مصنوعی بحران سازوں کو جواب دینا پڑیگا، نواز شریف کو ہٹانے میں آلہ کار بننے والے قومی مجرم ہیں ، مشاہد اللہ

 

نواز شریف کو ہٹا کر روکنے کی کوشش کی گئی ، یہ سپیڈ بریکر ضرور ہیں لیکن مصنوعی بحران ساز ان رکاوٹوں کو روک نہیں پائیں گے ۔ پاکستان کے عوام کی طاقت سے ان رکاوٹوں کو عبور کیا جائے گا

کسی کی عنائیت یا رعائیت کی وجہ سے حکومت میںنہیں بلکہ نواز شریف کو عوام نے ووٹ دے کر عزت دی جسے کسی کو روندنے نہیں دینگے ، وفاقی وزیر ماحولیات کی روحیل ڈار کے استقبالیہ میں بات چیت

پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے نواز شریف کے ساتھ اسحاق ڈار کو نشانہ بنایا گیا ، یہ وہی اسحاق ڈار ہے کہ جس کو آصف زرداری نے وفاقی وزیر خزانہ کے طور پر کابینہ میں مانگا تھا،مشاہد اللہ


نیویارک (محسن ظہیر سے ) وفاقی وزیر و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما مشاہد اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں مصنوعی بحران پیدا کیا جا رہا ہے جو کہ پیدا تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس کو زیادہ عرصہ قائم نہیں رکھا جا سکتا ، یہ مصنوعی بحران پیدا کرنے والے اور میاں نواز شریف کی نااہلی میں آلہ کار بننے والے قومی مجرم ہیں ، ان کو کسی نہ کسی کے سامنے تو حساب دینا پڑےگا اور عوا م کوجوابدہ ہونا پڑیگا۔ ان ملے جلے خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) یو ایس اے کے صدر روحیل ڈار کی جانب سے دئیے گئے عشائیہ سے خطاب کے دوران کیا جس میں مسلم لیگ (ن) یو ایس اے کے عہدیداران سمیت کمیونٹی کی مقامی شخصیات شریک تھیں ۔

مشاہد اللہ نے عشائیہ سے خطاب اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حق او ر سچ کی بات بہت لوگ کرتے ہیں لیکن جب اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے تولوگ اس وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔نواز شریف نے ہمیشہ قیمت ادا کی ۔ اس کی وزارت عظمیٰ1999میں جو گئی اس وقت بھی وہ حق و سچ پر کھڑا ہوا تھا ،پاکستان کو نیوکلئیر پاور بنایا تھا، اس کی پاداش میں اس کو سزا ملی جو اس نے قبول کی ، جیسے سقراط نے قبول کی ۔ انہوں نے کہا کہ پاناما پاناما ہوتا رہا ، جو لوگ پاناما پاناما کرتے رہے ، یہ سب خود کرپٹ لوگ ہیں ۔اس لئے کہ نواز شریف کا نام پاناما لیکس میں نہیں ہے۔ جھوٹ بول بول کر کیس بنا دیا گیا ۔اس دوران عمران خان ، پیپلز پارٹی سمیت سب کی آف شور کمپنیاں نکل آئیں ۔اس دوران عمران خان نے زرداری کو بھی ساتھ ملا لیا ۔ یہ سب اس لئے کیا گیا تاکہ پاکستان کی ترقی کے پہیے کو روکا جاتا جو کہ پاکستان کی بدقسمتی ہے ۔نواز شریف ترقی کا بہت سا کام کر گیا ہے ۔جس دن نواز شریف کو ہٹایا گیا ، اس دن پاکستان میں اٹھارہ سو ارب روپے کا نقصان ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کو ہٹانے والے قومی مجرم تھے ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایسا کبھی ہوتا ہے کہ پاناما پاناما کرکے اقامہ پر سزا دے دی جائے ۔اربوں روپے ظاہر کرنے والے پر دس ہزار درھم تنخواہ کے جرم میں سزا دے دی گئی ۔

مشاہد اللہ نے کہا کہ پاکستان ایٹمی ملک ہے جو کہ بہت سے لوگوں کو پسند نہیں ۔ دشمن کی نا پسند کی کوئی پرواہ نہیں ، لیکن چار سالوں میں کسی دشمن نے نہیں اپنے نے ملک و قوم کو زیادہ نقصان پہنچایاہے ۔ اس کا جواب تو دینا پڑے گا۔

وفاقی وزیر ماحولیات نے کہا کہ نواز شریف کا نقصان اس کی ذات کا نہیں ہے ،اس نے اپنے بہت سے لوگوں کو قربانی کی بھینٹ چڑھا کر اپنا نقصان کیا لیکن ملک کو بچا لیا ۔ کسی نے عمران خان اور سراج الحق سے پوچھا کہ کیا آپ کو چار سال پانچ سال صرف دھرنوں اور ملک کو نقصان پہنچانے کا مینڈیٹ ملا تھا۔انہوں نے کہا کہ نیوکلئیر پاکستانی معاشی قوت بننے جا رہا ہے ، اس کا راستہ نواز شریف کو ہٹا کر روکنے کی کوشش کی گئی ، یہ سپیڈ بریکر ضرور ہیں لیکن مصنوعی بحران ساز ان رکاوٹوں کو روک نہیں پائیں گے ۔ پاکستان کے عوام کی طاقت سے ان رکاوٹوں کو عبور کیا جائے گا ۔

 

عدالتی فیصلوں اور ججوں پر تنقید کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم ججوں پر نہیں فیصلوں پر تنقید کررہے ہیں جو کہ ہمارا آئینی حق ہے او ر اس حق سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا ۔ یہ حق ہم ضرور استعمال کریں گے ۔جو لوگ سیسیلن مافیا اور ڈان جیسی اصطلاحات استعمال کریں ان کے فیصلوں پر تنقید کیوں نہ ہو ۔ ایسی بیانات تو سیاستدان دیتے ہیں ۔ایسی اصطلاحات تو عمران خان بھی استعمال کرتا اچھا نہیں لگتا۔ ججوں کے فیصلے بولنے چاہئیے ، ان کے ریمارکس کو ہم وصول نہیں کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جج خود اپنے اوپر تنقید کرتے ہیں کہ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہاں ہم نے بھٹو کا فیصلہ غلط اور دباو¿ میںآکر کیا تھا ۔انہوں نے مزید کہا کہہمیں مار رہے ہیں ، نواز شریف کے پورے خاندان کو ذلیل کررہے ہیں ، اس کی بیٹی کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں ، نیب کورٹ میں ہدایت دیتے ہیں کہ دولت حسن پر دربان بٹھے گا ، پھر یہ خواہش کریں کہ فیصلوں کی توصیف و تعریف کریں ، یہ کام ہم سے نہیں ہوگا۔

مئی جون میں الیکشن کی افواہوں کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم تو وہ لوگ ہیں کہ اگر ابھی اطلاع ملے کہ کل ساڑھے نو بجے قیامت آجانی ہے ، صبح آٹھ بجے اٹھ کر ناشتہ کریں گے ، ساڑھے نو بجے قیامت کا انتظار کریں گے ،حکومت آئے جائے ، ہمارا تعلق پاکستان سے ہے اور پاکستان کو آگے بڑھانے سے ہے ۔ہم جو آج حکومت میں ہیں ، کسی کی عنائیت یا رعائیت نہیں بلکہ نواز شریف کو عوام نے ووٹ دے کر عزت دی، اس عزت کو کسی کو روندنے نہیں دینگے ۔

مشاہد اللہ نے کا کہ پاناما کیس میں نواز شریف کا نام نہیں ہے ۔ عمران خان کے ثابت شدہ کیس ہیں ، 456لوگوں کے نام پاناما میں تھے ، ان کے خلاف کیا کیس بنائے گئے ۔اسحاق ڈار کے بارے ایک سوال کے جواب میں مشاہد اللہ نے کہا کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے نواز شریف کے ساتھ اس شخص کو نشانہ بنایا گیا کہ جس کے اچھے کام کی سب تعریف کررہے تھے ۔ یہ وہی اسحاق ڈار ہے کہ جس کو آصف زرداری نے وزیر خزانہ مانگا تھا۔ ہائیکورٹ سے خارج ہونےو الے مقدمات کو زندہ کیا گیا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گذشتہ دس سالوں میں پنجاب میں اور پانچ سالوں میں مرکز میں ایک پیسے کی کرپشن کا کیس نہیں نکال سکے

......................................................................................




 

تاریخ اشاعت : 2017-11-24 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock