سندھ اسمبلی نے نیب قانون کا متبادل قانون سندھ احتساب بل 2017 کی منظوری دے دی

کراچی: (دنیا نیوز) سندھ اسمبلی نے نیب قانون کا متبادل قانون سندھ احتساب بل 2017 کی منظوری دے دی۔ اپوزیشن ارکان نے بل پیش کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے واک آئوٹ کیا۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی صدارت میں ہوا۔ سندھ احتساب بل 2017 پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی اور اس بل کی منظوری کی تحریک پیش کی گئی۔

 

ایم کیو ایم کے سید سردار احمد نے بل کی مخالفت کی اور کہا کہ احتساب بل آئین کے آرٹیکل ایک سو تینتالیس سے متصادم ہے۔ ابھی طے نہیں ہوا کہ اس آرٹیکل کے تحت احتساب اتھارٹی بن سکتی ہے یا نہیں۔ احتساب بل پر اپوزیشن کا اعتراض برقرار ہے۔ایوان نے سندھ احتساب بل پر قاائمہ کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی اور بل ایوان میں منظوری کے لئے پیش کیا گیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے واک آئوٹ کیا۔ ایوان نے اپوزیشن کی عدم موجودگی میں بل کی منظوری دے دی۔ یہ بل نیب قانون کی جگہ لے گا۔ بل کی منظوری کے بعد اجلاس کل تک ملتوی کر دیا گیا۔

 

اس سےقبل جب اجلاس شروع ہوا توایم کیوایم کے محفوظ یار خان نے آئل ٹینکرز کی ہڑتال ختم کرانے کی دعا کرائی کہ اللہ آئل ٹینکرز چلانے والوں کو ہدایت دے اور لوگوں کی جانوں کومحفوظ فرما۔ وقفہ سوالات میں ایم کیو ایم کے کامران اختر نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں ایسے لوگ بھی بھرتی کئے گئے جنہیں اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا۔ وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہر نے کہا کہ سندھ میں شفاف طریقے سے محکمہ تعلیم میں بھرتیاں ہوئیں۔ محکمہ تعلیم میں این ٹی ایس ٹیسٹ کے تحت بھرتیاں ہوئیں۔ ایم کیو ایم کی ہیر سوہو نے کہا کہ لڑکیوں کے سکول اور کالج بھی ٹوائلٹ کی سہولت موجود نہیں۔ ایسے بھی سکول ہیں جہاں لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی ٹوائلٹ استعمال کر رہی ہیں۔ وزیر تعلیم نے بتایا کہ ضلع دادو کے آٹھ سو سولہ سکولز بغیر چوکیدار کے ہیں جس پر نصرت سحر عباسی نے کہا کہ وزیر تعلیم کچھ ااور نہیں کرسکتے تو چوکیدار تو رکھ لیں۔ کامران اختر نے کہا کہ حیرانی ہے کہ چوکیدار کے بغیر سکولز چل رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت : 2017-07-26 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock