوں کہ جس کی نسبت سے گناہ گاروں کو اللہ تعالیٰ محبوب بنا لے، اس کی آمد پر جشن نہ بنائیں تو اور کیا کریں ! اگر اصحاب کہف کا کتا غار کا پہرا دینے کی وجہ سے جنت میں چلے جائیگا تو تاجدار مدینہ کے یہ گناہ گار بھی اپنے آقا کریمﷺ کی وجہ سے جنت میں چلے جائیں گے۔ اچھے عمل کریں ، نبی کریم کے حکم کی وجہ سے لیکن اعمال کے بعد بھی کہیں کہ آقا کریم ﷺہمارے اعمال کافی نہیں بس ایک اشارہ ہو جائے۔
مفتی اقبال چشتی نے مزید کہا کہ رسول اللہ کی محفل میں ایک پینڈو آیا اور کہا کہ آقا کریم قیامت کے دن حساب کون لے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ حساب لے گا تو اس نے کہا کہ پھر کیا فکر ہے ،وہ تو اپنا رب ہے۔ آپ کا رب ہے۔ اس نے سرکار کی موجودگی میں نعرہ لگایا کہ کعبہ کے رب کی قسم ہم کامیاب ہی کامیاب ہیں۔سرکار نے فرمایا کہ کیا حال ہے ؟ اس نے کہا کہ کریم جب کسی کو قابو میں لے لیتا ہے تو سنبھال لیتا ہے۔مفتی اقبال چشتی نے مزید کہا کہپچاس ہزار کا دن حساب لینے کے لئے نہیں عظمت مصطفی دکھانے کے لئے ہے۔مختصر بات کروں تو یہ ہے کہ رب بھی محمدﷺ کا اور سارا جگ بھی محمدﷺ کا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کی خدائی ہو اور ذکر محمد رک جائے ! ایسا ممکن نہیں۔


پاکستان کے معروف اینکر پرسن اور عالم دین ڈاکٹر جمیل راٹھور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ سرکار کائناتﷺ کی حیات مبارکہ کی قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ محمدﷺ سے بڑھ کو پیارا اور حسین کوئی اور پیدا نہیں کیا ہے۔ اللہ نے اپنی حقانیت کی دلیل اگر کسی کو بنایا ہے تو آمنہ ؓکے لعل کو بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی مومن اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا کہ جب تک وہ سب سے زیادہ محمد مصطفی ﷺسے پیار نہیں کرتا۔ اللہ تعالی ٰ نے رب محمد مصطفی ﷺٰ ہونے پر ناز فرمایا۔انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی پہچان کے لئے محمد مصطفی کو بھیجا ہے۔ چہرہ مصطفی کا ہوگا، جلوے خدا کے جھلک رہے ہونگے۔ جو اس صورت کو جان جائے وہ رب اور اس کی کائنات کو پہچان جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عبادت اور سجدے کیا ابلیس کے کم تھے؟ بھٹک گیا کہ توہین کر بیٹھاتو سب کچھ گنوا بیٹھا۔ بارہ ربیع الاول اس کائنات کا یونیورسل ڈے ہے۔ اس روز اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے ذریعے چراغاں کرتے ہیں۔
مولانا حافظ نعیم نے کہا کہ جو جس سے پیار کرتا ہے، روز قیامت وہ اس کے ساتھ ہوگا۔ ایک صحابیؓ نے آقا کریم ﷺسے عرض کی کہ حضور جنت میں آپ کا پڑوس چاہئیے، سرکار نے فرمایا کہ کچھ اور چاہئیے !!۔ نبی کریم نے فرمایا کہ اللہ کی بارگاہ میں خوب سجدے کیا کرو۔ سرکار سے بڑا جمال، کمال اور احسان والا کوئی نہیں۔ اپنی اولاد کو عاشق رسول بنائیں۔ میلاد منا کر ان کی تربیت شروع کریں ،پھر آل بیت اطہارؓسے پیار کرنا سکھائیں اور انہیں قرآن سکھائیں۔
قاری محمد حسین رضوی، قاری محمد یونس قادری ، صاحبزادہ سلطان ریاض الحسن کے صاحبزادے، صوفی محمد مشتاق نقشبندی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حاضر و ناظر بن کر بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ حضرت محمدﷺ کی تعظیم کرو۔ ایمان مقدم ہے۔ اگر ایمان نہیں ہے تو اس کی عبادت کا کوئی فائدہ نہیں۔ عبادت اور ریاضت کا معاملہ تو بعد میں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شاہد اور نذیر بنا کر بھیجا۔ نبی پاک کو مسلمان ساری کائنات سے اعلیٰ و افضل سمجھیں۔ آپ کے مقابلے میں کسی کو بہتر نہیں سمجھنا چاہئیے۔ حضور سے جس کو نسبت ہو اس کی تعظیم کرنا نبی کریمﷺ کو ماننے والے پر لازم ہے۔ مومن علمائے حق کی تعظیم کرے گا۔ اہل سنت کا طرہ امتیاز بھی یہی ہے کہ وہ تعظیم کو ہمیشہ مقدم رکھتے ہیں۔

۔

تاریخ اشاعت : 2016-12-13 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock