کراچی کے مسلہ کا کیا حل ہے ؟پاک امریکن تنک ٹنک کے زیر اہتمام مجلس مذاکرہ

پاکستانی امریکن کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور ارکان کی شرکت، کراچی میں اتحاد و یکجہتی کے ساتھ چیلنجز سے نبرد آزما ہونے پر زور


 ملک میں انصاف ، مساوات اور برابری کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ ملک میں امن آئیگا، جمہوری عمل چلے گا تو حالات بہتر ہونگے ، قانون سب کے لئے اور بلاز امتیازکے اصول کو یقینی بنا دیں تو مسلہ حل ہو جائیگا


جہ رزاق کی صدارت میں منعقدہ تھنک ٹنک کے اجلاس میں سکالر و ادبی شخصیت و قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سابق ڈائریکٹر جنرل طاہر حنفی نے خصوصی شرکت کی ۔ نظامت کے فرائض سلیم احمد ملک نے ادا کئے

 


 

نیویارک (خصوصی رپورٹ) پاک امریکن تھنک ٹنک کے زیر اہتمام اہم موضوعات اور مسائل پر غور و فکرکا سلسلہ جاری ہے ۔ اس سلسلے میں تھنک ٹنک کے منگل کو ہونے والے اجلاس میں کراچی کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کراچی میں درپیش چیلنجوں سے سب کو ایک قوم بن کر نبرد آزما ہونا ہوگا۔راجہ رزاق کی صدارت میں منعقدہ تھنک ٹنک کے اجلاس میں امریکہ کے دورے پر آئے معروف سکالر و ادبی شخصیت و قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سابق ڈائریکٹر جنرل طاہر حنفی نے خصوصی شرکت کی ۔ نظامت کے فرائض سلیم احمد ملک نے ادا کئے ۔پاک امریکن تھنک ٹنک کے زیر اہتمام مجلس مذاکرہ میں کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات تاج اکبر خان ، راجہ ضمیر پوران ،اشرف اعظمی ، فائق صدیقی، فیاض خان، ڈاکٹر شفیق، شاہد کامریڈ، اقبال کھوکھر، طالب حسین، سلمان شیخ، لیاقت سندھو، جمال محسن، ظہور اختر، فضل حق سید، وسیم سید، شمس الزمان، آغا صالح، طاہر میاں، ملک ثقلین،اقبال کھوکھر، لئیق احمد، محمد حسین ایڈوکیٹ، عامر ڈار، عاطف، عارف افضال عثمانی، عدیل رانا،سید سعادت، پرویز شاہ، انیس سمیت دیگر نے شرکت کی ۔


طاہر حنفی نے کہا کہ ہمیں فکر و سوچ کے مراحل سے گذر کر آگے بڑھنا ہے۔مجھ پر کراچی کا بہت قرض ہے۔ جب ہمیں کہیں نوکری نہیں ملی تو کراچی نے ہمارے سر پر ہاتھ رکھا۔کاش وہی کراچی ہو کہ کہاکہ جہاں کوئی شناختی کارڈ دیکھ کر گولی نہ مار دے۔ لوگ کراچی کو پاکستان سمجھتے ہیں ، اسی وجہ سے لوگ کراچی سے محبت کرتے ہیں۔ کراچی شہر کا دل بہت بڑا ہے- اس نے شہر میں ہر ایک کو سمویا ہے۔ ذہنی طور پر ایک خلجان میں مبتلا ہوں۔ میں نے جس پاکستان کا خواب دیکھا اس میں کوئی مہاجر نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں آپ کچھ نہ کریں ، قانون سب کے لئے اور بلاز امتیازکے اصول کو یقینی بنا دیں تو مسلہ حل ہو جائیگا۔ کراچی صرف اڑھائی کروڑ لوگوں کا شہر نہیں۔ کراچی ایک ایسی عمارت ہے کہ جس کے ہر دروازے پر ملک کے عوام کا نام لکھا ہے۔

 


 

تھنک ٹنک کے صدر راجہ رزاق پوران نے کہا کہ جمہوریت ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ اصلاح کا عمل جاری رہنا چاہئیے۔تھنک ٹنک کا مقصد اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ ہمیں اپنا کام کرنا ہے۔ باقی اپنا اپنا کام کریں۔جب سب اپنا اپنا کام کریں گے تو سب ٹھیک ہونا شروع ہو جائیگا۔نواز شریف جانتے ہیں کہ کراچی پاکستانی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ، یہی وجہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کراچی ہر قسم کے مسائل سے پاک ہو۔


پاکستانی امریکن سوسائٹی آف نیویارک کے اشرف اعظمی نے کہا کہ ایک وزیر داخلہ کہہ رہا ہے کہ کراچی سمیت پاکستان کے کسی بھی مسلہ کے حل کے لئے لازم ہے کہ حکام عوام سے جھوٹ نہ بولیں ، انہیں حقائق سے آگاہ کریں ، مصلحت سے کام نہ لیں ، جب ضرورت ہو کسی کو اچھا اور جب ضرورت نہ ہو کسی کو برا نہ کہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بالخصوص کراچی میں متوسط طبقے کی جواں سال اور پڑھی لکھے لوگوں سے کام نہیں لیا گیا بلکہ ان کو استعمال کیا گیا۔ سیاستدانوں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ جب چاہتے ہیں کسی کو استعمال کرتے ہیں اور پھر نظریں پھیر لیتے ہیں ۔ مصطفی کمال پر کوئی کرپشن کے چارجز نہیں ہیں۔ ان کے پیچھے کون ہے؟ کیا وہ پلانٹ کیا ہوا ہے؟ اگر ایسا ہے تو جو پلانٹ کررہے ہیں ، وہ کراچی کے لوگوں کا مزاج نہیں جانتا۔ کراچی میں کوئی پلانٹ کیا ہوا کامیاب نہیں ہوگا۔ کراچی کا حل کراچی کے مقامی لوگ ہی نکالیں گے۔ کوئی باہر والا کامیاب نہیں ہوگا۔ اگر کراچی نہیں چلے گا تو پاکستان نہیں چلے گا۔ کراچی اسی وقت چلے گا کہ جب انصاف ہوگا۔


معروف سکالر ، ٹی وی اینکر و کالم نویس فائق صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم، را، ایم آئی سکس، ایسٹبلشمنٹ اور میڈیا ایسے عوامل ہیں کہ جن کا کراچی کے حالات سے گہرا تعلق ہے ۔ان عوام کا جہاں جہاں کراچی کے حالات پر منفی اثر مرتب ہوتا ہے ، اس اثر کو جڑ سے اکھاڑ باہر پھینک کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمن نئی حکمت عملی کے تحت ہماری سوسائٹی کے اندر سے ہی چند افراد کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ سب کام خواہ ایم کیو ایم کی صفوں میں ہوں یا کسی اور جماعت کی ، وہ ملک و قوم کے دشمن ہیں ۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ سے لاکھوں پاونڈز برامد ہوئے لیکن تفتیش لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ حقائق کو برسوں سے سامنے نہیں لایا جا رہا۔ کوئی بھی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی کہ جب تک کہ گھر کا بھیدی لنکا نہ ڈھائے گا۔

 

فائق صدیقی نے کہا کہ مہاجروں سے ڈیل کرنے سے پہلے ان کے وسیع پس منظراور مزاج کو ضرور پیش نظر رکھیں ۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ایم کیو ایم نے کرپشن اور سیاست کو ملا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کی حیثیت لہروں میں گھری ایک کشتی کے سوار جیسی ہو تو پھر وہ خوف کے مارے اسی کشتی سے چمٹے رہتے ہیں نہ کہ کوئی نئی راہ تلاش کرتے ہیں ۔ خوف کے عنصر کو دور کرنا ہوگا، نئی راہیں دکھانی ہونگی ۔فائق صدیقی نے کہا کہ میڈیا کے مفاد پرست جو کہ اپنے مفاد پر ملک و قوم کے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں ، کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہئیے


عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما تاج اکبر نے کہا کہ کراچی کی صورتحال پر سب سوال اٹھاتے ہیں ، میں سب سے پوچھتا ہوں کہ کراچی میں کیا ہو رہا ہے ؟کیا کسی کو معلوم نہیں کہ کون ظلم کررہا ہے؟کون جرم میں ملوث ہے؟اگر ہم سب کو سب کچھ معلوم ہے لیکن ہم ظالم کا ہاتھ روکنا تو درکنار ، ظلم کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھا رہے تو اس کا مطلب ہے کہ ظالم کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کو آج کیوں اچھے اور برے کی باتیں کرنا پڑرہی ہیں ؟اس کی وجہ یہ ہے کہ ضمیر انسان کو مسلسل ملامت کرتا رہتا ہے، اس کی نیندیں حرام کرتا رہتا ہے ،مصطفی کمال کو بھی نیند نہیں آتی ہو گی، اس نے سچ بولا ، یہی مسلہ کا حل ہے ۔ ہم سب کو سب بولنا ہوگا خواہ وہ کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔تاج اکبر نے کہا کہ نواز شریف پنجاب جیسا امن اور خوشحالی خیبر پختوانخوا، بلوچستان اور سندھ میں بھی یقینی بنائیں، ملک میں انصاف ، مساوات اور برابری کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ ملک میں امن آئیگا، جمہوری عمل چلے گا تو حالات بہتر ہونگے


پاک امریکن سوسائٹی کے شمس الزمان نے کہا کہ اللہ کرے کہ مصطفی کمال نے جو کہا اس پر قائم رہیں اور پاکستان کے جھنڈے کو اپنا جھنڈا بنا ہمیشہ سربلند رکھیں۔پاکستان ہماری ماں ہے۔ ماں کو سلامت رکھنا ہے۔ ہمیں امریکہ میں پاکستان کے لٹیرے سیاستدانوں کو خوش آمدید نہیں کہنا چاہئیے۔


معروف و سینئر صحافی اور دنیا ٹی وی کے بیورو چیف معوذ صدیقی نے کہا کہ ہم دوسروں کو صرف اپنی عینک سے دیکھتے ہیں۔ اس روئیہ کو ترک کرنا ہوگا۔ایم کیو ایم کی قیادت اگر پڑھے لکھے لوگوں کا اچھے کاموں پر لگاتے تو آج فرق واضح ہوتا۔ جو لوگ سیاسی ضرورتوں کے تحت را ءکا علم ہونے کے باوجود ایم کیو ایم کو استعمال کرتے رہے، ان کا الطاف سے پہلے ٹرائل کیا جائے۔


معروف سکالر و کالم نویس ڈاکٹر شفیق نے کہا کہ میرا جاننے والا کوئی بھی ایسا دوست نہیں کہ جو کراچی میں لوٹا گیا نہ ہو۔یہ محبت والا شہر تھا۔ایوب کے بیٹے کی غنڈہ گردی کیخلاف ہم نے مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاالحق نے پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سے جان چڑھانے کے لئے قوم پر ایم کیو ایم کو مسلط کیا۔یہ جمہوریت کا معجزہ ہے کہ سارا گندھ سامنے آرہا ہے۔
معروف صحافی اور نیوز پاکستان کے پبلشر و ایڈیٹر مجیب لودھی نے کہا کہ تھنک ٹنک ایک اچھا کام کررہا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے پاکستان کی بہتری کے کئے فکر و سوچ کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ دانشوروں کی دانش سے مستفید ہونا چاہئیے۔


معروف دانشور ثقلین ملک نے کہا کہ جب تک کنویں میں گرا ہوا کتا نہیں نکالیں گے اس وقت تک پانی صاف نہیں ہوگا۔ہمیں ان لوگوں کو ضرور سراہنا چاہئیے کہ جو پاکستان میں حق و سچ کی بات کررہے ہیں۔


سکھی نیویارک کے بانی آغا صالح نے کہا کہ کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے۔ سیاسی جماعتیں ملک و قوم کا اثاثہ ہیں۔ جہاں غلطیاں ہوں تو انہیں ٹھیک کر لیں۔ جب لیاقت خان کو انصاف نہیں ملے گا تو کیسے توقع رکھیں کہ ان کے بعد آنیوالی نسلوں کو انصاف ملے۔ میڈیا میں چھپی کالی بھیڑوں کا بھی احتساب ہونا چاہئیے۔


معرو ف کاروباری شخصیت شیخ طالب حسین نے کہا کہ میں نے کراچی میں بارہ سال گذارے۔ ایک سو دس روپے لیکر کراچی گیا اور دس سالوں کے بعد میری پانچ کمپنیاں تھیں۔اس شہر میں کبھی خوف نہیں رہا۔ اب کوئی کراچی کو پہچان نہیں سکتا۔ کیوں ، آئیے ملکر جواب تلاش کریں۔


فریڈم فورم کے شاہد کامریڈ نے کہا کہ ہمارے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ کسی کا کوئی حق نہ مارو۔


پاک امریکن تھنک ٹنک کے رہنما فیاض خان نے کہا کہ کراچی پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہمیں کراچی کو مضبوط کرکے پاکستان کو مضبوط کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیونٹی تھنک ٹنک کی کوششوں کو سراہے اور آگے بڑھ کر ہمیں مسائل کا حل تجویز کرے ۔
پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر یو ایس اے کے صدر چوہدری ظہور اختر نے کہا کہ ہجرت کو سالہا سال بیت گئے ہیں، اب مہاجر کیوں لفظ استعمال کرتے ہیں۔ کراچی ، پاکستان ہم سب کا ہے۔ ہم سب نے پاکستان کو آگے لے جانا ہے۔ صحافی محسن ظہیر نے کہا کہ تھنک ٹنک جیسے فورم ایک اچھی کاوش ہیں ، مسلسل غور و فکر سے عوام کو مسائل کا حل جامع اور موثر انداز میں تجویز کریں ، اوورسیز پاکستانی یہ کام بہت اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں ۔

 

انہوں نے طاہر حنفی کا درج ذیل شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ ہم اس ہاتھ سے خود کشی نہ کریں کہ جس میں ہماری زندگی کی لکیریں ہیں ۔کراچی بھی ایک ایسا ہی ہاتھ ہے
انہی ہاتھوں سے خود کشی کر لی
زندگی کی لکیر تھی جس میں

(طاہر حنفی)

تاریخ اشاعت : 2016-03-11 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock