کالم و مضامین

یوم یکجہتی کشمیراور بھارتی جنگی جنون

کشمیر کے عوام اپنے خون سے کشمیر کے کاز کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ بھارتی جنگی جنون کا نوٹس لے

خصوصی مضمون
*************
راجہ یعقوب(شکاگو)

بھارت کے حالیہ جنگی جنون اور مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے ناقابل بیان مظالم کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ واقعات ایک اور وجہ دیتے ہیں کہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے ۔حسب روایت اس سال بھی پاکستان کی طرح امریکہ میں بھی پانچ فروری کو یوم یکجہتی کمشیر کے طور پر منایا گیا۔کشمیری وہ مظلوم قوم ھے جس پر 71 سالوں سے ہندوستان کی افواج ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں لیکن ان کا جذبہ حریت کم نہیں ہوا بلکہ مزید بڑھا ہے۔1981 سے اب تک ایک لاکھ 7 ہزار کشمیری عوام شہید ہوچکے ہیں اس سے بڑی تعداد زخمی اور جسمانی اور ذہنی طور پر اپاہج ھے۔22 ہزار سے زیادہ خواتین بیوہ ھو چکی ہیں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کشمیر ءحریت پسند جیلوں میں ہیں چھرے والی بندوقوںسے ہزاروں بچے نابینا ہیںلیکن دلچسپ اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ حریت پسند پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے شہید ہوتے ہیں جس کے لئے پاکستان کی ساری قوم انکے خون کی مقروض ہے۔1947 میں جب پاکستان اور ھندوستا ن برٹش سے آزاد ہوئے تو باونڈری کمشن کا یہ قانون تھا کہ ہندوستا ن کی ہندو اکثریت یا مسلمان اکثریت ریاستیں ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کر سکتی ہیں، کشمیر جغرافیائی طور پر اور مذہبی طور پر پاکستان کے قریب تھا۔ کشمیری کی سرحدیں سیالکوٹ راولپنڈی اور گلگت بلتستان کے راستے پاکستان سے ملتی ہیں۔ اسکے سارے دریا شمال سے جنوب پاکستان میں بہتے ہیں، کشمیریوں کے خونی اور دینی رشتے پاکستان سے ہیں۔ اسکی آبادی 90 فی صد مسلمان ہے۔
تیرہویں صدی سے شاہ میر کے زمانے سے لے کر انگریزوں کی آمد تک کشمیر میں سب مسلمان حکمران تھے ۔گلاب سنگھ ڈوگرہ نے سازش کرکے انگریزوں سے کشمیر کو 2لاکھ ٹکہ پر خریدا۔اور قیام پاکستان کے وقت گلاب سنگھ ڈوگر ہ کے پوتے ہری سنگھ نے مسلمان۔

ریاست کی رعایا کی مرضی کے خلاف ہندوستا ن سے سودا کرلیا اور پورے خطے کو جنگ میں دھکیل دیا۔پاکستان کی بہادر افواج اور قبائلی عوام نے حملہ کرکے کشمیر کو آزاد کروالیا لیکن اس وقت ہندوستا ن کے وزیراعظم جوال لال نہرو نے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور 1948 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یہ قرارداد پاس کی۔کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کشمیری عوام کے ریفرنڈم سے ہوگا، سیز فائر پر ہندوستان نے اپنی افواج کشمیر میں داخل کر دیں اور آج تک ہندوستا ن اقوام متحدہ کے فیصلے کی دھجیاں بکھیر رہا ھے۔1962 میں جب چین نے ہندوستا ن پر حملہ کرکے شمالی علاقے میں اسے شکست سے دوچار کیا۔اس وقت چینی وزیراعظم چو این لائی اور چئیرمین موزے تنگ نے صدر ایوب خاں کو دعوت دی کہ وہ کشمیر پر حملہ کرکے اسے آزاد کر والیں۔ صدر ایوب خاں نے امریکہ کے دباو پر کشمیر پر حملہ نہ کرکے تاریخی غلطی کی جس کا خمیازہ کشمیری عوام اور پاکستان کی ساری قوم بھگت رہی ہے۔ ہمارےے سارے دریا کشمیر سے نکلتے ہیں جن پر قبضہ کرکے ہندوستا ن، پاکستان کو توانائی کے بحران اور پاکستان کی زمینوں کو بنجر کر رہا ہے۔ اس وقت کشمیر کے عوام اپنے خون سے کشمیر کے کاز کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
اب آئیے کشمیر کی تازہ صورتحال کی طرف۔ پلوانہ واقعہ کے بعد بھارت ایک بار پھر پاکستان پر جنگی جنون مسلط کرنے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔بھارت بالخصوص انتہا پسند نریندر مودی کے اس جنون اور اگلے الیکشن کو جیتنے کے لئے خطے کے امن کو داو¿ پر لگانے کی حرکتوں کا اقوام متحدہ نوٹس لیں۔

Related Articles

Back to top button