کینسر کئیر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر فاو¿نڈیشن کےلئے کامیاب فنڈ ریزنگ ڈنر

نیویارک (خصوصی رپورٹ)نیویارک کی پاکستانی امریکن کمیونٹی کی جانب سے لاہور میں چھاتی کے کینسر کے مرض میں مبتلا خواتین سمیت دیگر مریضوں کو مفت کینسر ٹیسٹ اور علاج کی مفت سہولیات فراہم کرنے والے کینسر کئیر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر فاونڈیشن کےلئے کامیاب فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام کیا گیا ۔

 

اس ڈنر کا اہتمام اوورسیز پاکستانی کمیشن پاکستان کے اسسٹنٹس پروائیڈر برائے نارتھ امریکہ ظہیر احمد مہر،سڈ صدیقی، صالح سمیع ، رانا جاوید (Humd)،سید المدار شاہ بخاری ( ہیومین رائٹس کمیشن آف اوورسیز پاکستانی )سمیت ان کے ساتھیوںنے اہم کردار اد اکیا جبکہ عتیق قادری (پاکولی)،نوید (APPAC)،مجیب لودھی (پاکستان نیوز)، نعیم ملک (برطانیہ)، تقریب میں کینسر کئیر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر فاونڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر شہریار نے خصوصی شرکت کی جبکہ پاکستانی امریکن کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئیں ۔

 

کمیونٹی کی معروف شخصیت ، اینکر پرسن اور سکالر فائق صدیقی نے نظامت کے فرائض کے ساتھ ساتھ کینسر ہسپتال کےلئے فنڈ ریزنگ بھی کی جبکہ معروف دینی سکالر سید تصور الحسن شاہ گیلانی نے دکھی انسانیت کی مدد کے حوالے سے قران و سنت کی روشنی میں مدلل اور موثر خطاب کیا اورکہا کہ اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت کا ہر لمحے شکر ادا کرنا چاہئیے ۔

 

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی نیکی کو قبول کر لیں تو آپ خود کو خوش قسمت سمجھیں ۔


 اوورسیز پاکستانی کمیشن پاکستان کے اسسٹنٹس پروائیڈر برائے نارتھ امریکہ ظہیر احمد مہرنے کہا کہ انکی جانب سے کیسنر ہسپتال کی مدد ، دکھی انسانیت کی مدد ہے اور دکھی انسانیت کی مدد اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے حصول کا باعث بنتی ہے ۔ میںدعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کو اس نیکی کا اجر عظیم عطاءفرمائیں۔


 کینسر کئیر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر فاو¿نڈیشن کے روح رواں ڈاکٹر شہریار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے اپنے میزبانان ظہیر احمد مہر،سڈ صدیقی اور صالح سمیع سمیت شرکاءکا شکرئیہ ادا کیا ۔ ڈاکٹر شہر یار نے تقریب میں خصوصی طور پر شریک ہونیوالی غزالہ طارق کا شکریہ ادا کیا اور ان کا کینسر ہسپتال کے لئے خدمات کے حوالے سے تعارف کروایا۔

 

انہوں نے کہا کہ کینسر ایسی بیماری ہے کہ جس کی تشخیص کے وقت ہی موت کا خوف طاری ہو جاتا ہے۔یہ بیماری جس تیزی سے پھیل رہی ہے ، اگر اس کی صورتحال یہی رہی تو خدشہ ہے کہ 2024 پاکستان میں ہر خاندان میں ایک کینسر مریض ہوگا۔ کینسر کے مریضوں کی اکثریت ایسے مریضوں کی ہے کہ جو اس مرض کا علاج افورڈ نہیں کر سکتے۔ اگرایک کروڑ آبادی کے لئے ایک کینسر ہسپتال ہو تو پاکستان میں کم از کم22 کینسر ہسپتال چاہئے۔

 

اس صورتحال کے پیش نظر ہم نے ٹرسٹ قائم کیا جو کہ امریکہ میں ایک فاﺅنڈیشن کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ ہم فری علاج مہیا کرنا چاہتے ہیں۔ ابتداءمیں ہم نے خاندان اکٹھے کئے۔ 27 ایکٹر اراضی خریدی۔ پنجاب کی آبادی اب11 کروڑ ہو چکی ہے جو کہ جرمن اور کینیڈا کی کل آبادی سے زائدبنتی ہے ۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ83 ہزار کینسر کے مریضوں اضافہ ہوتا ہے جن میں صرف33 ہزار مریض علاج حاصل کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں ۔ بڑھتے ہوئے مریضوں کی صورتحال کے پیش نظر کینسر ہسپتالوں سے مریض واپس بھیجے جاتے ہیں۔لاہور میں شوکت خانم جو کہ بہترین کینسر ہسپتال ہے ، اپنی گنجائش سے زائد مریض وصول کر رہا ہے۔


ڈاکٹر شہریار نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کینسر کے جس مریض کا علاج نہیں ہوتایابروقت علاج شروع نہیں ہوتا، ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ وہ مر جاتے ہیں۔ ہر انسان کو علاج کا حق اور سہولت ہونی چاہئے۔ مریض ہمارے ہسپتال میں ایمبولینس میں آتا ہے ،وہ یہ معلوم ہونے کے بعد کہ کینسر کئیر ہسپتال ابھی زیر تعمیر ہے، واپس چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کے مریضوں کی بے بسی کا عالم کا انداز ہ اس ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ خانیوال سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ایک بلڈ کینسر کا مریض پلیٹ فارم پر ہی انتظار میں اللہ کو پیارا ہو گیا۔


ڈاکٹر شہریار نے کہا کہ پاکستان میں85000 خواتین ہر سال بریسٹ کینسر(چھاتی کے کینسر) سے اس لئے مر جاتی ہیں کہ ان کے کینسر کی تشخیص تاخیر سے ہوتی ہے ۔پاکستان سمیت دنیا بھر میںبسنے والی ہر خاتون کو40 سال کی عمر میں یرسٹ کینسر کاٹیسٹ کروانا چاہئے۔ پاکستان میموگرام کے ٹیسٹ کی زیادہ سہولت نہیں۔ پاکستان میں مائیں گھر کا خرچہ چلانے کے لئے علاج نہیں کرواتیں۔ ہم پاکستان میں غریب ،بے بس اور لاچار کینسر کے مریضوں کے لئے کینسر ہسپتال بنا رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ ہم نے محسوس کیا کہ میمو گرام ٹیسٹ کے حوالے سے پاکستان میں ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا چاہئے۔ ہم نے1 لاکھ42 ہزار ڈالرز فی کس کے حساب سے میمو گرام مشینیں خریدیں، دو مشینیں، موبائل گاڑیوں میں نصب کیں۔ وہ دیہی پسماندہ علاقوں میں جا کر خواتین کی فری ٹیسٹ کرتے ہیں۔ ہم100 سے زائد میمولی گرام ٹیسٹ کرتے ہیں۔


ڈاکٹر شہر یار نے مزید کہا کہ ہمارا ہسپتال رائیونڈ کے قریب واقع ہے۔ پہلا بلاک تقریباً مکمل ہوگیاہے۔پانچ کروڑ سے شروع ہونے والا منصوبہ76 کروڑ روپے میں مکمل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے بندے آ کر لاکھوں روپے عطیہ کر گئے۔ اس بلاک میں10بجے15 ہزار مریضوں کا فری علاج ہوگا۔


انہوں نے مزید کہا کہ کینسر کے علا ج کے لئے ریڈی ایشن مشین کی قیمت8 کروڑ روپے ہے۔ ہم نے ایک مشین آرڈر کر دی ہے۔ ایک اور مشین آرڈر کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں کم از کم10 مشینوں کی ضرورت ہے۔ اس مشین پہ ٹیسٹ سکے تین سے پانچ لاکھ روپے چارج کئے۔ میں رات کو اٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں کہ اللہ میاں اتنی بڑی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی ہے۔ میں اپنی ذات اور آخرت کے لئے کر رہار ہوں۔ میرے اس کام میں میرے پارٹنر بن جائیں۔

 

ڈاکٹر شہریار نے کہا کہ ہم یو ایس اے میں بھی رجسٹرڈ ہیں۔ ہم501(C-3) تنظیم ہیں ، اس لئے آپ کی جانب سے دی جانیوالے عطیات ٹیکس سے مستثنیٰ ہونگے ۔ پاکولی تنظیم کے بانی بشیر قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے لئے کینسر ہسپتال بنانا آسان ہے۔ ڈاکٹر شہر یار کے لئے مشکل کام ہے۔ وہ400 بیڈ کا کینسر ہسپتال بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں کم از کم22 کینسر ہسپتال چاہئے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے صحت عطاءکی ہے اور صحت کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مریضوں کی مدد میں جس حد تک ممکن ہو ، اپنا حصہ ڈالیں ۔


سماجی رہنما نگہت خان نے کہا کہ میں رضا کارانہ طور پر ہسپتال کے لئے ہر ممکن کام کروں گی۔ یہ انتہائی دکھی انسانیت کی خدمت کامشن ہے۔ہمیں یہ کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرنا چاہئیے ۔


ساوتھ ایشین کمیونٹی کے رہنما بوبی کمار نے کہا کہ میں ہسپتال کے لئے جس حد تک ممکن ہوا اپنا کردار ادا کروں گا۔ میں دو ہسپتالوں کا چیئرمین ہوں۔ دینے والا بھی ایک ہی اور کہنے و الا بھی ایک ہے۔ جس نے زندگی دی ہے۔ اس کا شکر ادا کرنے کے لئے اس جیسے منصوبے کی جتنی بھی ممکن ہو سکے مدد کریں۔


کینسر کئیر ہسپتا ل کے ایمبیسیڈر برائے نیویارک (امریکہ) سڈ صدیقی نے کہا کہ ہم امریکہ بھر میں دس بارہ پروگرام کر رہے ہیں اور ہسپتال کے لئے فنڈز اکٹھا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شہر یار انساینت کے لئے خدمات انجام دے رہے ہیں۔کمیونٹی کو ان کا دست و بارو بننا ہے۔ وہ وژن اور مشن رکھنے والے کیسنر کے بہت بڑے ڈاکٹر ہیں۔


پاکستانی امریکن کمیونٹی کی معروف سماجی شخصیت ، اینکر پرسن ، دانشور فائق صدیقی نے تقریب سے خطاب کے دوران قران و سنت کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور انسانیت کی خدمت کے اہم احکامات اور تعلیمات کے اہم پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں شرکاءپر زور دیا کہ وہ دکھی انسانیت کی مدد کے کینسر کئیر ہسپتال کے منصوبے کی جس حد تک ممکن ہو مدد کریں ۔

 

انہوں نے کہا کہ دنیا میں آج تک کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا کہ جو سخاوت کی وجہ سے دیوالیہ ہو گیا ہو۔ صدقہ موت تک کو ٹالتا ہے۔فائق صدیقی کی موثر کمپئیرنگ فنڈ ریزنگ میں اضافہ کا ذریعہ بنی ۔ ڈاکٹر شہریار اور ان کی ٹیم کی جانب سے ان کو سراہا گیا۔
 

تاریخ اشاعت : 2017-10-17 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock