جعفریہ ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ کے زیرر اہتمام نیویارک میں عاشور محرم کا جلوس ، فضاءیا حسین ؑ کے فضا ءسے مسلسل گونجتی رہی

 

 

نیویارک (صدائے پاکستان) جعفریہ ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ نے نیویارک ٹرائی اسٹیٹ ایریا کی مختلف شیعہ تنظیموں، انجمنوں اور ماتمی دستوں کے تعاون سے ہر سال کی طرح اس بار بھی عاشورہ محرم کے سلسلہ میں سالانہ جلوس بیادِ اسیران کربلا منعقد کیا۔ پارک ایونیو اور 50 اسٹریٹ مین ہٹن سے شروع ہونے والا سالانہ جلوس اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا حسب معمول پاکستان قونصلیٹ کے سامنے جا کر اختتام پذیر ہوا جہاں مجلس عزا اور نوحہ خوانی کا انعقاد ہوا۔

 

معروف مسلم سکالر و حجة السلام مولانا عباس ایلیا اور جعفریہ ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ کے صدر اصطفیٰ نقوی نے واقعہ کربلا کے حوالے سے خصوصی اظہار خیال کیا۔ اصطفیٰ نقوی نے کہا کہ مذہب اسلام آج بھی مٹھی بھر انتہا پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں بھی مسلمانوں کی جنگ ان مسلمانوں کے خلاف تھی جو اسلام کو یرغمال بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اسلام کو امر کیا۔ آج ایک بار پھر اسی قربانی کی ضرورت ہے۔ یزید کے پیروکار داعش، القاعدہ اور اس جیسے ناموں کے ساتھ دنیا بھر میں دہشت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے سعودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت عملی طور پر انتہاپسندوں کی حمایت کرتی ہے۔ شام اور یمن میں جاری سعودی عرب کی مداخلت سے صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش اور القاعدہ جیسی تنظیمیں سعودی عرب کے نظریہ کی مکمل حامی نظر آتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں سعودی عرب کے خلاف حالیہ بل سعودی اقتدار کے خاتمے کا نکتہ آغاز ہے۔ سعودی عرب کو بہت جلد امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کی حمایت حاصل نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان مجموعی طور پر پرامن ہیں ہمیں انتہا پسند نظریئے کو شکست دینے کی ضرورت ہے۔

 

حجتہ الاسلام علامہ عباس ایلیا نے مجلس اعزا سے انتہائی مدلل اور فکر انگیز خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک غیر مسلم ملک امریکہ میں اپنے نظریات اور عقائد پر آزادی کے ساتھ عمل پیرا رہ سکتے ہیں جبکہ کئی مسلم ممالک میں ہمیں طرح طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی اور رواداری میں امریکہ جیسی کوئی اور مثال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ جس طرح مرضی چاہیں غم حسینؑ منائیں مگر حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہداءکربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کی یاد میں انسانیت کی خدمت کے لئے ایسے کام کر جائیں جس سے بنی نوع انسان کا بھلا ہو۔

 

عباس ایلیا نے کہا کہ ہمیں حضرت امام حسین ؑ اور ان کے جانثاروں کی عظیم قربانیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اسلام کو آج کے یزیدوں سے نمٹنے کیلئے حسینی کردار کی ضرورت ہے ۔ معروف نوحہ خواں شاہد بلتستانی تک نوحہ خوانی کی، انہوں نے پرسوز انداز میں کربلاکے شہیدوں کو شاندار الفاظ میں خواج عقیدت پیش کیا۔ ان کی نوحہ خوانی نے سوگواران حضرت امام حسینؑ کو غمگسار کر دیا اور مجمع میں رقت طاری ہو گئی۔ المعصومین سکول کے ڈائریکٹر جاوید حسین نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔عارف حسینی نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی۔ علی رضوی نے بھی اظہا رخیال کیا۔ قبل ازیں نماز ظہرین کے بعد جلوس کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ حجت الاسلام منتظرمہدی نے امامت کرائی۔

 

حجت الاسلام شیخ فاضل السھلانی، مولانا ریحان نقوی، باقر کنروینی، مہدی حسن اور دیگر علماءکرام جلوس کی قیادت کرتے رہے۔ الحسین نماز کمیٹی کی جانب سے نمازوں کی صفوں اور دیگر انتظامات کئے گئے تھے۔ کمیٹی کے روح رواں ضمیر خان حسب معمول ذوالجناح ہمراہ لے کر آئے تھے۔ شبیہ روضہ امام حسینؑ، علم، تعزیئے بھی برآمد ہوئے۔ ماتمی دستے راستے بھر ماتم کرتے رہے جبکہ نوحہ خوان نوحہ خوانی اور سوز و سلام پیش کرتے رہے۔ مختلف تنظیموں اور افراد کی جانب سے راستے بھر پانی، چائے اور مشروبات کی سبیلیں لگائی گئی تھیں جبکہ لنگر کا بھی اہتمام تھا۔ سخت سردی کے باوجود عزاداران کی بڑی تعداد جن میں خواتین اور بچے نمایاں تھے عاشورہ جلوس میں شریک ہوئے اور آمنہ کے لال اور ان کے رفقاءکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

 

جلوس انتہائی منظم انداز میں نظم و ضبط کے ساتھ شروع سے اختتام تک جاری رہا۔ منتظمین نے جلوس کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لئے نیویارک پولیس اور سٹی انتظامیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے جلوس کے منتظمین کے ساتھ مثالی تعاون کیا۔ منتظمین نے مومنین و مومنات اور لنگر حسینی اور سبیلیں لگانے والوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

 

اصطفیٰ نقوی نے قونصل جنرل راجہ علی اعجاز اور ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو خاص طور سے خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے قونصلیٹ میں عزادار کے لئے خصوصی انتظامات کئے۔

تاریخ اشاعت : 2016-10-13 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock