بروکلین میں بس ایکسیڈنٹ میں چھ بچوں کی جواں سال ماں ہلاک

 

نیویارک(محسن ظہیرسے) اوشن ایونیو،بروکلین پر ایونیو جے سے کے کی جانب جانیوالی ایکسپریس بس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں چھ بچوں کی جواں سال ماں جائے حادثہ پر ہی جاں بحق ہو گئی ۔بدھ کی شام 41سالہ رخسانہ خان اوشن ایونیو پر اپنی بلڈنگ سے نکل کر سامنے والی بلڈنگ سے قران پڑھنے کے لئے گئے ، اپنے نو سالہ بچے کو لے جانے جا رہی تھی ۔ وہ اوشن ایونیو پر آدھی سڑک کو عبور کیا اور درمیان میں ٹریفک کی وجہ سے رک گئی اور گاڑیوں کے جانے کا انتظار کرنے لگ گئی۔اس دوران نیویارک سٹی سے آنیوالی تیز رفتار ایم ون بس جو کہ ایونیو جے سے آرہی تھی، نے مبینہ طور پر ایو نیو کے پر بائیں مڑنے والی لین سے پہلے ہی بائیں جانب رخ موڑا اورمبینہ طور پر تیز رفتاری اور عجلت کے دوران سڑک کے درمیان میں (نان ٹریفک زون میں )کھڑی رخسانہ خان کو ٹکر ماری جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں ۔


جائے حادثے کے قریب موجود مقامی شخص نے فوری طور پر پولیس اور ایمبولنس کو کال کی جو کہ جائے حادثے پر پہنچی اور انہوں نے زخمی خاتون کو ابتدائی طبی امداد دی اور کنگز ہائی وے پر واقع قریبی ہسپتال میں لے گئے لیکن ہسپتال حکام کے مطابق رخسانہ خان ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی تھی ۔


رخسانہ خان کے شوہر فیاض خان جن کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے چار سدہ سے ہے، کا کہنا ہے کہ بس ڈرائیور کی تیز رفتاری، عجلت میں لائین کی مقررہ لائن سے پہلے تبدیلی کی وجہ سے ان کی اہلیہ حادثے کا شکار ہوئی جو کہ جان لیوا ثابت ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ گذشتہ پندرہ سالوں سے امریکہ میں مقیم تھیں ، ایک گھریلو خاتون تھیں اور بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں ۔انہوں نے کہا کہ اس حادثے کی وجہ سے وہ اور ان کے بچے ایک ناقابل بیان پریشان کن حالات کا شکار ہو گئے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس آزمائش میں پورا اترنے کی ہر ممکن ہمت عطاءفرمائیں ۔


پولیس نے بس ایکسیڈنٹ کا کیس درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے ۔تاج اکبر خان اور ناصر اعوان سمیت پاکستانی امریکن کمیونٹی کے ارکان بڑی تعداد میں فیاض خان کی رہائشگاہ پر پر پہنچ گئے ۔پوری کمیونٹی کی جانب سے غمزدہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مشکل و آزمائش کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔


فیاض خان جو کہ اوشن ایونیو کی ایک بلڈنگ میں رہتے ہیں، کے ہمسائیوں اور عزیز و اقارب کا کہنا تھا کہ متوفی خاتون ایک فرشہ سیرت خاتون تھی جو کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ صبر و قناعت سے زندگی بسر کررہی تھیں۔ان کی وفات پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے ۔

تاریخ اشاعت : 2015-11-26 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock