پاکستانی امریکن کمیونٹی کو مہینے میں بیٹوں کے ہاتھوں باپ کے قتل کے دو واقعات نے ہلاک کر رکھ دیا

جولائی میں نیویارک میں حسن رزاق نے اپنے والد چوہدری رزاق کو جبکہ اگست میں حسنات عباسی نے میری لینڈ میں اپنے والد شکیل عباسی کو گھر میں قتل کر دیا


ہمیں یہ شرم نہیں ہونی چاہئیے کہ ہماری کمیونٹی میں گھریلو تشدد کے واقعات کا کوئی مسلہ ہے بلکہ اس بات پر شرمندہ ہونا چاہئیے کہ کمیونٹی میں مسلہ ہو اور ہم مسلہ سے منہ پھیر لیں ۔روبینہ نیاز


 مسجد اور دین سے دور ی کی وجہ سے اولاد بے راہ رو ی کا شکار ہو رہی ہے ۔مساجد میں صرف دین نہیں ضابطہ حیات اور رشتوں کے احترام کا درس بھی دیا جاتا ہے ۔ڈاکٹر علامہ شہباز چشتی


 


نیویارک (محسن ظہیر سے ) پاکستانی امریکن کمیونٹی کو دو مہینوں میں بیٹوں کے ہاتھوں باپ کے قتل کے دو واقعات نے ہلاک کر رکھ دیاہے ۔18اگست ، منگل کو امریکی ریاست میری لینڈ کے علاقے کیٹنز ول میں 18سالہ حسنات عباسی نے اپنے 50سالہ والدشکیل احمد عباسی کو گھر میں پیش آنیوالے ایک واقعہ کے دوران قتل کر دیا ۔ ایک ماہ قبل بروکلین، نیویارک میں 20جولائی کو 19سالہ حسن رزاق نے اپنے والد چوہدری رزاق کوچھری کے وار کرکے ہلاک کر دیا ۔


تفصیلات کے مطابق حسنات احمد عباسی نے 18اگست کی صبح اپنے والد کو گھر میں قتل کیا اور پھر والد کی ویگن لیکر نزدیکی ریاست پنسلوینیا فرار ہو گیا جہاں ایک کار ریسٹ ایریا میں سے اس نے نیوجرسی میں مقیم اپنے ایک رشتہ دار کو فون کرکے کہا کہ وہ میری لینڈ اس کے گھر فون کرکے گھروالوں سے کہیں کہ وہ والد کو جا کر کمرے میں چیک کریں ۔ حسنات کے رشتہ داروں نے اس کی والدہ کو گھر پر کال کی جنہون نے شکیل عباسی کو کمرے میں جا کر دیکھا تو وہ مردہ حالت میں پڑا تھا۔ بیوی نے شوہر کو مردہ حالت میں دیکھ کر پولیس کو کال کی جس نے موقع پر پہنچ کر شکیل عباسی کو مردہ قرار دیا۔


میری لینڈ پولیس کی جانب سے مقتول عباسی کو ان کی فون کال کے سگنل سے ٹریس کرکے پنسلوینیا پولیس کی مدد سے کار پارکنگ ایریا سے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔


واضح رہے کہ شکیل عباسی قتل کیس کے ایک ماہ قبل نیویارک کے علاقے بروکلین میں حسن رزاق نے اپنے والد کو گھریلو ناچاقی کے بعدقتل کر دیا تھا ۔گھریلو جھگڑوں اور تشدد کے سامنے آنے والے ان ہولناک دو واقعات اور نتائج نے پاکستانی کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے


سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مذکورہ خبروں پر تبصرے کرتے ہوئے کمیونٹی ارکان نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔بعض ارکان کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ہر وقت ڈالروں کے پیچھے بھاگنے اور اولاد کو مسلسل نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہیں جبکہ بعض ارکان کی یہ رائے ہے کہ پاکستانی والدین کو روایتی پاکستانی والدین کی طرح ہر وقت میں گھر میں اولاد پر رعب جمانے کے طریقے اور ان پر زبردستی مسلط کرنے سے گریز کرنا چاہئیے ۔

 

 


 

ضیاءالکرم اسلامک سنٹر کے خطیب ڈاکٹر علامہ شہباز احمد چشتی کے مطابق مسجد اور دین سے دور ی کی وجہ سے اولاد بے راہ رو ی کا شکار ہو رہی ہے ۔مساجد میں صرف دین نہیں ضابطہ حیات اور رشتوں کے احترام کا درس بھی دیا جاتا ہے ۔یہ واقعات کمیونٹی کے لئے لمحہ فکرئیہ ہونے چاہئیے ۔

 


گھریلو تشدد کے واقعات سے ڈیل کرنے والے تنظیم ”ٹرننگ پوائنٹ“ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر روبینہ نیاز کے مطابق پاکستانی کمیونٹی میں گھریلو تشدد کے واقعات کی وجہ بہت گہری ہے ۔ہمیں یہ شرم نہیں ہونی چاہئیے کہ ہماری کمیونٹی میں گھریلو تشدد کے واقعات کا کوئی مسلہ ہے بلکہ اس بات پر شرمندہ ہونا چاہئیے کہ کمیونٹی میں مسلہ ہو اور ہم مسلہ سے منہ پھیر لیں ۔محض آنکھیں چرانا کسی مسلہ کو کوئی حل نہیں ہوتا ۔

 

 

روبینہ نیاز نے کہا کہ جو اولاد اپنے والد یا والدین کو بدسلوکی کرتے دیکھیں گی ، بہت زیادہ امکان ہوتا ہے کہ وہ اولاد بھی بڑے ہو کر بدسلوکی کا مظاہرہ کرے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نیویارک کے بعد میری لینڈ میں بیٹے کے ہاتھوں باپ کے قتل کی واردات پر حیران نہیں ہوں ۔ یہ واقعات اچانک نہیں ہوتے ۔ان کے پیچھے ایک عرصے کا یا سالوں کی تاریخ ہوتی ہے ۔ ہماری کمیونٹی کا ایک پرابلم یہ بھی ہے کہ ہم مسلہ کے ہوتے ہوئے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں کوئی مسلہ درپیش نہیں ہے ۔


روبینہ نیاز نے کہا کہ میری پاکستانی کمیونٹی سے التجا ہے کہ گھریلو تشدد کے واقعات کو پردے میں نہ رکھیں ۔ وہ ہماری ٹرننگ پوائنٹ جیسی کسی بھی تنظیم سے رابطہ کریں ۔یہ ذاتی معاملہ نہیں ہے ۔ مساجد میں امام صاحبان سے کہا جائے کہ وہ کمیونٹی میں آگاہی پیدا کریں ۔ پروفیشنل تربیت یافتہ افراد سے رجوع کریں۔اگر گھریلو تشدد کے کسی کیس میں عورت یا بچے خطرے میں ہے تو ضرور پولیس کو رپورٹ کریں ۔لیکن اگر مسلہ کی شروعات ہو تو پروفیشنل تنظیموں سے رابطہ کریں جہاں ان کیسوں کو صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے ۔

تاریخ اشاعت : 2015-08-20 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock