انڈیا پاکستان سے ”پنگا“ نہیں لے سکتا،پاکستان میں متبادل قیادت پیدا کرنا ہو گی ،پھر پرانے چہرے فارغ ہو جائیں گے ، پرویز مشرف

میں نے دس سال حکومت کی۔ اہم ترین عہدوں پر فائز رہا ہوں۔ میرا کوئی انا کا مسلہ نہیں۔ میں آرام کرسکتا ہوں۔ لیکن میرے لئے پاکستان سب سے پہلے ہے۔ اس لئے اپنا کردار ادا کررہا ہوں

 

استقبالیہ کے انعقاد میں آل پاکستان مسلم لیگ کے عہدیداران عدیل شاہ، پرویز محمود‘ندیم خان اورملک عباس سمیت ساتھیوں نے کلیدی کردار ادا کیا،کمیونٹی کی اہم شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت

 

 

نیویارک (خصوصی رپورٹ) آل پاکستان مسلم لیگ امریکہ کے زیر اہتمام سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے اعزاز میں ایک استقبالیہ کا انعقاد کیا گیا۔ استقبالیہ کا اہتمام اے پی ایم ایل یو ایس اے کے عہدیداران عدیل شاہ ،پرویز محمود ، ندیم خان اور ملک عباس سمیت ان کے ساتھیوں نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ استقبالیہ میں اے پی ایم ایل کے عہدیداروں اور کمیونٹی کی ممتاز شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

سابق صدر نے استقبالیہ سے خطاب بھی کیا اور اختتام پر صحافیوں کے سوالوں کے جواب بھی دیئے۔ انہوں نے اپنی جماعت کی کارکردگی اور مستقبل میں اسے کس طرح سے چلانا ہے اس حوالے سے شرکاءکو آگاہ کیا۔ پاکستان کی اندرونی صورتحال ،بھارت سے کشیدگی اور عالمی برادری میں پاکستان کے تنہا ہونے کے تاثر سمیت مختلف ایشوز پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے موجودہ ملکی صورتحال کو اپنے اقتدار سنبھالنے کے وقت سے بھی بدترین قرار دیا۔ ان کے خیال میں پاکستان کی کمزور اندرونی صورتحال کی وجہ سے وہ دنیا میں تنہا ہو رہا ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں امریکہ بھارت کے زیادہ قریب ہے۔ پرویز مشرف نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان کے تعلقات سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات تک سے اچھے نہیں ہیں۔

 

انہوں نے اس بات پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ وزیر خارجہ کے بغیر حکومت کا نظام چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب میں اب تک کا سب سے بہترین وزیراعلیٰ قراردیا۔ پرویز مشرف نے ایک بار پھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو توسیع دینے کی حمایت کی۔ انہوں نے آرمی چیف کے اقتدار حاصل کرنے کے کسی ممکنہ اقدام کی ڈھکے چھپے الفاظ میں حمایت بھی کی اور کہا کہ وہ فوجی ہیں اس لئے فوج کو ہی پسند کریں گے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کے قدرتی اور توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے لیکن ہم جب تک اپنی طاقت اور صلاحیت کا استعمال نہیں کریں گے۔ ہمارے لئے دنیا میں مقام بنانا مشکل ہے۔ اگر ہم اندرونی طور پر مضبوط نہیں ہوں گے تو دنیا ہماری صحیح بات بھی نہیں سنے گی۔ سابق صدر نے کہا کہ ہمارے دشمن باہر سے نہیںبلکہ ہمیں اندرونی دشمنوں سے خطرہ ہے۔

 

پرویز مشرف کی تقریر اور میڈیا سے گفتگو کی تفصیل صفحہ اول پر ملاحظہ کریں۔ قبل ازیں مولانا عبدالرحمن بخاری نے تلاوت کلام سے تقریب کا آغاز کیا۔ پرویز محمود نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے آل پاکستان مسلم لیگ امریکہ کی کارکردگی سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ امریکہ کے متعدد شہروں میں تنظیم کی شاخیں ہیں ہم ممبران کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مہم چلائی جا رہی ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر عدیل شاہ نے صدارتی خطبہ میں پرویز مشرف کو شادار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ان جیسے کردار اور صلاحیت کے حامل لیڈر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت پرویز مشرف جیسے کردار کے حامل رہنما نہیں ہےں۔

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو پرویز مشرف کی ضرورت ہے۔ کنیکٹ سے تعلق رکھنے والے اے پی ایم ایل کے رہنما ندیم خان گاہے بگاہے پرجوش نعروں سے محفل کو گرماتے رہے۔ پارٹی کے حامی ان کے نعروں کا بھرپور جواب دیتے رہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ امریکہ کے ایک عہدیدار ڈاکٹر انور خان نے بھی خطاب کیا اور پرویز مشرف کی قیادت اور ان کے وژن کی بے حد تعریف کی۔ قبل ازیں پرویز مشرف کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ریسٹورنٹ کے دروازے پر ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔

 

جنرل مشرف نے اختتام پر پارٹی کا رکنوں اور کمیونٹی کے افراد خصوصاً میڈیا حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ واپس جانے سے قبل وہ دوبارہ باری باری تمام میزوں پر گئے اور لوگوں کے ساتھ بی گرمجوشی سے ملے۔ لوگ پرویز مشرف کو اپنے درمیان پا کر بہت خوش ہوئے۔ پرویز محمود اور عدیل شاہ نے آخر میں معزز مہمان اور شرکاءسے اظہار تشکر کیا۔

تاریخ اشاعت : 2016-10-13 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock