کالم و مضامین

مولانا فضل الرحمن کامیاب ہو گئے

فکر جہاں ۔۔۔۔ محمد مہدی(نیویارک)

وطن عزیز کو ایک تجربہ گاہ بنا رہنا چاہیے یا مختلف تجربوں کے نچوڑ کے طور پر ایک طے شدہ سیاسی نظم و ضبط حاصل کرنا ہی سیاسی مقصد ہونا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اس سوال کا ایک واضح جواب ہے۔ یہ جواب ملک کی جمہوری طاقتوں کی جانب سے نہایت نپے تلے انداز میں دیا جا رہا ہے اور یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ رائے عامہ کاصبرو تحمل اب پتلی تماشے پر جواب دے رہا ہے۔ ہوش ربا مہنگائی کا جواب کسی وقت بھی بپھر سکتا ہے اور یہ سب کچھ بیان الاقوامی برادری بھی بہت شد و مد سے محسوس کر رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری کا رد عمل اس کے احساسات کو پڑکھنے کے لئے ان کے ذرائع ابلاغ کا جائزہ لینا اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ جب سے مولانا فضل الرحمن نے اپنے آزادی مارچ کا اعلان کیا اس وقت سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے حلقے بہت گہرائی سے اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اور جے یو آئی (ایف) کے گذشتہ سوا سال پر محیط مارچوں میں اختیار کئے گئے لب و لہجہ اور مطالبات کو پرکھ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن میدان سیاست کی پہلی صف میں کھڑے سینئر ترین سیاستدان ہیں اور اسی بدولت اپنا ایک بین الاقوامی تشخص بھی رکھتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی تشخص صرف مذہب تک ہی محدود نہ رہے کہ مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے ان کے ساتھ مسلم لیگ (ن)، پی پی پی ، محمود خان اچکزئی نظر آ رہے ہیں۔ اور کبھی سپریم کورٹ بار کے نو منتخب صدر ان کے کنٹینر پر جلوہ فگن ہیں۔ ان کی اسی حکمت عملی کے سبب سے بین الاقوامی میڈیا نے ان کے مارچ کو مذہبی یا کٹھ ملائیت کا مظاہرہ قرار نہیں دیا ہے۔ بلکہ مذہبی مارچ یا تحریک قرار دینے کی بجائے رائٹ ونگ کی سربراہی میں ایک سیاسی عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کے اخبارات تو وہاں کے مزاج کے مطابق پوری دنیا کی اہم خبروں کا احاطہ کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ تو آزادی مارچ کو ایک اہمیت دے ہی رہے ہیں لیکن چین میں میڈیا کا طریقہ کار ان ممالک سے مختلف ہونے کے باوجود یہ پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے کہ وہ بھی اس سیاسی سرگرمی کو بھر پور طور پر خبروں کی زینت بنا رہے ہیں۔ اور اہم ترین یہ عنصر ہے کہ وہ بھی اس کو ایک مخصوص مذہبی سرگرمی قرار نہیں دے رہے بلکہ پاکستان میں موجود سیاسی جماعتوں کی قوت برداشت کے جواب دینے کے ایک مظہر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ عالمی میڈیا کے اس مثبت قائم ہوتے تصور کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن ایک مسئلے کا بھی شکار ہیں۔ ان کی سیاسی جماعت کے سفارتی حلقوں میں روابط بہت کمزور ہیں اور جو ہیں وہ بھی انفرادی حیثیت ہی رکھتے ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصے میں دنیا کے اہم ممالک کے سفارتکاروں سے راقم الحروف کی ملاقاتیں رہیں تو ان کی گفتگو کا محور مولانا فضل الرحمن کی ذات ہی رہی ۔ کیونکہ وہ یہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ 2014ءکا دھرنا ایک جمہوری حکومت کے خلاف سازش تھا ۔ جبکہ آزادی مارچ جمہوری طاقتوں کا پاور شو ہے۔ مگر ان تمام کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ یہ کیسے معلوم کرے کہ جے یو آئی (ایف) کی مختلف بین الاقوامی اور قومی امور پر کیا مﺅقف ہے۔ یہ کمزوری صرف جے یو آئی تک محدود نہیں بلکہ دیگر جماعتوں میں بھی موجود ہے کیونکہ ان کی قیادت جو سفارتکاروں سے ملتی بھی ہے تو بس اپنے ذاتی تشخص تک ہی محدود رہتی ہے۔ خارجہ معاملات کو بس وزارت خارجہ کے افسران تک ہی نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس کے لئے سیاسی بصیرت اور بین الاقوامی تعلقات پر گرفت ہونی چاہیے۔ کیونکہ دفتر خارجہ صرف اسٹیٹس کو ہی نمائندگی کرتا ہے۔ بہرحال یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ اس مارچ سے مولانا نے صرف بین الاقوامی برادری میں ہی مزید جگہ نہیں بنائی بلکہ وہ اپنے حامیوں کے لئے بھی بہت کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی وسیع حمایت پختون علاقوں میں موجود ہے اور گذشتہ چالیس برسوں سے بالخصوص جبکہ اس سے قبل بالعموم یہ تصور پختونوں کے متعلق ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت قائم کر دیا گیا ہے کہ یہ نہایت ہی لڑاکا اور تہذیب و تمدن سے دور لوگ ہیں۔ جب ایسا ہے تو پھر جمہوری رویوں کے گزر کا تو گمان بھی نہیں ہوسکتا۔ لیکن آزادی مارچ میں سینکڑوں کلو میٹر کا سفر طے کیا لیکن نہ تو 2014ءکے دھرنے کی نسبت کسی پولیس والے پر تشدد کر کے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ ایک گملا تک نہ ٹوٹا اور یہ امن کا سفر جمہوری آزادیوں کی خاطر کیا جا رہا ہے۔ پختونوں کی ایک ایسی منظر کشی کرنے میں کامیابی ہو گئی ہے کہ جس کے مثبت اثرات تادیر قائم رہینگے۔ خیال رہے کہ یہ مارچ اپنے شرکاءکی تعداد کے اعتبار سے اب تک کیے گئے مارچوں میں سب سے بڑا ہے اور اس کا پر امن تشخص شاندار نتائج دے رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اس سے قبل اپنے مکتب فکر کی مثبت تصویر کشی کر چکے ہیں۔ جب انہوں نے ایم این اے کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جمعیت علماءاسلام کو تقسیم کرنے اور اس کی طاقت کو پارہ پارہ کرنے کی غرض سے ایک حکمت عملی عشروں پہلے بنائی گئی تھی کہ اس کو دھڑوں میں تقسیم کر دیا جائے اور دھڑوں کو توانا کرنے کی غرض سے فرقہ ورانہ معاملات کو ابھارا گیا تا کہ نئے دھڑے اس بنیاد پر اپنی سیاست کر سکیں۔ مولانا مفتی محمود کی وفات کے بعد جمعیت پر یہ سخت ترین حملہ تھا لیکن مولانا فضل الرحمن نے اس سے مختلف راہ اپنائی اور وہ ایم ایم اے تک چلے گئے۔ اور وقت نے ثابت کیا کہ جے یو آئی کے لئے ان کی یہ حکمت عملی کامیاب ہے۔ وہ اپنا یہ تشخص اپنے ساتھ دیگر مکاتب فکر کے علماءکو کنٹینر پر ساتھ رکھ کر اب تک واضح کر رہے ہیں۔ آزادی مارچ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن پاکستانی سیاست کا ایک لازمی حصہ ہیں۔

E-mail:lhrpakistan@yahoo.co.uk
Cell: 0300-9453116

 

Related Articles

Back to top button