غریب کو حقوق اسی وقت ملیں گے کہ جب وہ پارلیمنٹ میں سیاسیدان کے سامنے جا بیٹھے گا؛ جواد احمد

لوگ کہتے ہیں کہ متوسط طبقے(مڈل کلاس) کو آگے آنا چاہئیے ۔میں پوچھتا ہوں کہ متوسط طبقہ غریب طبقے کے لئے کیسے کچھ کریگا؟متوسط طبقے کے تو اپنے گھر میں غریب کا استحصال ہوتا ہے


انٹر نیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ ، مزدورو ں ،کسانوں ، غریبوں کی بات کرتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں سیاست اس وقت صحیح ہو گی کہ جب یہ طبقے سیاست کے سٹیک ہولڈر بنیں گے


سیاسی جماعتیں کبھی لین دین کا پلیٹ فارم نہیں ہوتیں، وہ اپنے سیاسی مفادات کی طرف مائل رہتی ہیں۔ لوگ ووٹ پر ووٹ دیتے آرہے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ غریب آدمی کی حالت نہیں بدلی


پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوںنے شام ل ہونے کی پیشکش کی ، پاکستان کا اصل مسلہ معیشت ہے جو کہ سیاسی جماعتیں حل نہیں کرینگی، وہ اپنے مفادات کی طرف مائل رہتی ہیں


ہم انتخابی سیاست کو ہدف بنائے بغیر پاکستانی سیاست میں مزدور، کسان ، غریب و متوسط طبقے کے سیاسی کردار کو منظم شکل دینگے، انٹر نیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ کے جواد احمد کا نیویارک میںسیمینار سے خطاب


پاکستان میں مزدور کسان جدوجہد کا ایک دور گذرا ہے، جواد احمد کی شکل میں اس طبقے کےلئے ایک تحریک نے ایک بار پھر جنم لے لیا ہے ۔ اوورسیز پاکستانیوں کو جواد احمد کا بھرپور ساتھ دینا چاہئیے ؛عابد بٹ


ہم چاہتے ہیں کہ ایک ایسی عوامی تحریک شروع کریں کہ جس میں مزدور،کسان، سٹوڈنٹس، غریب و متوسط طبقے منظم ہوکر اپنے حقوق کے حصول کو یقینی بنائیں ،رائز فار ایکلویٹی کی ڈاکٹر شہناز خان


 جواد احمد کا ملک کے غریب و متوسط طبقے کو منظم کرنے اور انہیں ترقی و کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوششوں کا سب کو ساتھ دینا چاہئیے ۔خالد اعوان،رانا رمضان، چوہدری اعجاز فرخ ، صحافی عظیم ایم میاں

 

 

 
نیویارک ( خصوصی رپورٹ) پاکستان کے مشہور زمانہ گلوکار جواد احمد جو کہ انٹر نیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں سماجی شعبے میں بالخصوص غریب و متوسط طبقے کےلئے گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں، کے اعزاز میں یہاں استقبالیہ کے اہتمام کے علاوہ خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا ۔ اس سیمینار کے انعقاد میں نیویارک کی پاکستانی امریکن کمیونٹی کی معروف سماجی شخصیت عابد بٹ اور ”رائز فار ایکویلٹی“ کی ڈاکٹر شہناز خان نے خصوصی کردار ادا کیا ۔ نظامت کے فرائض خالد اعوان نے انجام دئیے جبکہ استقبالیہ و سیمینار میں رانا رمضان ، اعجاز فرخ چوہدری ، سعود کھوکھر، ملک خالد ،عذرا ڈار سمیت کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شریک ہوئیں ۔
جواد احمد نے سیمینار سے خطاب کے دوران انٹر نیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ کے پلیٹ فارم کے اغراض و مقاصد اور کی جانیوالی کوششوں سے آگاہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے شامل ہونے اور کام کرنے کی پیشکش کی گئی لیکن میں نے معذرت کر لی ۔پاکستان میں ہم سیاسی جماعتوں میں جا کر ہم کچھ کر نہیں سکتے ۔ پاکستان کا اہم مسلہ ملکی معیشت ہے اور اس مسلہ کو سیاسی جماعتوں کے پاس حل کرنے کا کوئی سائنسی طریقہ کم از کم مجھے نظر نہیں آتا۔دنیا کی ہر معیشت میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ایک مالک اور دوسرا ملازم ۔دنیا میں بادشاہت، جاگیرداری اور حتیٰ کہ جدید نظام میں طبقاتی تقریق کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے ۔امریکہ میں بھی زراعت اور انڈسٹری کے شعبوں سے وابستہ طبقوں کے درمیان ایک طویل صف آرائی رہی بالآخر نارتھ کو یا انڈسٹرئیلسٹ طبقے کو کامیابی ملی اور اسی دور کے بعد امریکہ ایک اہم ملک کی صورت میں ابھر کر سامنے آیا اور یہاں ترقی کا ایک دور شروع ہوا۔اگر اس صف آرائی میں زراعت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کامیابی ہوجاتی تو شاید امیگرنٹ زیادہ تعداد میں امریکہ حصول معاش کے لئے نہ آتے ۔ آپ کو معلوم ہے کہ سول وار سے پہلے ساوتھ میں غلامی تھی، وہاں غلام ہی کاشتکاری کرتے تھے ۔باالفاظ دیگر غلامی پر مبنی معیشت تھی ۔


جواد احمد نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں معیشت کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور معیشت پر معاشرے کا بہت دارومدار ہوتا ہے۔ امریکہ دنیا میں سپر پاور دوسری جنگ عظیم کے بعد بنا۔امریکہ آخری وقت پر جا کر دوسری جنگ عظیم میں فریق بنا۔ دوسری جنگ عظیم بھی دراصل معیشت کی بنیاد پر شروع ہوئی ۔ اس زمانے میں جو بڑی معاشی قوتیں تھیں ،انہیں جہاں وسائل نظر آتے تھے، وہ اٹھا کر لے جاتے تھے ۔ جواد احمد نے کہا کہ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں دائیں اور بائیں بازو کے مکاتب فکر نظر آتے ہیں ۔ دائیں اور بائیں بازو کی سوچ کے حامی کے معیشت کے حوالے سے اپنے اپنے نظریات ہیں ۔کیپیٹل ازم کہتا ہے کہ ہمارے طریقہ کار میں انسان کی بقاءاور ترقی ہے ،بائیں بازو کی سوچ کے حامی کہتے ہیں کہ دنیا ساری کی ساری ورکرز کی ہونی چاہئیے ۔کیپیٹل ازم میں انسان کا بنیادی رشتہ مالک اور ملازم کا ہے ۔کیپیٹل ازم میں مالکان معیشت کو ہی نہیں بلکہ سرمائیہ کی بنیاد پر سیاسی پالیسی سازی کے عمل پر بھی اثرا نداز ہوتے ہیں ۔ امریکہ سمیت دنیا میں سرمائیہ کاروں کے سیاسی اثر و رسوخ سے سب واقف ہیں ۔امریکہ میں تفریق بہت زیادہ ہے لیکن چونکہ لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی مل جاتی ہیں ، اس لئے انہیں فرق محسوس نہیں ہوتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں بھی طبقاتی تفریق بہت زیادہ ہے ۔


جواد احمد نے کہا کہ اگر ورکر کلاس کو کام کے باوجود روٹی ، کپڑا اور مکان نہ ملے تو ورکر کلاس سوا ل اٹھاتی ہے کہ ہم کام کیوں کریں ؟لیفٹ ورکنگ کلاس کی جبکہ رائٹ کیپیٹل کلاس کی بات کرتا ہے ۔ان دونوں کے ہونے سے دراصل ایک توازن قائم رہتا ہے ۔امریکہ کی تاریخ دیکھیں تو یہاں لیبر اور سول رائٹس کی موومنٹ کام کرنے اور محروم طبقے کی تحریکیں تھیں ۔وہ کسی امیر طبقے کی تحریکیں نہیں تھیں ۔ان تحریکوں کے نتیجے میں بالآخر امریکہ کو مذکورہ دونوں طبقوں کے درمیان بارگین(لین دین)کروانا پڑا جو کہ آج تک ہو رہا ہے ۔
جواد احمد نے کہا کہ امریکہ میں آج بھی الیکشن میں سیاست اہم موضوع ہوتا ہے جس پر امیدوار کی کامیابی کا انحصار ہورتا ہے۔ پاکستان میں پرابلم یہ ہے کہ سیاست میں معیشت کا سوال ہی نہیں اٹھایا جاتا۔تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو لے لیں ۔ ان جماعتوں نے جہاں جہاں ان کی صوبائی حکومتیں ہیں، وہاں پنجاب میں انہوں نے کم از کم اجرت تیرہ ہزار، سندھ میں بارہ اور پندرہ ہزار مقرر کی ہے۔پندرہ ہزار کا مطلب 150ڈالرز ہے ۔ سوچیں کہ کیا 12سے15 ہزارروپے میں انسان اپنے بچوں کے ساتھ کھانے پینے، تعلیم علاج سمیت اہم ضروریات کے ساتھ زندگی گذار سکتا ہے ؟پاکستان میں ایسے لوگ بھی ہیں بالخصوص بچے ایک ہزار روپے ماہانہ پر گذارا کرتے ہیں ۔جنوبی پنجاب کے کھیت مزدور چھ ہزار روپے ماہانہ پر کام کررہے ہیں ۔پنجاب حکومت نے انہیں ایک سال قبل ٹریڈ یونین بنانے کی اجازت دی ہے ۔ یہ پاکستان کی 45فیصد آبادی کی صورتحال ہے ۔ اگر مجھ سے پوچھیں کہ فیکٹریوں میں کیا ہو رہا ہے ۔ بلدیہ فیکٹری کراچی جس میں آگ لگ گئی تھی ، وہاں مزدور آٹھ نو ہزار روپے ماہانہ پر کام کرتے تھے ۔ ان کے پاس کوئی سوشل سیکورٹی ، پنشن، اولڈ ایج بینیفٹ نہیں ہوتے ۔ہم نے وہاں پٹیشن دائر کی ۔کہا کہ متاثرہ خاندانوں کا جانی نقصان پورا کرنا الگ مسلہ ہے لیکن یہ بتائیں کہ باقی فیکٹریوں میں جو ہزاروں لاکھوں مزدور کام کررہے ہیں، ان کے حقوق کے مسلہ کا کیا کرنا ہے ؟یہ صنعتی ورکرز کی حالت ہے ۔
جواد احمد نے کہا کہ ان سروس انڈسٹریز کے ورکرز کی صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ گھروں میں پورا پورا خاندان کام کررہا ہے اورپورے خاندان کو دس سے پندرہ ہزار فی خاندان کو معاوضہ ادا کیا جا رہا ہے ۔ یوں ورکنگ کلاس کا استحصال ہو رہا ہے ۔ پاکستان میں ورکنگ کلاس85فیصد ہے اور متوسط طبقے کو ورکنگ کلاس نظر نہیں آتی ۔مڈل کلاس ادوروں، فیکٹریوں،دفتروں،کھیتوں میں ورکنگ کلاس سے کام لیتی ہے ۔پاکستان میں مڈل کلاس نے کچھ ترقی کی ہے لیکن ورکنگ کلاس نیچے کی طرف جارہی ہے ۔مڈل کلاس کا یہ حال ہے کہ میرے والد صاحب کے زمانے میں ایک پڑھا لکھا جوان کام کرکے اپنا گھر بنالیتا تھا لیکن آج ایک مڈل کلاس کا بندہ خواہ وہ انجنیئر یا کوئی اہم عہدہ پر ہو، اپنا گھر اچھی جگہ پر پوری زندگی نہیں بنا سکتاکیونکہ اس کے پاس بچت نہیں ہوتی۔آج کی مڈل کلاس کو دیکھیں تو ان کے پاس وہ اثاثے نہیں ہیں کہ جو ان کے ماں باپ نے اپنے زمانے میں بنا لئے ۔لوگ زیادہ تر اپنے والدین کے گھروں میں رہ رہے ہیں ۔ایک خاص سائز ہے مڈل کلاس کا جو ترقی کررہی ہے ۔
جواد احمد نے کہا کہ پاکستان میں اصل مسلہ معیشت کا ہے ۔معیشت میں دو سٹیک ہولڈرز ہیں ۔اگر ہم نے ورکنگ کلاس کو سٹیک ہولڈر نہ بنایا اور انہیں اپنے حقوق کے لئے وہ جدوجہد نہ کرنے دی کہ جو پوری دنیا میں ہوئی ،تو ترقی نہیں ہو گی۔ کوئی کسی کو اس وقت تک حق نہیں دے گا جب تک کہ وہ مانگے گا نہیں ۔
جواد احمد نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ متوسط طبقے(مڈل کلاس) کو آگے آنا چاہئیے ۔میں پوچھتا ہوں کہ متوسط طبقہ غریب طبقے کے لئے کیسے کچھ کریگا؟متوسط طبقے کے تو اپنے گھر میں غریب کا استحصال ہوتا ہے۔کیا اگر کسی متوسط طبقے کے گھر میں کام کرنے والے کسی غریب کارکن کو خدانخواستہ ہیپا ٹائٹس سی ہو جائے تو کیا وہ اس کا لاکھوں روپے کا علاج کروائیگا؟کبھی بھی نہیں کروائیگا۔اسی طرح اگر متوسط طبقے کا بندہ پارلیمنٹ میں پہنچ گیا تو کبھی بھی غریب طبقے کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کریگا۔پارلیمنٹ میں جب تک غریب آدمی نہیں جائیگا، اس وقت تک پاکستان کا مقدر نہیں بدلے گا۔انسانوں کی زندگی کے اہم فیصلے سیاست میں ہوتے ہیں ۔لہٰذا جب تک غریب طبقے کو سیاست میں سٹیک ہولڈر نہیں بنائیں گے ، اس وقت تک غریب طبقے کی حالت نہیں بدلے گی ،ملک کی حالت بھی بدستور یہی رہے گی ۔
جواد احمد نے کہا کہ انٹر نیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ ، مزدورو ں ،کسانوں ، غریبوں کی بات کرتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں سیاست اس وقت صحیح ہو گی کہ جب یہ طبقے سیاست کے سٹیک ہولڈر بنیں گے اور اپنے حقوق کےلئے منظم ہونگے۔ متوسط طبقے کو ان کے ساتھ ملکر کام کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتیںکبھی لین دین کا پلیٹ فارم نہیں ہوتیں، وہ اپنے سیاسی مفادات کی طرف مائل رہتی ہیں۔ لوگ ووٹ پر ووٹ دیتے آرہے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ غریب آدمی کی حالت نہیں بدلی ، وہ جہاں 69سال پہلے تھا، آج بھی وہاں پر ہی کھڑا ہے ۔سیاسی جماعتوں ک کی بجائے ،ٹریڈ یونین کو لین دین کا پلیٹ فارم ہونا چاہئیے جہاں سٹیک ہولڈرز آمنے سامنے بیٹھیں اور معاملات کو طے کریں ۔
جواد احمد نے کہاکہ انٹر نیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ ، ٹریڈ یونین ،مزدوروں کسانوں کا منظم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم انتخابی عمل میں جائے بغیر سیاسی کام کرنا چاہتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ کام کرنے والے طبقے کی حالت اس وقت تک نہیں بدلے گی کہ جب تک کہ وہ ایک طبقے سے خود کو ایک ایسے طبقے میں نہ بدل لے کہ جس کا کام اس کی اپنی حالت کو بدلنا نہ ہو۔یہ وہ سیاسی عمل ہے کہ جو ہم کام کرنے والے طبقے میں پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ جس دن یہ کام ہو گیا، اس دن سیاسی جماعتیں خود بخود سدھر جائیںگی، اس کی سمت بھی درست ہو جائے گی کیونکہ ان کو پتہ ہوگا کہ غریب طبقے منظم ہو کر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عابد بٹ نے کہا کہ پاکستان میں مزدور کسان جدوجہد کا ایک دور گذرا ہے اور ہمیں فخر ہے کہ جواد احمد کی شکل میں اس طبقے کےلئے ایک تحریک نے ایک بار پھر جنم لے لیا ہے ۔ پاکستان بالخصوص اوورسیز پاکستانیوں کو جواد احمد اور ان کی تنظیم کہ انٹر نیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ کا بھرپور ساتھ دینا چاہئیے ۔
ڈاکٹر شہناز خان نے سلائیڈ شوز کے ذریعے Rise For Equalityاور کہ انٹر نیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے اہم مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے وسائل مٹھی بھر مخصوص ہاتھوںمیں ہیں ۔اس طبقے کی تمام طبقوں پر اجارہ داری ہے ۔پوری دنیا کی آدھی سے زائد آبادی اڑھائی ڈالرز روزانہ کی بنیاد پر زندگی گذاررہی ہے ۔انہوں نے کہا ہ ہم مشن یوتھ اور ورکرز کو ان کے حقوق سمیت اہم معاملات سے آگاہ کرنا ہے ، ان میں شعور اور اہم معاملات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ ایک ایسی عوامی تحریک شروع کریں کہ جس میں مزدور،کسان، سٹوڈنٹس، غریب و متوسط طبقے منظم ہوکر اپنے حقوق کے حصول کو یقینی بنائیں ۔
سیمینار کی نظامت کے فرائض خالد اعوان نے ادا کئے جبکہ سیمینار سے رانا رمضان، چوہدری اعجاز فرخ ، صحافی عظیم ایم میاں، خالد اعوان نے خطاب کیا اورجواد احمد کی کوششوں کو قابل ستائش قرار دیا۔ انہوںنے کہا کہ جواد احمد جیسے جواں سال قومی و عالمی طور پر جانی پہچانی شخصیات کا ملک کے غریب و متوسط طبقے کو منظم کرنے اور انہیں ترقی و کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوششوں کا سب کو ساتھ دینا چاہئیے ۔

تاریخ اشاعت : 2015-08-26 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock