جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکہ میں پاکستان کے دفاع اور سلامتی سے متعلقہ کردار کا واضح الفاظ میں اعتراف کیا گیا ہے

 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل عاصم باجوہ نے آرمی چیف کا دورہ امریکہ مکمل ہونے پر پاکستانی ایمبسی میں پریس کانفرنس

واشنگٹن ڈی سی (محسن ظہیر سے ) آرمی چیف جنرل راحیل شریف کادورہ واشنگٹن ڈی سی اہم اور مفید رہا ۔ اس دورے میں پاک امریکہ تعلقات بالخصوص دفاع اور سلامتی کے امور پراعلیٰ سطحی ملاقاتوں میںتفصیلی بات چیت ہوئی اور صرب عضب سمیت پاکستان کے کردار کا نہ صرف اعتراف کیا گیا بلکہ اسے سراہا گیا۔ یہ بات پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل عاصم باجوہ نے آرمی چیف کا دورہ امریکہ مکمل ہونے پر پاکستانی ایمبسی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرمی چیف کا ایک سال میں دوسرا نہیں بلکہ ایک سال کے بعد دوسرا دورہ امریکہ تھا۔اس دورے میں جنرلراحیل شریف نے امریکی نائب صدر جو بائیڈن ، سیکرٹری سٹیٹ جان کیری ، سیکرٹری ڈیفنس ایشٹن کارٹر ، امریکی سینٹ کی آرمڈسروسز کمیٹی اور انٹیلی جنس کمیٹی کے سینئر ارکان سینیٹرز اور ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چئیرمین و ارکان کے علاوہ امریکی چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف، امریکی آرمی چیف، سنٹرل کمانڈ کے سربراہ کے علاوہ تھنک ٹنک کے اہم ارکان سے ملاقاتیں کی ہیں ۔لیفٹنٹ جنرل عاصم باجوہ کے مطابق یہ تمام ملاقاتیں ہر لحاظ سے اہم اور مفید رہی ۔ ان ملاقاتوں میں بالخصوص اوبامہ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے ہونیوالی ملاقاتوںمیں امریکہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ امریکہ پاک امریکہ تعلقات کو کسی تیسرے ملک سے تعلقات کے تناظر میں نہیں دیکھتا۔ ان ملاقاتوں میں پاک امریکہ دفاعی اور سلامتی کے امور کے علاوہ افغانستان کی صورتحال ، افغانستان میں کابل اور طالبان میں مفاہمت اورکشمیر سمیت اہم امور زیر بحث آئے ۔


داعش سے متعلق ایک سوال کے جواب میں لیفٹنٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں داعش سے متعلق زیرو برداشت کی پالیسی ہے، ہم پاکستان پرداعش کا سائیہ نہیں پڑنے دینگے، داعش سر اٹھائے گی تو ایکش ہوگا۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے داعش کو مسترد کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آپریشن ضرب عضب جاری ہے ۔ہم واضح کر دیں کہ آپریشن ضرب عضب درمیان میں نہیں رکے گا، یہ اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا،ہم دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کاروں کے خلاف بھی کاروائیاں کررہے ہیں۔ وزیر ستان کے نوے فیصد علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا گیا ہے ۔مغربی بارڈرز پر ہمارے ایک لاکھ 82ہزار فوجی تعینات ہیں، جن علاقوں میں یہ فوجی تعینات ہیں، وہاں آپریشن بھی جاری ہے۔


افغانستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں لیفٹنٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ جن لوگوں نے افغان مفاہمت اور امن پراسیس کو سبوثاژ کیا، ہم ان کو جانتے ہیں،ان کو پہچان گئے ہیں لیکن اس عمل کے جو سٹیک ہولڈرز ہیں،وہ امن پراسیس میں سنجیدہ ہیں۔افغانستان حکومت اور طالبان میں مفاہمت کا عمل شروع ہو گیا تھا، مری مذاکرات اہم پیش رفت تھی لیکن کابل سے انفارمیشن لیک leak کرکے عمل کو ڈی ریل کیا گیا۔
پیرس کے واقعہ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں لیفٹنٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم سے زیادہ کسی کی قربانیاں نہیں ہیں ، پیرس کے واقعہ کے بعد دنیا دہشت گردی کے خلاف ہمارے تجربے سے فائدہ اٹھائے، ہم دہشت گردی کو ختم کرنے میں پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک گلوبل چیلنج بن گئی ہے اور اس چینلج سے ہم سب کو مل کر نبرد آزما ہونا ہوگا۔


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کاہ کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا دورہ واشنگٹن سینئر لیڈرشپ لیول کا دورہ تھا جس میں پاک امریکہ تعلقات اور علاقائی استحکام جیسے اہم امور سمیت ہر تمام اہم امور پربات چیت ہوئی۔ ایٹمی پروگرام کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کایٹمی پروگرام پرواضح موقف واضح ہے۔


انڈیا اور کشمیر کے حوالے سے سوال کے جواب میں لیفٹنٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ ہمارا مسلہ، کشمیر کا ہے، جب طویل المیعاد امن قائم کرنا ہے تو اس پھر طویل المیعاد حل بھی تلاش کرنا ہوگا اور وہ حل، مسلہ کشمیر کا حل ہے۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف جمعہ کو اپنا پانچ روزہ دورہ امریکہ مکمل کرنے کے بعد یہاں سے برازیل روانہ ہو جائیں گے جہاں جنرل باجوہ کے مطابق پاکستان برازیل دفاعی تعلقات کے لحاظ سے اہم ملاقاتیں اور بات چیت ہوگی۔ وہ ایک دن کے لئے آئیوری کوسٹ کا بھی دورہ کریں گے ۔

تاریخ اشاعت : 2015-11-20 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock