امیگریشن اصلاحات میں تاخیر، چھاپے ، گرفتاریاں شروع

 

نیویارک (محسن ظہیر سے ) وائٹ ہاوس میں ڈیڑھ ہفتے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ پارٹی کے سینئر قائدین جب آمنے سامنے بیٹھے تو وہ وقت تھا کہ جب کم عمر میں امریکہ آنیوالے تارکین وطن کے DACAاور ڈریمر کے مسلہ کے حل کی امید پیدا ہوئی لیکن اس ملاقات کے 24گھنٹے گذرنے کے بعد دونوں جماعتوں بشمول صدر ٹرمپ میں اختلافات کی خلیج ایک بار پھر وسیع ہو گئی ہے ۔

دونوں جماعتوں کے درمیان حکومت کی شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم فنڈنگ کے مسلہ پر بھی مذاکرات جاری ہیں اور ایک بار پھر کوشش کی جا رہی ہے کہ کم از کم DACAکے مسلہ پر کسی سمجھوتے پر پہنچا جائے ۔ سیاسی تجزئیہ نگاروں کے مطابق اگر دونوں جماعتوں میں کسی بھی سطح پر لچک کا مظاہر ہ کیا گیا اور کچھ دو اور کچھ لو کی پایسی پر عمل کیا گیا تو امکان ہے کہ کم از کم DACAپر پیش رفت کے امکانات ہیں ۔

دریں اثناءامریکہ میں موجود گیارہ ملین غیر قانونی تارکین وطن کو اس وقت مایوسی ہوئی کہ جب امیگریشن اصلاحات کی بات چیت میں انہیں اپنے مستقبل کی امید کی کوئی خاص کرن نظر نہیں آئی ۔

دریں اثناءامیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے ملک بھر میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف چھاپے اور گرفتاریاں شروع کر دی ہیں ۔ امیگریشن حکام کی جانب سے ملک بھر میں سیون الیون سٹورز پر چھاپے مارے گئے ۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امیگریشن حکام کی جانب سے کیلی فورنیا سٹیٹ کے علاقے سان فرانسسکو میں بھی غیر قانونی تارکین وطن کےخلاف بڑا آپریشن کیا جا رہاہے ۔

ڈیموکریٹس قائدین کا کہنا ہے کہ وہ امیگریشن اصلاحات کے سلسلے میں اپنا دباو اور کوششیں جاری رکھیں گے ۔


سیاسی تجزئیہ نگاروں کے مطابق امیگریشن اصلاحات پر کوئی پیش رفت ہو گی یا نہیں ، ایک ماہ تک صورتحال واضح ہو گی



تاریخ اشاعت : 2018-01-17 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock