دین است حسین ؑ ، دین پناہ است حسین ؑ ، نیویارک میںعظیم الشان شہادت امام حسینؑ کانفرنس

 

جنہیں سیدنا امام حسین ؑ کی پہچان نہ ہو ، اسے یزیدی کہتے ہیں اور جسے سیدنا امام حسین ؑ کی پہچان ہو ، اسے حسینی کہتے ہیں
 
علامہ الحاج مفتی محمد اقبال چشتی کا خصوصی خطاب ، صاحبزادہ پیر سید انتصار الحسن شاہ (غوث یگانہ چھالے شریف ) کی خصوصی شرکت، مقامی علماءکرام، مشائخ عظام اور ثناءخوانان کی خصوصی شرکت


شہادت کانفرنس کے انعقاد میں چوہدری محمد پرویز اشرف ، مہر محمد شفیق کڑیانوالہ کے علاوہ انتظامیہ کے ارکان محمد امین خان ، مہر سلیم اختر ، محمد ارشد فاروق، بابر قمر، محمد جمشید عارف کا خصوصی کردار

سید صفدر حسین شاہ نے ختم شریف پڑھا، پیر سید انتصار الحسن شاہ نے خصوصی دعا کروائی، قاری محمد یونس قادری نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ، کمیونٹی ارکان کی بڑی تعداد میں شرکت

سید میر حسین شاہ ، سید عرفان شاہ حافظ آبادی ، حافظ و قاری اجمل چشتی (کیلی فورنیا ) ،حافظ غلام یاسین رضوی ، میاں غلام حیدر، صوفی مشتاق نقشبندی ،حافظ عبدالقدیر اور صاحبزادہ معین الدین کی شرکت
 

نیویارک(خصوصی رپورٹ) امام عالی مقام ، سید الشہداء، نواسہ رسول ، جگر گوشہ علی ؑ و بتول ؑ حضرت سیدنا امام حسین ؑ اور شہداءکربلا کی یاد میں ان کی عظیم قربانی کو شہادت عقیدت پیش کرنے اور فلسفہ شہادت کے اہم پہلوو¿ں کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں حسب روایت اس سال بھی نیویارک میں شہادت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ مکی مسجد بروکلین میں ہونیوالی اس عظیم الشان شہادت کانفرنس میں علامہ الحاج مفتی محمد اقبال چشتی کا خصوصی خطاب ، صاحبزادہ پیر سید انتصار الحسن شاہ (غوث یگانہ چھالے شریف ) نے خصوصی شرکت کی ۔ قاری محمد یونس قادری (امام و خطیب طیبہ اسلامک سنٹر) نے نظامت کے فرائض انجام دئیے جبکہ انجمن غوثیہ نیویارک کے صدر صاحبزادہ پیر سید صفدر حسین شاہ نے خصوصی ختم شریف پڑھا جبکہ صاحبزادہ پیر سید انتصار الحسن شاہ نے خصوصی دعا کروائی ۔

 

 

شہادت کانفرنس میںنیویارک کے ممتاز علماءکرام و مشائخ عظام سید میر حسین شاہ ، سید عرفان شاہ حافظ آبادی ، حافظ و قاری اجمل چشتی (کیلی فورنیا ) ،حافظ غلام یاسین رضوی ، میاں غلام حیدر، صوفی مشتاق نقشبندی ،حافظ عبدالقدیر، اور صاحبزادہ معین الدین سمیت دیگر نے شرکت کی جبکہ ثناءو منقبت خوانان حافظ سلطان کریم صدیقی ، محمد اصغر چشتی ، سجاد بٹ ،چوہدری سہیل اشرف سیفی ، کوثر جاویدنے بارگاہ رسالت مآب ﷺ اور حضرت سیدنا امام حسین ؑ سمیت شہداءکربلا کی بارگاہ میں ہدئیہ عقیدت پیش کیا ۔
کانفرنس میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی مقامی سماجی شخصیات ڈاکٹر عبدالواحد ،سید زاہد علی شاہ زیدی ،ناصر اعوان ، چوہدری نثار بھٹی ، الحاج ہمایوں بٹ ،صاحبزادہ عثمان صدیقی ، سائیں الیاس، چوہدری عبد الحمید گجر سمیت دیگر نے شرکت کی جبکہ کانفرنس میں کمیونٹی ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔کانفرنس میں مکی مسجد تمام وقت نعرہ تکبیر ، نعرہ رسالت ، نعرہ حیدری کے ساتھ ساتھ حسینیت زندہ آباد کے نعروں سے گونجتی رہی ۔

مفتی محمد اقبال چشتی نے کہا کہ رسول ا کرم ﷺ نے فرمایا کہ میری آل پاک ؓ کی مثال کشتی نوح ؑ جیسی ہے جو کشتی پر سوار ہوگیا ،وہ بچ گیا اور جو سوار نہیں ہوا وہ ہلاک ہوگیا۔ سرکار نے وضاحت فرما دی کہ اب وہی بچے گا کہ جو اہل بیت ؑ سے پیار کرے گا۔ جو اہل بیت کا وفادار ہے، نجات اس کا مقدرہے۔ یہ آقا کریم کا فرما ن ہے کہ جس نے بخشا جانا ہے، اسے چوکھٹ ِزہراؑ پہ سلام کرنا ہوگا۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی رحمت و فضل پانا ہے ،اسے سیدہ زہراءؑ کی گدائی کرنا ہوگی۔ نبی کریم کو سب سے زیادہ پیار سیدہ زہراءؑ سے ہے۔ بے مثال ذات پاک ہے سیدہ زہراؑ پاک کی ۔ خدا کو ساری مخلوق میں محمد مصطفی ﷺ سے پیار ہے اور آقا کریم کو ساری دنیا میں اپنی بیٹی سے سب سے زیادہ پیار ہے۔

 

مفتی اقبال چشتی نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب (قرآن مجید) پر بھی محمد ﷺ کی نظر ہے اور اہل بیت اطہارؑ پر بھی محمد کی نظر ہے۔تباہ ہو گیا کہ وہ جو کتاب اور اولاد رسول سے غداری کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب دین الٰہی سے آباد ہیں اور دین اسلام محمدﷺ کے گھران سے آباد ہے۔ ہم دین کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں اور دین اسلام، آقا کریم محمد مصطفیکی اولاد کی قربانیوں سے آباد ہے ۔ اس لئے دیندار ، اہل بیت ؑ سے کیوں نہ پیار کریں۔

 

مفتی محمد اقبال چشتی نے مزید کہا کہ ساری کائنات کے دل محمد مصطفی ﷺکے دل سے فیض پاتے ہیںاور محمد عربی کے دل میںمولا حسین ؑ بسے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ سلام نبی ؑ کے ان گھر والوں کو کہ جن میں جمالِ محمد، ؑ نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ جنت محمد کے گھرانے کو یاد رکھنے سے ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺکے حسن کے ایک حصے کو حسن ؑ اور دوسرے حصے کو حسین ؑ کہتے ہیں۔ جو امام حسنؑ اور امام حسین ؑکے جلوﺅں کا غلام بن جائے گا، وہ جئے گا بھی حسنی حسینی بن کر اور مر یگابھی حسنی حسینی بن کر۔ سیدہ زہراءپاک ؑ ، علی المرتضیٰؑ، مولا حسین ؑپاک کو، مولا حسن ؑ پاک کو اللہ تعالی نے پاک فرمایا۔اللہ تعالی نے آپ کے قریب کسی داغ دھبے کو نہ آنے دیا۔جاﺅ جا کر زمانے میں کوئی ایسی ماں تلاش کرو کہ جس کے گھر اولاد پیدا ہو اور اس کی کوئی ایک نماز بھی قضا نہ ہوئی ہو۔
 

مفتی اقبال چشتی نے کہا کہ نماز اللہ کی گارباہ کے قریب ہونے کا ذریعہ ہے۔ اور اس کے لئے حسنین کریمن ؑ کی بارگاہ میں گھٹنے ٹیکنا ضروری ہے۔ نماز قبو ل اس وقت ہوتی ہے کہ جب درود پاک پڑھا جاتا ہے۔
حضور اکرم نے فرمایا کہ حسین ؑ جو تمہیں پیارے کریگا، روز محشر میں اس کو تلاش کر کے اس سے ملاقات کروں گا۔ذرا سوچیں کہ روز محشر جو نبی کریم ﷺ کو تلاش کر لیں گے، ان کا کیا کمال ہو گا اور وہ کتنے مقدر والے ہوں گے جنہیں آقا کریم تلاش کر کے ان سے ملاقات کریں گے ۔

 

مفتی اقبال چشتی نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ مولا حسین ؑ پہ اتنے ظلم ہوئے کہ پہاڑوں پہ آتے تو ریزہ ریزہ ہو جاتے لیکن میدان کربلا میں مولاحسین ؑظلم اور باطل کے سامنے پہاڑ کی طرح کھڑے ہو کر ڈٹ گئے۔ جنہیں حسین ؑ کی پہچان نہ ہو اسے یزیدی کہتے ہیں او جسے حسین کی پہچان ہو اسے حسینی کہتے ہیں۔
 

مسجد بیت الکرم بروکلین (نیویارک ) کے مہتمم صاحبزادہ پیر سید میر حسین شاہ نے کہا کہ لعنتی یذید ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا اور امام حسین ؑتا قیامت زندہ رہیں گے اور جنت میں نوجوانوں کے سردار ہوں گے۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے کچھ عرصہ کے بعد فاسق و فاجر یذید نے دین محمدی کی روح کو تبدیل کرنا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو قیامت تک قائم رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ مولاحضرت محمد حسین ؑکی قربانی کی وجہ سے دین محمدی ،اللہ تعالی کے حکم سے قیامت تک قائم رہے گا۔ امام عالی مقامؑ نے عظیم قربانی دی۔ اس قربانی کے فلسفے کو مقصد حیات بنانا ہے۔

حافظ و قاری محمد اجمل چشتی( کیلی فورنیا) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہل بیت اطہارؑ کو جو فضل مرتبہ اور مقام ملا ہے، وہ کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ حضرت امام حسین ؑنے میدان کربلا میں تیروں کی بارش میں اذان کی آواز سن کر سجدہ دے دیا اور اپنے نانا کی امت کو اپنے عمل سے واضح کر دیا کہ بارگاہ الٰہی میں ہر حالت میں سجدہ دینا ہے۔ اہل بیت اطہار ؓ سب سے بڑے نمازی ، سب سے بڑے سخی ،جرات و بہادری کے حامل تھے لیکن انہیں اعلیٰ مقام اور فضلیت رب باری تعالیٰ کی چاہت کی وجہ سے ملا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی چاہت، محبت اور عطاءسے اہل بیت ؓ کواعلیٰ مقام نصیب فرمایا۔ خدا کی چاہت کی نہ کوئی حد ہے اور نہ ہی خدا کی فضیلت وعطا کی کوئی حد ہے ۔ نئی کریم نے فرمایا کہ جو بندہ میری شفقت چاہتا ہے اور قبر کے عذاب سے نجات اور بغیر حساب کے جنت میں جانا چاہتا ہے اور جو دنیا اور آخرت میں بقاءچاہتا ہے وہ اہل بیت اطہارا ؓ کا ہو جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حضرت امام زین العابدین ؓ نے فرمایا کہ حق پر وہ ہوں گے جو سنت پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓ کے قتل میں ممدو معاون ہونیوالاہر شخص لعنتی و جہنمی ہے۔ حضرت امام زین العابدین ؓ نے مزید ارشاد فرمایا کہ اہل سنت کی سب سے بڑی علامت یہ ہو گی کہ وہ آقا کریم حضرت محمد ﷺ پر بے حد درورد بھیجتے ہوں گے۔

 

گلاب بانو اسلامک کمیونٹی سنٹر کے خطیب و امام صاحبزادہ پیر سید عرفان شاہ بخاری حافظ آباد ی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ فرماتے ہیں تو وہ بلا تاخیر ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے آقا کریم ﷺ کی آل پاک ؓ کو ہر قسم کی نجاست سے پاک فرما دیا۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ
 تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا


 تو ہے عین نور، تیرا سب گھرانہ نور کا
 

نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ میری بیٹی فاطمہ ، الزہراؑ نے اپنی پردہ داری کی حفاظت کی ہے۔ اس کے بدلے میں حضرت فاطمہ الزہراؑ کی آل اولاد پر دوزخ کو حرام قرار دیتا ہوں۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ اسے ملکہ فردوس بریں ، نور چشم رحمت العالمین، حضرت بی بی مریم ؑ ، حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ماجدہ ہیں ¾ حضرت فاطمہؑ آپ تین نسبتوں سے ہمارے لئے قابل احترام و تعظیم ہیں۔ آپ نور چشم رحمت اللعالمین ہیں، آپ نبیوں کے سردار کی بیٹی اور مولا علی ؑمشکل کش کی اہلیہ ہیں اور شہیدوں کے سردار کی والدہ ماجدہ ہیں۔

 



تاریخ اشاعت : 2017-10-10 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock