خبریں

حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی کے پرتشدد اجلا س میں وزیر اعلیٰ منتخب

پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران پہلے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری اور پھر سپیکر چوہدری پرویز الٰہی ہنگاموں کے دوران تشدد کا نشانہ بنے

لاہور (اردو نیوز) پنجاب اسمبلی کا وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے سلسلے میں منعقد ہونیوالے اجلاس میں پھرپور ہنگامے، حملے اور تشدد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں پہلے ڈپٹی سپیکر دوست محمد خان مزاری اور پھر سپیکر چوہدری پرویز الٰہی تشدد کا نشانہ بنے ۔ حریفین کی جانب سے ایک دوسرے کو ہنگاموں، حملوں اور تشدد کا ذمہ دار قرار دیا گیا ۔
پنجاب اسمبلی کی صورتحال کے پیش نظر پنجاب پولیس کی نفری اسمبلی میں گھر آئی اور انہوں نے کاروائی کی جس پر چوہدری پرویز الٰہی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک پولیس ، اسمبلی میں داخل نہیں ہوئی ۔

اسمبلی میں تمام وقت ہنگاموں اور چوہدری پرویز الٰہی پر تشدد کے بعد پی ٹی آئی او ر ق لیگ کے ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا دریں اثناءڈپٹی سپیکر نے اجلاس اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کی کاروائی جاری رکھی ۔

 

اس تمام تر ہنگامے اور گھمسان کی جنگ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا الیکشن ہوا جس میں میاں حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے ۔میاں حمزہ شہباز کو تحریک انصاف کے منحرف ارکان نے بھی ووٹ دئیے ۔ حمزہ شہباز نے 197ووٹ حاصل کئے جبکہ پرویز الٰہی کے حق میں صرف ایک ووٹ ملا جو کہ چوہان نے ان کے حق میں ڈالا۔

 

Related Articles

Back to top button