اوورسیز پاکستانیز

”کراچی “پاکستان کا اقتصادی مرکز،PACEکے زیر اہتمام مجلس مذاکرہ

کراچی شہر جہاں ملک و قوم کے لئے ریونیو پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے وہاں اس شہر اور شہر میں بسنے والے شہریوں کے مسائل کے حل اور شہر کی ترقی کے لئے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے

نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک اہم نمائندہ تنظیم ”پروگریسو امریکن کمیونٹی امپاورمنٹ “(پیس۔PACE) کے زیر اہتمام سیمینار سے کمیونٹی قائدین سمیت اہم شخصیات کا خطاب
سیمینار میں قونصل جنرل عائشہ علی ، امریکہ کے دورے پر آئیں سعودی عرب کی مشیر انٹر ٹینمنٹ اتھارٹی نوشین احمد وسیم نے خصوصی شرکت کی جبکہ تقریب کے اہتمام میں PACEکے سعید حسن اور ان کے ساتھیوں راجہ حسن احمد ، تنویر چوہدری ، کمال طاہر، عدنان بخاری ، عاطف خان ، وسیم سیداور احمد وحید نے خصوصی کردار ادا کیا

نیویارک (محسن ظہیر سے ) امریکہ میں بسنے والے اوورسیز پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ کراچی شہر ، پاکستان کی معاشی شہ رگ اور اقتصادی مرکز ہے ۔ کراچی شہر جہاں ملک و قوم کے لئے ریونیو پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے وہاں اس شہر اور شہر میں بسنے والے شہریوں کے مسائل کے حل اور شہر کی ترقی کے لئے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ، شہر کو اس کاجائز حصہ دینے کو یقینی بنانا چاہئیے اور پاکستان بالخصوص کراچی کے شہریوں کو بھی دیکھنا چاہئیے کہ وہ کراچی کی ترقی اور مسائل کے حل میں اپنے طور پر کیا خدمات انجام دے سکتے ہیں ۔ ان ملے جلے خیالات کا اظہار یہاں کمیونٹی کی ایک اہم و نمائندہ تنظیم ”پروگریسو امریکن کمیونٹی امپاورمنٹ “(پیس۔PACE) کے زیر اہتمام منعقدہ کرچی سیمینار میں کیا گیا ۔ اس سیمینار میں قونصل جنرل عائشہ علی ، امریکہ کے دورے پر آئیں سعودی عرب کی مشیر انٹر ٹینمنٹ اتھارٹی نوشین احمد وسیم نے خصوصی شرکت کی جبکہ تقریب کے اہتمام میں PACEکے سعید حسن اور ان کے ساتھیوں راجہ حسن احمد ، تنویر چوہدری ، کمال طاہر، عدنان بخاری ، عاطف خان ، وسیم سیداور احمد وحید نے خصوصی کردار ادا کیا۔ سعید حسن نے شرکاءکو خوش آمدید کہا جبکہ کمیونٹی رہنما عطیہ شہناز نے PACEٹیم کے ساتھ ملکر مہمانان خصوصی عائشہ علی اور نوشین احمد کو پھول پیش کئے ۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل عائشہ علی کا کہنا تھا کہ اوورسیز میں بسنے والے پاکستانیوں کے دلوں میں پاکستان اور پاکستان کے شہریوں کےلئے محبت قابل ستائش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ، پاکستان کا میٹروپولیٹن اور اب کاسمو پولیٹن شہر ہے ۔
نوشین احمد نے کہا کہ اگرچہ میں سعودی شہری بن گئی ہوں تاہم ابھی بھی میرے سعودی کارڈ میں جائے پیدائش کراچی لکھی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بے شک اپنے وطن پاکستان اور شہر کراچی سے دور ہیں تاہم ہمیں اپنے ملک اور شہر کےلئے جس حد تک ممکن ہوں خدمات انجام دینی چاہئیے ۔
عرفان برنی نے کہا کہ کراچی بڑی آبادی والا دنیا کا بڑا شہر ہے۔ کراچی کی پاکستانی معیشت کے لئے بہت اہم ہے۔ کراچی میں شرح خواندگی ،پاکستان کے بننے سے پہلے سب سے زیادہ تھی اوراب بھی ہے۔
”پیس “ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سعید حسن کا کہناتھا کہ اوورسیز میں بسنے والی کمیونٹی کو اہم ملکی و قومی مسائل پر بات چیت اور ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئیے تاکہ یہ معلوم کر سکیں کہ ہم بطور اوورسیز پاکستانی کیا خدمات انجام دے سکتے ہیں اور کیا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ”PACE Talk“ کے نام سے کمیونٹی فورمز کے انعقاد کا مقصد بھی یہی ہے کہ اہم موضوعات پر مل بیٹھیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ہم سب کا ، ہر ایک پاکستانی کا شہر ہے ۔ پاکستان کے معاشی Hubہونے کی وجہ سے کراچی کی ترقی میں ہر ایک کو اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے اور شہر کے مسائل کے حل کو بھی ذمہ دار قیادت اور حکا م کو یقینی بنانا چاہئیے ۔
اشرف اعظمی نے کہا کہ کراچی آج بھی پاکستان کو فیڈ کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ دارالحکومت منتقل کرنے کے بعد بھی کراچی کی معاشی خدمات کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی ملک کی جی ڈی پی کا بیس فیصد پیدا کرتا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کراچی میں کچرا تک نہیں اٹھایا جا تا۔ کراچی میں بہت پوٹینشل موجود ہے ، اس کو مواقع دینے چاہئیے۔ کراچی میں سرمائیہ کرنا ہو گی، اس سے صرف دودھ ہی نہیں دھونا۔ جائزہ لیتے رہنا چاہئیے کہ سندھ اور وفاقی حکومتیں بتائیں کہ کراچی کو کیا دیا ہے۔
شاہنواز خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی پاکستان کا نام آتا ہے، کراچی کا نام آتا ہے ، کراچی کے اصلی باسیوں کے لئے سہولیات ہونی چاہئیے۔ شہر سے کچرا تک نہیں اٹھایا جاتا ، سڑکیں نہیں بنائی جاتی ، میرا خاندان ملتان کراچی منتقل ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہم تو ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکے کہ کراچی کی آبادی کیا ہے ؟کراچی کو اس کا حصہ دینا ہوگا۔ہم سب کو مل کر کرا چی کے لئے کام کرنا ہے۔ میں پڑھنے کے لئے کراچی گیا اور پھر کراچی کا ہو کر رہ گیا۔
پیپلز پارٹی کے شفقت تنویر نے کہا کہ کراچی اور بہتر ہو سکتا ہے ، کراچی کو نظر انداز کی بات کرنے والوں سے اتفاق نہیں کرتا۔
مسلم لیگ (ن) کے راجہ رزاق نے کہا کہ صرف تیس سال نہیں 74سالوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ کراچی میں ہر شہر میں تیس چالیس لاشیں گرتی تھیں ، مسلم لیگ (ن) نے کراچی کا امن بحال کیا۔ الحمد للہ اب لاشیں گرنے کا سلسلہ بند ہو گیا۔ چالیس سال حکومت کرنے والے ڈکٹیٹرز سے بھی حساب لینا چاہئیے۔
ڈاکٹر منیر حسینی نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہونا چاہئیے کہ کراچی کا مسلہ کیا ہے ؟ ہمیں یہ دیکھنا چاہئیے کہ ہم کراچی کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔ اوورسیز میں بسنے والے پاکستانیوں کو وطن کا قرض اتارنا چاہئیے۔
جمال محسن نے کہا کہ کراچی میں ایک کشش موجود ہے، بڑی تعداد میں لوگ کراچی کی طرف کھچتے ہیں ، کا سمو ہولیٹن شہر ہونے کی وجہ سے اور آبادی بڑھنے کی وجہ سے مسائل بھی ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ ان مسائل کے حل پر توجہ دینا ہوگی۔ کراچی سب کو اپنے آپ میں سمو لیتا ہے۔ یہ کراچی ہمارااور ہم سب کا ہے۔
ارشد خان نے کہا کہ کراچی کی صورتحال بہت اچھی تھی لیکن آج کراچی کی حالت بہت خراب ہے۔ کراچی میں کوٹہ سسٹم نافذ کرکے بہت زیادتی کی گئی۔ سندھی قوم پرستوں نے کراچی والوں سے ان کو جو حق چھینا ہوا ہے وہ حق واپس کریں۔ چیف جسٹس بلڈنگ کل گرا رہے ہیں ،جو ملک ریاض نے قبضہ کر رکھا ہے اس کو کون گرائے گا ؟
عاطف خان نے کہا کہ کراچی سب کو شہر ہے۔ ہمیں کسی کی وجہ سے تقسیم نہیں ہونا۔ کراچی کا فائدہ پاکستان کا فائدہ ہے۔
سید وسیم نے کہا کہ ہمیں کراچی کے لئے اپنے حصے کا کام کرنا چاہئیے۔
ایم کیو ایم کے عارف صدیقی نے کہا کہ کراچی کی ساتھ سب سے بڑی زیادتی سلیکٹڈ جسٹس ہے۔ سارے پاکستان میں صوبے بن سکتے ہیں تو کراچی کیوں صوبہ نہیں بن سکتا۔ ہمیں فرنچائز ڈیموکریسی دی گئی جو کہ ٹرم اینڈ کنڈیشن کے ساتھ دی گئی ہے۔ ایم کیو ایم اٹھاسی میں آئی اس سے پہلے لاشیں کون گراتا تھا ؟ مہاجروں کی ہجرت کی وجہ سے پاکستان کا قیام ممکن ہوا۔ اردو جو قومی زبان بنی یہ مجبوری تھی چونکہ آبادی کا نمبرز موجود نہیں تھا اس لئے اردو کو قومی زبان بنایا گیا۔
سینئر صحافی معوذاسد صدیقی نے کہا کہ کسی بھی ملک کو تباہ کرنا ہو تو اس ملک یا شہر میں میرٹ کی جگہ کوٹہ سسٹم مقرر کردیا جائے۔ کراچی کو اپنوں نے بہت ظلم دیا۔ بھائی کا نظام شہر میں چلانے کی کوشش کی گئی۔ پیپلز پارٹی کراچی کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔کراچی کی آبادی کی صحیح عکاسی ہونی چاہئیے۔ کراچی محبت کا شہر ہے۔ کراچی ، کراچی نہیں پاکستان ہے۔
ناہید بھٹی نے کہا کہ کراچی روشنیوں کا شہر ہے۔ کراچی سب کا ہے۔ پاکستان کے اہم کھلاڑی کراچی نے پیدا کئے۔
عطیہ شہناز نے کہا کہ حکومت کی بجائے مقامی کمیونٹی کو شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے مواقع دینے چاہئیے۔ کراچی میں کوٹے کی بجائے میرٹ پر کام ہونا چاہئیے۔

Karachi, PACE Seminar in New York

 

 

Related Articles

Back to top button