مضبوط اور پرامن پاکستان دنیا کی ضرورت ہے ، کانگریس مین جوزف کراولی کے اعزاز میں فنڈ ریزنگ ڈنر میں ساوتھ ایشین امریکن کمیونٹی کا پاکستانیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

 

 دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستان اورپاکستانی عوام کی قربانیاں قابل قدر ہیں،دنیا میں قیام امن کےلئے سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہے،کانگریس مین کراولی


 ہم چاہتے ہیں کہ جوزف کراولی جب منتخب ہو کر ایک بار پھر کانگریس میں جائیں تو پاکستان کو پر امن اور مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ بنیں ۔آغا صالح کا خطاب
 

نیو یارک(محسن ظہیر)پاکستانی امریکن کمیونٹی کی معروف شخصیت شازیہ کوثر سمیت ان کے ساتھیوں کی جانب سے نیویارک کے علاقے جیکسن ہائٹس (ڈسٹرکٹ 14)سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین اور کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چئیراور نو بار کانگریس مین منتخب والے جوزف کراو¿لی (جو کراولی)کےلئے گذشتہ ہفتے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام کیا گیا ۔ اس تقریب میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کے علاوہ بنگلہ دیشی، انڈین اور نیپالی کمیونٹیز کے قائدین بھی شریک تھے ۔

 

یہ تقریب اس لحاظ سے منفرد اہمیت کی حامل ہو گئی کہ تقریب سے خطا ب کے دوران بنگلہ دیشی، انڈین اور نیپالی سمیت دیگر کمیونٹیز کے مقامی قائدین نے نہ صرف پاکستانی امریکن کمیونٹی کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ مسٹر جو کراولی پر بھی زور دیا کہ وہ ایک بار پھر کانگریس مین منتخب ہو کر خطے میں امن ، مسلہ کشمیر کے پر امن حل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملات پر حق و سچ کا ساتھ دیں گے اور انصاف کے لئے آواز بلند کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور پر امن پاکستان ، دنیا کی ضرورت ہے ۔


واضح رہے کہ نیویارک میں جیکسن ہائٹس کا علاقہ منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔ اس علاقے کو اگر ایک چھوٹا سا برصغیر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ اس علاقے میں پاکستانی ، انڈین ، بنگلہ دیشی اور نیپالی کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے ۔ وہ یہاں رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں لیکن برصغیر کے برعکس جیکسن ہائٹس میں تمام جنوبی ایشائی ممالک سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیز پر امن طریقے سے رہتی ہیں


 فنڈ ریزنگ ڈنر میں کونسل مین ڈینیئل ڈروم نے خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں کمیونٹی کے مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور کونسل مین کے لئے منعقد فنڈ ریزنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔آصف چوہدری نے نظامت کے فرائض کانگریس مین جو کراولی ۔

 

 

تقریب میں ڈاکٹر اعجاز احمد، آغا صالح، شاہد گوندل ، شفیق صدیقی ، سید کرمانی ، محمد آصف ،سیف ناگرا، مرزا خاور بیگ، ظہیر احمد مہر، صالح سمیع، فائق صدیقی ،فاطمہ باریاب، وسیم سید ،وزیر علی ، اسد نقوی ، امجد خواجہ ،زین العابدین (بنگلہ دیشی کمیونٹی ) ، ڈاکٹر یوسف ممدانی ، داوا شرپا (نیپالی کمیونٹی) ،چرن جیت سنگھ جھلی (سکھ کمیونٹی )، سمیت کورئین ، چائینیز اور آئرش کمیونٹیز کے ارکان نے شرکت کی ۔


اس موقع پر شازیہ کوثر نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کانگریس مین جو کراو¿لی ،کونسل مین ڈینیئل ڈروم اور دیگر مہمانوں کا بھر پور انداز میں خیر مقدم کیا اور پاکستانی امریکن کمیونٹی کی جانب سے کانگریس مین کراولی کو 8نومبر کو ہونیوالے الیکشن میں ان کی ہر ممکن سپورٹ کا اعلان کیا۔


کانگریس مین کراولی نے تقریب سے خطاب اور بعد میں ایک پاکستانی ٹی وی چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ میں نے دنیا کے متعدد ممالک بالخصوص جنوبی ایشائی ممالک کا دورہ کیا ۔ان ممالک کے لوگ اور ان کی ثقافت متاثر کن ہے ۔ ان ممالک سے تعلق رکھنے والے امیگرنٹس میرے ڈسٹرکٹ میں رہتے ہیں لہٰذا جب اپنے وطن کے حالات کے حوالے سے وہ پریشان ہوتے ہیں تو ان کی پریشانی کو محسوس کرتا ہوں اور اس کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہوں ۔ڈونلڈ ٹرمپ جب مسلم امریکن کمیونٹی کو امتیاز ی سلوک بنا کر ان کو نشانہ بناتا ہے تو میں مسلم کمیونٹی کے دکھ کو محسوس کرتا ہوں ۔

 

کانگریس مین کراولی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور پاکستانی قوم و اداروں کی قربانیوں کو سراہا اورکہا کہ دنیا میں قیام امن کے لئے سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔


پاکستانی کمیونٹی رہنما آغا صالح نے کہا کہ کانگریس مین کراولی کا شمار سینئر ارکان کانگریس میں ہوتا ہے ۔ہم انہیں کانگریس میں اپنی آواز سمجھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں جب بھی امن کا ذکر آئے گا تو پاکستانی عوام، پاکستانی افواج اور اداروں کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ایک طرف پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے خلاف بڑی جنگ لڑی دوسری جانب ملک و قوم دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر بھی ہوئے ۔ ان تمام معاملات کی وجہ سے ملیکی معیشت کو اربو ں ڈالرز کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ پاکستان میں سانحہ پشاور پبلک سکول ، پاکستانی نائن الیون تھا۔

 

انہو ں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جوزف کراولی جب منتخب ہو کر ایک بار پھر کانگریس میں جائیں تو پاکستان کو پر امن اور مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ بنیں ۔


تقریب میں شریک بنگلہ دیشی امریکن جرنلسٹ زین العابدین نے خطاب کرتے ہوئے کانگریس مین کی توجہ کشمیر میں بے گناہ اور نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور بد ترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کروائی ۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہئیے ۔

 

تقریب میں کانگریس مین جوزف کراولی اور کونسل مین ڈینئیل ڈروم کو نوبل ایوارڈ یافتہ پاکستانی ملالہ یوسف اور امن و تعلیم سے منسوب ملالہ کیپ پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملالہ کیب پیش کرنا نہ صرف اپنے مہمانوں کی عزت افزائی کی ایک روایت ہے بلکہ یہ ایک نشانی بھی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کے عوام امن کے داعی ہیں ۔


ڈینیئل ڈروم نے اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اسلام مخالف اظہار خیال اور موقف کی بھر پور مذمت کی اور کہا کہ ری پبلکن کے منفی طرز عمل کا جواب انہوں نے وائٹ ہاو¿س کے سامنے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ میں ” آج میں بھی مسلمان ہوں“ مہم کے ذریعے دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ری پبلکن اور ٹرمپ مسلمانوں کے حوالے سے منفی رویہ اپنائیں گے تو ہم سب مسلمان ہیں ۔

 

کونسل میں ڈینیئل ڈروم نے آغا صالح اور شازیہ کوثر کی ذاتی بالخصوص ڈائیورسٹی پلازہ کے حوالے سے خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیملی کے بغیر ڈائیور سٹی پلازہ کا قیام ممکن نہ تھا۔

 



 


تاریخ اشاعت : 2016-11-03 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock